world bank

عالمی بینک نےبھی افغانستان کی امداد روک دی

ویب ڈیسک :عالمی بینک نے اعلان کیا ہے کہ وہ طالبان کی حکومت میں خواتین سے متعلق خدشات کی وجہ سے افغانستان کو مالی امداد روک رہا ہے۔ افغان معیشت غیر ملکی امداد پر بہت زیادہ انحصار کرتی ہے اور اب اسے خوراک کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کا سامنا ہے۔

ورلڈ بینک کی ترجمان مارسلا سانچیز بینڈر نے سی این این بزنس کو ایک بیان میں کہا ، "ہمیں افغانستان کی صورتحال اور ملک کی ترقی کے امکانات بالخصوص خواتین پر اثرات کے بارے میں شدید تشویش ہے۔”

تنظیم کی ویب سائٹ کے مطابق ورلڈ بینک نے افغانستان میں ترقیاتی منصوبوں کے لیے 5.3 بلین ڈالر سے زائد کا وعدہ کیا ہے۔ ورلڈ بینک کے زیر انتظام افغانستان ری کنسٹرکشن ٹرسٹ فنڈ نے 12.9 بلین ڈالر سے زیادہ اکٹھا کیا ہے۔

سانچیزبینڈرنےکہا ،”ہم نے افغانستان میں اپنی سرگرمیوں کو روک دیا ہےاور ہم اپنی اندرونی پالیسیوں اور طریقہ کارکے مطابق صورتحال کا بغور نگرانی اور جائزہ لےرہے ہیں۔

"عالمی بینک نے کہا کہ وہ عالمی برادری اور ترقیاتی شراکت داروں سےمشاورت جاری رکھےگااس سے قبل بین الاقوامی مالیاتی فنڈ نےافغانستان کی آئی ایم ایف کے وسائل تک رسائی معطل کردی تھی۔