محبوبہ مفتی کا پائوں بھارت کی دُم پر

افغانستان کے موجودہ حالات اور طالبان کا برپا کردہ انقلاب امریکہ کی چھیڑ ہونا چاہئے تھا جو کسی حد تک ہے بھی ۔امریکی معاشرہ اپنے حکمرانوں پرتنقید کناں ہے ۔بش دوئم سے بائیڈن تک امریکی حکمرانوں کی افغان پالیسی کسی نہ کسی انداز سے تنقید کی زد میں ہے ۔امریکہ سے بھی زیادہ جس ملک نے افغانستان کو اپنی چھیڑ بنا کر ماتم کناں ہے وہ افغانستان کے ہمسائے کا ہمسایہ بھارت ہے ۔بھارت کا میڈیا افغانستان کے حالات پر ماتم کدہ بنا ہے اورجہاں غم زدہ لوگ گریباں چاک کرکے سینہ کوبی کے انداز میں تبصرے کر رہے ہیں ۔یوں لگتا ہے کہ جیسے بھارت کی کوئی ریاست اس کے وجود سے الگ ہوئی ہے ۔جیسے کہ ان کے ہاتھ سے کوئی قیمتی شے چھین لی گئی ہو۔اس سے انداز ہ ہورہا ہے کہ بھارت افغانستان میں طویل المیعاد سٹریٹجک مفادات کی منصوبہ بندی کئے ہوئے تھا۔ایک طرف بھارت افغانستان کے حالات کے باعث جل بھن کر رہ گیا ہے تو دوسری طرف کچھ لوگ افغانستان کی مثالیں دے کر بھارت کو نوشتۂ دیوار پڑھنے کا مشورہ دے رہے ہیں ۔انہی میں ایک محبوبہ مفتی بھی ہیں۔مقبوضہ جموں وکشمیر کی سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے جنوبی کشمیر کے قصبے کولگام میں ایک جلسے سے خطاب کرتے ہوئے بھارت کو افغانستان کے حالات سے سبق سیکھنے کا مشورہ دیا ہے ۔محبوبہ مفتی کا کہنا تھا کہ بھارت افغانستان کی طرف دیکھے اور دفعہ 370کو بحال کرے۔انہوںنے کہا کہ کشمیری جو کچھ برداشت کررہے ہیں اس کے لئے حوصلہ چاہئے جس دن کشمیریوں کا پیمانہ ٔ صبر لبریز ہوگیا آپ کو بھاگنے کی راہ نہیں ملے گی ہمارے صبر کا امتحان نہ لیا جائے۔محبوبہ مفتی کا کہنا تھا کہ دیکھو ہمارے ہمسائے افغانستان میں کیا ہورہا ہے۔بھارت کے پاس اب بھی موقع ہے کہ واجپائی کے راستے پر چل کر پیس پروسیس شروع کرے ۔کشمیریوں کے حقوق بحال کرے اور وہ سب کچھ لوٹادے جو چھینا گیا ہے۔محبوبہ مفتی کی ان کھری کھری باتوں سے گویا کہ بھارت کی دُم پر پائوں آگیا ۔ایک مین سٹریم اور بھارت نواز سیاست دان کی طرف سے کشمیر کے افغانستان اور بھارت کے امریکہ اور باالفاظ دیگر حریت پسندوں کے طالبان بننے کی پیش گوئی بھارتیوں کے لئے حیرت کا باعث بنی۔بھارتی وزیر خزانہ نرملا ستھارامن نے اپنا ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اس موقع پر محبوبہ مفتی کو یہ بیان نہیں دینا چاہئے تھا کشمیر ہمیشہ سے بھارت کا حصہ ہے ۔بھارتی وزیر کی اس بات پر محبوبہ مفتی نے دوبارہ اپنا موقف جاری کرتے ہوئے کہا کہ کشمیرکبھی بھارت کا حصہ نہیں رہا ۔مہاراجہ نے کچھ شرائط کے ساتھ بھارت سے عارضی الحاق کیا تھا ۔