پردہ اٹھ گیا

جرمنی کے ایک تاریخ دان ما دام مریم گرہا رڈ نے اپنی کتا ب''جب فوجی آئے '' میں ایک بہت بڑی سچائی تحریر کی ہے کہ جب دوسری جنگ عظیم میں جرمنی کو شکست ہوئی تو اس وقت لاکھوں جرمن عورتوں کی اتحادی افواج امریکن،روسی ،برطانوی اور فرانسیسی فوج سے تعلق رکھنے والے فوجیو ں نے عزت تار تار کی ، اسی طرح امریکی فو جیو ں کا کہنا ہے کہ عراق کی جنگ میں جتنی عیا شی ان کے حصے میں آئی اس سے پہلے کہیں اور نہیں ملی جس عراقی عورت کو جی چاہتا اٹھا کر لے جا تے ، اور تو اور یا د رہے کہ کئی برس پر انی بات ہے کہ امریکی حکا م نے افغانستان میں اپنی فوج میں ملا زم خواتین پر بعد عصر پانی پینے پر پابندی لگا دی تھی اور ان کوہدایت کی تھی کہ عصر کے وقت سے رات گئے تک پانی کم سے کم پییں ، کیونکہ پانی پینے کی بناء پر جب خواتین کو پیشاپ کی ضرورت پڑتی تو بیت الخلاء کے علاقہ میں پھرنے والے امریکی شکاری فوجی ان خواتین اہلکاروں کو زبردستی قابو میں کر کے ان کی عزت لو ٹ لیتے مگر کسی مغرب زدہ ملک یا تنظیم کو ان مواقع پر نہ تو انسانی حقوق کی پائمالی محسوس ہوئی نہ انسانی حقوق کی سنگین خلا ف ورزی کا احسا س ہو ا ، یہ تما م احساسات ان کو مسلم ملکو ں کے حالا ت پر ہوتے ہیں ، گوانتانا موبے جہا ں برسو ں افغان مجاہدین کو بے قصور رکھا گیا ، دنیا کے کسی کو نے سے ایسی سفا ک انسانی حقوق کی خلاف ورزی پر کوئی آواز نہیں اٹھی ان افغان مجاہدین کو ایسے پنجر وں میں رکھا گیا کہ اس میں کوئی بھی مقید شخص نہ لیٹ سکتا تھا ، نہ کھڑا ہو سکتا تھا ، اگر تھک ہا ر کر وہ اپنی کمر ان آہنی خاردار پنجرو ں سے لگا تا تو شدید گرمی میں تپ جا نے والی تاریں ان کے ننگے جسم پر خون آلو د چرکے لگا دیا کرتی تھیں تب بھی کسی کو دنیا میں ایسی سفاک انسانی حقوق کی خلاف ورزی کا احساس تک نہ ہوا ۔ طالبان کے معاملے میں اپنے مفادات کی تکمیل کے لیے طالبان کو دنیا بھر میں دہشت گر د ،سفاک اور قست القلوب قرار دیا جا تا رہا ہے ۔ اب جب کہ افغانستان میں امریکا اس کے اتحادی نیٹو اور بھارت کی کا یا پلٹ گئی تو پھر ایک مر تبہ انسانی حقوق کی خلا ف ورزی کا واویلا اٹھا دیا گیا ہے ، لیکن اس مر تبہ تو طالبان نے کمال ہی کر دکھایا ، کسی کا ایک نا خن بھی خون آلو د نہیں ہو نے دیا ظلم کے نا م پر سینہ کوبی کا رتی بھر مو قع فراہم نہ ہو نے کے باوجو د طالبان کو دھمکیا ں دی جانا شروع ہوئیں ، اور طالبان کے سرجھوٹے الزامات چڑھا نے کے لیے باقاعدہ پلاننگ سے پروپیگنڈ ہ بازی شروع کر دی گئی ، بین الاقوامی اصول یہ ہے کہ جب ایک فریق میدان سے بھا گ جا ئے تو میدا ن ما رلینے والے کی جیت قبول کرلی جا تی ہے طالبان نے پور ے افغانستا ن میں قبضة چھڑانے کے لیے آگ وآہن کا کھیل نہیںکھیلا انھو ں نے کسی مقا م پر خون ریز حملہ نہیں کیا حتیٰ کہ وہ کابل سے چالیس پچا س کلو میٹر دور رہ کر پر امن اقتدار کی منتقلی کا انتظار کر رہے تھے کہ یکایک اشرف غنی لوٹی ہوئی دولت لے کر فرار ہو گیا اور افغانستان کے دارالحکومت کو بے یارو مدد گا چھو ڑ گیا ، اس کے بارے میں تو مغربی دنیا صرف اتنا کہہ رہی ہے کہ وہ ڈالروں