Idharaiya

سخت گیری نہیں مصلحت

طالبان کا کابل پر اچانک اور بغیر منصوبہ بندی کے قبضے سے پیدا شدہ صورتحال اور امریکہ کی افغانستان میں کسی واضح حکمت عملی اورانخلاء کی منصوبہ بندی و عدم تیاری اور پھر اچانک غیر متوقع حالات سے دوچار ہونے کے بعد اب طالبان کا کابل پر قبضہ اور حکومت سازی و مذاکرات و معاملت جیسے امور نسبتاً پس منظرمیں چلے گئے ہیں اور انخلاء کا عمل اہم ہوگیا ہے جی سیون کے اجلاس کا فیصلہ ابھی سامنے آنا ہے البتہ اس حد تک معاملات الم نشرح ہیں کہ برطانیہ فوجی انخلاء روکنے کی وکالت کر رہا ہے اور طالبان پر پابندیوں کا بھی خواہاں ہے جبکہ امریکہ مقررہ تاریخ تک انخلاء کا اب بھی خواہاں ہے طالبان کی جانب سے ماہ رواں کی آخری تاریخ تک انخلاء مکمل نہ کرنے پرسنگین نتائج کی دھمکی دی گئی ہے ۔ صورتحال یہ ہے کہ کابل میں عملی طور پر سوائے پاکستان ‘ روس ‘ چین اور ایران کے باقی سفارت خانے فعال نہیں صرف پاکستان ‘روس ‘ چین اور ایران کے سفارتخانے کام کر رہے ہیں انخلاء کے عمل میں اسلام آباد غیر ملکی سفارتکاروں کی واپسی کے لئے سہولیات فراہم کر رہا ہے ۔ برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن قبل ازیں بھی امریکی فیصلے پرتنقید کر چکے ہیں لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا برطانیہ اور بعض دیگر ممالک اس فیصلے کی مخالفت میں عملی طور پر کابل میں کچھ کردار ادا کرنے اور افغانستان میں موجودگی کی طاقت و صلاحیت اور استعداد رکھتے ہیں ان کے پاس کیا متبادل منصوبہ ہے نیز امریکی واپسی کے بعد اور طالبان کے پنج شیر کے علاوہ باقی ملک پر قبضہ کے بعد کیا ایک مرتبہ پھر ان کو بیس سال قبل کی طرح پھر محروم اقتدار کرکے پہاڑوں پر چلے جانے پر مجبور کیا جا سکتا ہے اس کا جواب یقیناً نفی میں ہے اگرجی سیون ممالک طالبان کے خلاف پابندیاں لگاتے ہیں تو اس کے اثرات اور نتائج کیا نکلیں گے اس کا بھی تجربہ ہو چکا ہے وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ طالبان اب لوگوں کو باہر جانے سے روکنے پر آمادہ دکھائی دیتے ہیں دوسری جانب بڑی تعداد میںلوگ انخلاء چاہتے ہیں افغانیوں کا ملک چھوڑنے کا موقع نہ گنوانا ضرب المثل ہے اور اس کا ان کو سالوں تجربہ ہونے کے بعد اس تجربے میں عزیز واقارب اور ہموطنوں کو شریک کرنا تعجب کی بات نہیں ورنہ کابل میں حالات طالبان کی پہلی آمد کے مقابلے میں اب کہیں بہتراور نرم ہیں اس کے باوجود خوف اور بہتر مواقع کی تلاش افغانیوں کو ہانک کر ایئر پورٹ لے جانے کا باعث بنی ہوئی ہے ہم سمجھتے ہیں کہ طالبان کا ملک چھوڑ کر جانے والے لوگوں کے حوالے سے پالیسی میں شدت مناسب نہیں ہو گا اور اس معاملے پر ان کا دنیا کے دیگر ممالک سے تنازعہ بھی بڑھے گا۔ طالبان اگراس ضمن میں صلح حدیبیہ کی ایک شرط پر غور کریں تو اس میں چھوڑ کرجانے والوں کا راستہ کھلا رکھا گیا ہے محولہ معاملے پر بہتر حکمت عملی چین ‘ روس ‘ پاکستان اور ایران کی وساطت سے معاملات کو آگے بڑھانا ہے ان ممالک کے فعال سفارتخانے اوران ممالک کی مشاورت کے بعد ہی اس ضمن میں کوئی لائحہ عمل اپنانا بہتر ہو گا طالبان اگر بہرصورت اکتیس اگست کو انخلاء کی تکمیل کے خواہاں ہیں تو پھر ان کوبعد کے دنوں میں بھی ملک چھوڑنے کے خواہشمندوں کو آزادانہ جانے کی ضمانت دینا ہو گی جولوگ فضائی راستے سے ملک چھوڑ کر جا رہے ہیں وہ کم از کم پڑوسی ممالک کے مجوزہ مہاجر کیمپوں میں نہیں رہیں گے بلکہ وہ ان ممالک کی ذمہ داری ہوں گے جو ان کو قبول کرے گا اس وقت دنیاکے کئی ممالک نے افغانیوں کے حوالے سے اپنی شرائط میں نرمی کر دی ہے جس سے افغانستان کے لوگ یقیناً فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں اور مصلحت اسی میں ہے کہ ان کوباہر جانے دیا جائے خواہ اس عمل میں مزید وقت لگ جائے اس حوالے سے کابل میں موجود چارممالک کے سفارتخانے کردار ادا کرنے کے لئے موجود ہیں ہم سمجھتے ہیں کہ انخلاء میں تاخیر و تقدیم ایسا مسئلہ نہیں جس پر طالبان سخت موقف اپنائیں اور ابتدائی ایام ہی میں مخاصمت مول لیں۔قندہار اور مزار شریف کے ایئر پورٹس کھل جانے کے بعد وہاں سے بھی انخلاء کا عمل شروع کرکے انخلاء کے عمل کی جلد تکمیل کی راہ ہموار کرنا ممکن ہے ہوا بازی کے تکنیکی معاملات میں مشکلات کے حل کے لئے بھی محولہ ممالک سے تکنیکی مدد حاصل کی جاسکتی ہے بہتر ہوگا کہ انخلاء پر ایک لاحاصل عمل شروع کرنے کی بجائے اسے مکمل ہونے دیا جائے جس کے بعد افغانستان میں قیام امن و استحکام امن کے لئے متفقہ قیادت سامنے لانے اور قابل قبول حکومت کے قیام کا مرحلہ خوش اسلوبی سے طے کیا جائے تاکہ تباہ حال افغانستان میں امید کی کوئی کرن نظرآئے۔