Shazray

ملک چھوڑنے والوں کو روکا نہیں جا سکتا

طالبان نے کابل ایئرپورٹ پرملک سے باہر جانے کے لئے موجود لوگوں کو واپس اپنے گھروں کو جانے کی تجویز دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہم ان کوسکیورٹی کی ضمانت دیتے ہیںایک اور اطلاع کے مطابق ملک سے جانے والوں کو روکا جارہا ہے طالبان کی جانب سے اپنے ہموطنوں سے افغانستان نہ چھوڑنے کی اپیل کی تو گنجائش ہے لیکن اگر اس سلسلے میں سختی کی گئی تو اس سے منفی تاثر پیدا ہو گا۔ طالبان کو اپیل کے ساتھ ساتھ ان حالات اور امور کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے جو لوگوں کے افغانستان سے نکلنے کا باعث بن رہے ہیں فی الوقت صرف امن و امان کا مسئلہ ہی طالبان کی ترجیح اول ہے جو مثبت امر ہے اور اس میں ان کو کامیابی بھی ملی ہے لیکن دوسری ضروریات اور شہری سہولت معاشی و مالیاتی امور نہایت سنجیدہ معاملات ہیں سرکاری ملازمین کو تنخواہوں کی ادائیگی کاروبار معیشت چلا اور بین الاقوامی دنیا سے معاملت میں بہتری لانا جیسے امور فوری توجہ کے حامل معاملات ہیں ان امور کے حوالے سے نظر آنے والی پیش رفت کے بعد ہی ملک سے باہر جانے کے خواہشمند افراد کو حوصلہ ہوگا۔ اس امر سے انکار ممکن نہیں کہ مواقع سے فائدہ اٹھانے والوںکی کمی نہیں یہ الگ بات ہے لیکن فی ا لوقت افغانستان کے حالات ایسے نہیں کہ ملک چھوڑنے والوں کو مطعون کیا جا سکے طالبان کی اپیل کو بھی منفی اور ناپسندیدگی کے اندازمیں دیکھا جائے گا بہر حال مناسب یہ ہو گا کہ طالبان جلد سے جلد ملک میں حکومت سازی اور قابل قبول قیادت اور انتظام ریاست چلانے بارے پیش رفت کریں جس سے افغان عوام کو حوصلہ ہو اور وہ ملک سے باہر جانے کی بجائے افغانستان میں رہ کر اپنے ملک کی تعمیر میں اپنا کردار ادا کرنے کو ترجیح دیں جن لوگوں نے غیرملکی افواج کے ساتھ کسی نہ کسی سطح پر تعاون اور خدمات انجام دی ہیں ان کا ملک سے نکلنا بہرحال بنتا ہے ان کو روکنے کی سعی نہیں ہونی چاہئے تاکہ کوئی تنازعہ پیدا نہ ہو علاوہ ازیں اکتیس اگست کے بعد بھی انخلاء میں رکاوٹیں نہ ڈالنے کی عالمی اپیل کو بھی وقعت دینا مصلحت ہو گی۔
ویکسی نیشن کو مربوط بنانے کے تقاضے
نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سنٹر کی جانب سے پبلک ٹرانسپورٹ عوامی مقامات اور طلبہ کے حوالے سے تازہ اعلانات او رخاص طور پر طلبہ کو ویکسین لگنے کے انتظامات احسن اقدامات کے زمرے میں آتے ہیں دوسری جانب انتظامیہ کی جانب سے کورونا ویکسی نیشن میں کوتاہی برتنے والوں افسران و اہلکاروں کے خلاف قانونی کارروائی کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے جبکہ کورونا ویکسین سنٹروں اور کورونا موبائل سنٹروں میں بھی کورونا ویکسینیشن کی جا رہی ہے۔اجلاس میں ہدایت کی گئی کہ کورونا ویکسی نیشن کے حوالے سے دئیے گئے ٹارگٹ کو ہر صورت مکمل کیا جائے اور کورونا ویکسی نیشن مہم کے دوران کوتاہی و غفلت برتنے والے افسران و اہلکاروں کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے ۔تمام تر اقدامات اور مساعی کے باوجود ویکسی نیشن کے اہداف کے حصول میں ناکامی اور عوام کی جانب سے بیزاری اور احتراز کا رویہ قابل غور امر ہے بہت سے لوگ ویکسی نیشن کے خواہشمند ضرور ہیں لیکن ویکسین لگانے کے مراکز تک رسائی اور وہاں کے عملے کا سامنا کرنا ان کے لئے مشکل ہوتا ہے جو لوگ ان مراکز میں جاتے ہیں ان کی جانب سے جب شکایات سامنے آتی ہیں اور وہ اپنے تجربات سے دیگرلوگوں کو آگاہ کرتے ہیں تو مزید افراد اس سے منفی تاثر لیکر ان مراکز کو مسائل و مشکلات کا مرکز گردان کر ویکسین لگانے سے احتراز کرتے ہیں یہ ایک سنجیدہ اور سنگین مسئلہ ہے جس کے حل کے لئے ان مراکز میں حکومتی نمائندے عام شہری کی طرح جا کر جائزہ لیکر شہریوں کی شکایات سن کر ان کا ازالہ کرنے کی سعی کریںاور باآسانی ویکسین لگانے کو ممکن بنایا جائے تو ہی صورتحال بہترہو سکے گی۔ طلبہ کی ویکسی نیشن کے لئے ان کے تعلیمی اداروں میں جا کر ویکسین لگانے کا طریقہ کار اپنایا جائے تو منظم طریقے سے ایسا ہو سکے گا اور انتظامیہ کو بھی مسئلہ نہ ہو گا۔
یہ حق عوام کو بھی دیا جائے تو کتنا اچھا ہو
خیبرپختونخوااسمبلی کی طرح قومی اسمبلی کے ارکان بھی ٹیلی فون کال موصول نہ ہونے اور سرکاری ملازمین و افسروں کے رویئے پر شکایات کے باعث قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے قوائد و ضوابط اور استحقاق نے ایسے تمام افسروں کوطلب کرلیا جنہوں نے عوامی نمائندوں کی ٹیلی فون کال موصول نہیں کی یا پھر ان کا رویہ عوامی نمائندوں کو ناگوار گزرا ہے۔ اس بارے دو رائے نہیں کہ سرکاری افسروں کارویہ عوام سے مناسب نہیں ہوتا لیکن سرکاری افسر عوامی نمائندوں کی چاکری کرنے کی پوری کوشش ضرور کرتے ہیں اس کے باوجود شکایات سے اس امر کا اظہار ہوتا ہے کہ ممکن ہے بعض افسروں نے عوامی نمائندوں کی خلاف ضوابط فرمائشیں پوری نہ کی ہوں بہرحال ان کو صفائی کا موقع دیا گیا ہے جس سے قطع نظر عوامی نمائندوں کے کردار و عمل کا اگر جائزہ لیاجائے تو جس امر کی شکایت ان کو بعض سرکاری افسران سے ہے ان کے حلقوں کے عوام کی غالب اکثریت کی ان سے بالکل یہی شکایات ہیں عوام کا اپنے نمائندوں پر پورا حق ہے اور انہی کے ووٹوں سے وہ مسند نشین ہو چکے ہیں مگر افسوس کی بات یہ ہے کہ یہ کم ہی عوام کی بات سنتے اور ان کے مسائل حل کرتے ہیں انتخابات کے دنوں میں اگر ان کے کئے گئے وعدے یاد دلائے جائیں تو نجانے کیا ہو۔