Idhariya

افغانستان حالات ‘ عالمی برادری کی ذمہ داریاں

خلیجی تعاون کونسل(جی سی سی)میں شامل ممالک نے افغانستان میں امن و استحکام کی بحالی پر زور دیا ہے۔جی سی سی نے کہا کہ افغانستان کے تمام فریق جامع مصالحت اور سیاسی عمل کے ذریعے ملک و قوم کے مفاد کو اوپر رکھیں اور افغان عوام کی آرزوئیں پوری کرنے کے لئے کام کریں۔ جی سی سی ممالک نے اپنے ہنگامی اجلاس میں افغانستان کے تمام فریقوں سے مطالبہ کیا کہ وہ جان و مال کی سلامتی اور امن و استحکام کے لئے مل کر کام کریں۔ اعلامیے میں تمام ممالک اور عالمی اداروں نیز امدادی فریقوں سے کہا گیا کہ وہ افغانستان کے شہریوں کی ضروریات پوری کرنے کے لئے ہنگامی بنیادوں پر امداد فراہم کریں۔علاوہ ازیں تمام مؤثر فریقوں سے کہا گیا کہ وہ کسی رکاوٹ کے بغیر امدادی سامان کی ترسیل کو یقینی بنائیں۔کابل میں کسی متفقہ اور عبوری کونسل یا عبوری حکومت کے قیام کی بجائے امریکہ اور اتحادی افواج نے جس عجلت میں ملک کو طالبان کے حوالے کیا یا پھر افغان صدر اشرف غنی نے فرار ہو کر خلاء کو مزید وسیع کر دیا اگر بنظر غایر دیکھا جائے تو اس کے پس پردہ نیک نیتی کارفرما نظر نہیں آتی بلکہ اگر اسے طالبان کو ٹریپ کرنے کی منصوبہ بندی قرار دیا جائے تو خلاف حقیقت نہ ہو گی طالبان پنج شیر کے علاوہ پورے افغانستان پر قابض تو ہوچکے ہیں اور کابل پر طالبان کا قبضہ ہے اگرچہ کابل میں اس وقت کوئی واضح حکومت موجود نہیں لیکن زمام اقتدار طالبان کے ہاتھ ہے اور طالبان ہی ملکی معاملات چلا رہے ہیں اس ساری صورتحال کے وقتی او رعارضی ہونے کا قوی امکان تو نہیں لیکن ایک ممکنہ صورت طالبان کو سخت مشکلات سے دوچار ہونے کی ضرور موجود ہے اس وقت خود طالبان بے سروسامانی کی صورت میں ہیںجس سے قطع نظر امور مملکت چلانے کے لئے ان کو جس نظم اور حکومتی مشینری کی موجودگی و قیام اور اس نظام کو چلانے کے لئے جن وسائل کی ضرورت ہے اس حوالے سے طالبان تہی دست ہیں عبوری دنوں میں تو یہ معاملات دبے رہتے ہیں لیکن زیادہ مدت ایسا ممکن نہیں محولہ ضروریات کا خلیجی تعاون کونسل کے ممالک کی جانب سے ادراک اور اس حوالے سے تعاون کا عندیہ خوش آئند امر ہے اسی طرح امریکی سی آئی اے کے سربراہ کی طالبان قیادت سے ملاقات بھی اس امر کا اظہار ہے کہ امریکا ماضی کی طرح طالبان کا مکوٹھپنے کے نہیں بلکہ مختلف معاملات میں کم از کم ان سے بات چیت کا روادار ہے اسی طرح دنیا کے دیگر ممالک بھی افغانستان پر چڑھائی اور طالبان قیادت کو دہشت گرد اور خطرہ نہیں سمجھتے مستزاد اس امر کا تجربہ ہو چکا ہے کہ طالبان کو دیوار سے لگانے اور ان کو کچلنے کی کوششوں کے نتائج کیا نکلتے ہیں اس ساری صورتحال کے تناظر میں دنیا کا اس نتیجے پر پہنچنا فطری امر ہے کہ طالبان کی بدلتی حکمت عملی اور تعاون و مفاہمت کا اسی انداز میں جواب دیا جائے جس کا تقاضا ہے کہ خواہ وہ اسلامی ممالک ہوں یا پھر جی سیون اور دنیا کے دیگر ممالک عالمی برادری کو مل کر افغانستان میں عدم استحکام کو استحکام میں بدلنے اور افغانستان کے تمام فریقوں اور عناصر کوآمادہ بہ مذاکرات کرنے اور ملک میں پرامن حکومت کے قیام میں مدد دینے میں بخل کا مظاہرہ نہیں کرنا چاہئے افغانستان کے عوام اپنے ملک میں کس قسم کے نظام کے خواہاں ہیں اس کا فیصلہ خود ان کو کرنے دیا جائے افغانستان میں قیام امن کی کنجی بھی مستحکم حکومت اور عوام کے لئے قابل قبول نظام میں ہے افغانستان میں نظام شریعت لانے کا فارمولہ ان کے آئین میں موجود ہے اور اس کی پوری گنجائش ہے اس میں مداخلت نہیں ہونی چاہئے طالبان قیادت کی جانب سے ابھی تک جبر کے کوئی شواہد نہیں ملے عام معافی کا اعادہ کیا جارہا ہے اور افغانستان کی تعمیر نو و استحکام کے مصمم ارادے ظاہر کئے جارہے ہیںگزشتہ چالیس سالوں میں افغانستان جن حالات سے دوچار رہا اور جو تجربات عالمی برادری اور طاقتور ممالک کر چکے ہیںاس کے بعد ایک موقع تازہ دعویداروں کو دنیا ہی مصلحت کا تقاضا ہے ان کو اپنے دعوے ثابت کرنے کے لئے وقت اور وسائل مہیا کیا جائے تو شاید اس ملک میں استحکام اور قیام امن کے دور کا آغاز ہو تباہ حال افغانستان امن کی طرف لوٹ آئے تو اس کے اثرات خطے اور پوری دنیا پر مرتب ہو سکتے ہیں اس کے لئے ذمہ داریوں کا احساس اورعملی طور پر کوششیں عالمی برادری کافرض ہے جس میں کوتاہی کی گنجائش نہیں عالمی برادری کا مفاہمانہ اور ذمہ دارانہ کردار ہی قیام امن اور استحکام امن کا سبب بن سکتا ہے دوسری کوئی صورت نظر نہیں آتی۔