اگر بھارت کشمیر میں امن چاہتا ہے تو اسے مسئلہ کشمیر حل کرنا ہوگا ۔محبوبہ مفتی کے اس جاندار موقف پر بھارتیہ جنتا پارٹی کی جموں وکشمیر شاخ کے صدر رویندر رینا نے بھی ایک لمبا چوڑا مذمتی بیان جا ری کیا اور انہیں غداری کا مرتکب قرار دیا ۔رویندر رینا نے کہا کہ نریندر مودی مضبوط لیڈر ہیں وہ امریکی صدر جوبائیڈن کی طرح نہیں۔محبوبہ مفتی کے بیان پر کئی دوسرے سخت گیرہندوئوں نے بھی ناک بھوں چڑھائی۔محبوبہ مفتی ایک جرات مند خاتون راہنما ہیں اور یہی وجہ ہے کہ پانچ اگست کے بعد بھارت نے حریت پسند کیمپ کو اپنے تئیں ختم کرنے کے بعد جس سیاسی جماعت کو نشانہ بنانے کی کوشش کی و ہ محبوبہ مفتی کی جماعت پیپلزڈیموکریٹک پارٹی ہے ۔اسی جماعت کو توڑ کر سیاست کی نئی پنیری ”اپنی پارٹی ” کے نام سے لگانے کی کوشش کی گئی اور ان کے ایک سینئر راہنما الطاف بخاری کو اس کام کے لئے چنا گیا ۔الطاف بخاری بھی کشمیری عوام کے مقبول جذبات کو دیکھتے ہوئے”اگر مگر ” سے زیادہ کھل کر بھارت کے منصوبوں کی حمایت نہیں کر سکے۔محبوبہ مفتی نے پانچ اگست کے اقدامات کو جرات کے ساتھ تنقید کا نشانہ بنایا اور جب و ہ نظر بند ہوئیں تو ان کی بیٹی التجا مفتی نے بہت سخت الفاظ میں بھارت کی پالیسیوں کو آگے بڑھایا ۔محبوبہ مفتی کا ایک جملہ بھارت میں آگ لگانے کا باعث بنا تھا کہ ہم سوچتے ہیں کہ ہمارے بزرگوں نے قائد اعظم محمد علی جناح کی بات نہ مان کر غلطی کی تھی۔بھارتی انتہا پسندوں اور گودی میڈیا نے اس جملے پر بہت عرصے تک طوفان کھڑا کئے رکھا ۔اب محبوبہ مفتی نے افغانستان کے پس منظر میں بھارت کو آئینہ دکھایا ہے ۔خود بھارت میں میڈیا صبح شام طالبان کا منترا پڑھ رہا ہے ۔وہ اس خدشے کا اظہارکر رہا ہے کہ طالبان جلد ہی کشمیر کارخ کرنے والے ہیں ۔یہ بات نہ تو طالبان نے کی ہے اور نہ پاکستان اور کشمیری حریت پسندوں نے مگر اس کے باجود بھارت کے اعصاب پر لرزہ طاری ہے۔حد تو یہ کہ مقبوضہ کشمیر کے آئی جی پولیس نے بھی اعلان کیا ہے کہ پولیس اور فورسز طالبان کے مقابلے کے لئے تیار ہیں۔اس طرح بھارت ”شیر آیا شیر آیا”والی کہانی کو ”طالب آیاطالب آیا” کے نئے عنوان سے دنیا کو سنا رہا ہے۔ایسے میں محبوبہ مفتی نے بھارت کو آئینہ دکھا یا تو اس میں بُرا ماننے کی کوئی بات نہیں ۔بھارت امریکہ سے زیادہ باوسیلہ نہیںاور کشمیری جرات وبہادری اور جذبہ قربانی میں افغانیوں سے کسی طور کم نہیں ۔ایک تنہا کشمیری نوجوان چھتیس گھنٹے تک بھارت کے سیکڑوں فوجیوں کا مقابلہ کرتا ہے اور اس کی ماں اسی حالت میں فون پر سرینڈر نہ کرنے کی نصیحت کرتی ہے تو یہ دنیا کا ایک عدیم النظیر جذبہ ہے۔بھارت اس جذبے کا مقابلہ کب تک کر سکتا ہے؟۔محبوبہ مفتی کا پائوں بھارت کی دُم پر