سے بھری پیٹاں لے اڑا کیا کسی نے یہ محسو س نہیں کیا کہ اس نے کتنا بڑا جر م راہ فرار اختیا ر کر کے کیا ہے ، جوڈالر لے گیا جو بھی کچھ تھا وہ قوم کی اما نت تھی پھر جس طرح یعنی غیر قانو نی طور پر ڈالر لے اڑا وہ منی لا نڈرنگ کے زمر ے میں آتی ہے شاید دنیا کی تاریخ میں اتنی بڑی منی لا نڈرنگ کبھی ہوئی ہو ا، حیر ت کی بات ہے کہ انسانی حقوق کے رکھوالے داتا اور داد کو یہ احساس تک نہیں ہے امریکا اور حواریو ں نے عرب اما رات سے اب تک یہ استفسار نہیں کیا کہ منی لا نڈرنگ کے اتنے بڑے مجر م کو کس بنیا د پر پنا ہ دی ، جبکہ طالبان نے کا بل پر حملہ بھی نہیں کیا پھر یہ کہ اگر وہ اقتدار چھوڑنا ہی چاہتا تھا تو اس نے افغانستان کے آئین کے مطا بق اقتدار نائب صدر افغانستان کو کیو ں نہیں منتقل کیا پھر جب طالبان نے عام معافی کا اعلا ن سرعام کردیا ہے اور معافی بھی غیر مشروط دی گئی ہے تو یہ معافی اشرف غنی کے لیے بھی بلا تخصیص ہے ، علا وہ ازیں امریکا نے افغانستان پر اپنے فضائی حملو ں سے پہلے ہی طالبان کے دنیا بھر میں اکاؤئنٹ منجمد کر ادئیے تھے اشرف غنی جو سنگین ترین منی لا نڈرنگ کا مرتکب ہو ا ہے اس کے اکاؤئنٹ منجمد کیو ں نہیں کیے گئے بلکہ الٹا افغانستان کے اکاؤئنٹ منجمد کر نے کا اعلا ن سننے میں آیا ، اشرف غنی کے فرار کے ساتھ ہی کا بل ائیر پو رٹ پر افغانستان سے نکل جا نے والوں کا وہ ہلّا گلا مچ گیا کہ سمجھ میں نہیں آرہا ہے کہ ہو کیا رہا ہے اور ہوگا کیا البتہ ایک یہ تصویر سامنے آئی ہے کہ اس ہا ہو میں امریکی انکل سام اور برطانو ی انکل ٹام مل بیٹھے ہیں کہ امریکا کو انخلاء کی مدت میں توسیع دی جا ئے ،کیو ں کر دی جائے اس کا جو از کوئی نہیں ہے اشارہ کابل ائیر پورٹ کے حالا ت کا دیا جاتا ہے کابل ایر پورٹ کے حالات کی ذمے دار ی کس پر پڑتی ہے وہا ں کا کنٹرول تو خود امریکا کے ہا تھ میں ہے جہاں طالبان نے کوئی مداخلت ابھی تک نہیں کی۔ ائیر پورٹ پر فائرنگ اورہلاکتوں کے جو واقعات ہوئے ہیں اس کو سنبھالنا یا نہ سنبھالنا امریکا کا م ہے ۔ ایسا کیو ں کیا وہ ان کے طالبان کے خلا ف اعلا ن جنگ سے ہو جا تا ہے لیکن کسی عالمی طاقت نے ان کو تنبیہ نہیںکی کہ ان سے کہا جاتا کہ وہ افغانستان میں بندوق کا زور نہ دکھائیں بلکہ مفاہمت کی طاقت کو آزمائیں ، پھر داعش جس کو افغانستان میں طالبان کا کچومر نکالنے لیے جنم دیا گیا تھا اس نے بھی سر اٹھا دیا ہے ، جس نے امراللہ صالح کی حمایت کے ساتھ ساتھ یہ بھی ترانہ بجا دیا ہے کہ وہ طالبان کی حکومت کو تسلیم نہیںکرتے کیو ں کہ اس نے خلا فت کی بجائے اسلامی امارات قائم کر نے کا اعلا ن کیا ہے بھلا داعش سے استفسار کیا جائے کہ خلا فت اور اما رات اسلا می میں کیا دوئی ہے ۔ کہ وہ چر مرارہے ہیں حیر ت کی بات ہے کہ ابھی ایک حکومت قائم ہی نہیںہوئی ہے اور برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن جی سیو ن کے اجلا س میں اس حکومت پر پا بندیا ں لگا نے کی قرار داد پیش کریںگے ،پابندیاں تو اس حکومت پر عائدکی جا تی ہیںجس کا وجو د بھی ہو ۔ بے وجو د حکومت پر پا بندیا ں ایک مذاق نہیں تو کیا ہو گا ۔