Mashriqyat

مشرقیات

آ پ یقین کریں ہم نے خواتین کو کبھی نہیں چھیڑا حالانکہ مرزا غالب تک ہمیں بہکاتے رہے ”چھیڑ ان سے چلی جائے اسد”ایسے میں میرا کی نصیحت نے ہم پر خاک اثرکرنا ہے ،ویسے خواتین کی عزت افزائی کے حوالے سے انہوں نے جو بھی کہا سننے والوں نے یہی سمجھا ہے کہ وہ خود ہی” عزت ”کے بدلے چھیڑ چھاڑ کو تیا ربیٹھی ہیں۔
خواتین کی عزت ہمارے ہاں کیوں نہیں کی جاتی یہ ایک ایسا موضوع ہے جس پر زیادہ سر کھپانے کی ضرورت نہیں ہے۔سامنے سماج پڑا ہے اور اسی سماج میں آپ میں سب روزروز کی جو کارروائیاں ڈالتے ہیں یہ ہماری بنیادی تربیت ہے جو آگے جاکراتنی پختہ کار ہو جاتی ہے کہ آپ لاکھ چاہتے ہوئے بھی اس سے جان نہیںچھڑ ا سکتے۔ادھر ادھر جھانکنے کی ضرورت نہیںاپنے اندر جھانک لیں خواتین سے متعلق رویوں بارے ہر سوال کاجواب مل جائے گا۔آپ جوان ہیں تو کوٹھے سے تانک جھانک کرنے سے لے کر ہر جوان لڑکی کی راہ میں آتے جاتے مسکراہٹیں نچھاور کرنا آپ کامحبوب مشغلہ ہوتا ہے ادھر گھر پر اپنی ماں جائی کو دیکھ کر آپ کوصرف یہ سوچ کر بھی غیرت آجاتی ہے کہ محلے کے دیگر جوانوں کی مسکراہٹ سمیٹنے والوں میں کہیں یہ ماں جائی بھی شامل نہ ہو،اسی غیرت مندی میں آپ بہن یا بہنوں کی زندگی ڈانٹ ڈپٹ وغیرہ سے تب تک حرام کئے ہوتے ہیںجب تک وہ پرائے گھر سدھار نہ جائیں۔ماتم کا مقام یہ ہے کہ گھر کے مردگھر سے باہر جو بھی کریں گھر کی خواتین تک ان کا محاسبہ کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتیں مزید ماتم اس بات کا کہ خواتین میں شامل ماں جیسا رشتہ بہنوں کو ڈانٹ ڈپٹ کر رکھنے یا دبا کر رکھنے والے اپنے سپوتوں کے ساتھ کھڑا نظر آتا ہے۔ گھر کا ماحول جب خواتین کو اعتماد سے محروم کردے تو وہ پھر گھر سے باہر کس سے منصفی چاہیں ،گھر میں عزت نہ کی جائے تو پیا گھر بھی آگے ایک اور میدان خارزار ہوتا ہے خواتین کی اکثریت کے لئے۔یہاںبھائی کی بجائے شوہرمالکانہ حقوق کا مالک بن جاتاہے جس کے حکم سے سرتابی تو دور کی بات چوں چراں کی بھی گنجائش نہیں ہوتی۔بھائی لوگ ماں تو شوہر ساس کی ہلہ شیری سے اس کی زندگی کے ساتھ کھلواڑ شروع کر دیتا ہے ۔ اب آپ بتائیں بے عزتی کایہ سلسلہ گھر سے شروع ہوتا ہے اور گھر پر ہی ختم ہوتا ہے تو پھر گھر سے باہر کی دنیا کے لئے یہ خواتین صرف کھیل تماشا ہی بن جاتی ہیں۔پاکستان بھر میں خواتین سے زیادتی کے واقعات کے پس منظرمیں جھانک لیں۔اکثریت ایسی ہی خواتین کی سامنے آئے گی جن کے بھائی لوگ یا شوہر حضرات انہیں بے عزت کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیںدیتے اور تنگ آکر وہ گھر سے باہر قدم نکالیں تو ہر قدم پر بھائیوں جیسے لوگ گھات لگائے بیٹھے ہوتے ہیں۔