یہ سب اتنا آسان نہیں

مغرب اس خطے کی نفسیات اورمعاشرتی راہ و رسم سے کبھی پوری طور واقف نہ ہوپائے گا کیونکہ کسی بھی خطے کے معاشرتی رویوں کوسمجھنے کے لئے اس خطے سے وابستگی بہت ضروری ہے ۔ کسی علاقے کے لوگ ایک مخصوص طور میں کیوں معاملات کے حوالے سے رویے رکھتے ہیں۔ خطے سے وابستگی یا اس علاقے سے جسمانی طور پر متعلق ہونے سے رویے او ان کی وجوہات ڈی این اے کی یادداشت میں شامل ہوجاتی ہیں اس لئے کئی باتیں جو ایک خطے کے لوگوں کے لئے معمول کی ہوتی ہیں وہ دوسرے خطے کے لوگوں کے لئے انتہائی اچھنبے کا باعث بن جاتی ہیں ۔ یہی معاملات مشرق و مغرب کے درمیان ہیں ' یہی فرق ہے جو افغانستان کے حوالے سے امریکہ سمجھنے سے قاصر ہے ' اور قریباً پورا مغرب ہی سمجھ نہیں سکتا کیونکہ اس علاقے کی ضروریات ' معاشرت اور لوگوں کی طبیعت مغرب سے بہت الگ ہے ۔ انسان کی طبیعت کی گنجلتاپر اس کے گرد و نواح کے اثرات سے کسی طور بھی انکار ممکن نہیں۔ باوجود اس کے کہ مغرب میں بے شمار تحقیق کی جاتی ہے کسی بھی معاملے کی مکمل جانچ پڑتال بھی ہوتی ہے اور اس کا مکمل تجزیہ بھی کیا جاتا ہے اس کے باوجود وہ یہ کبھی سمجھ نہ سکیں گے کہ افغانستان میں عورتوں کے ساتھ جو سلوک روا رکھا جاتا ہے اس حوالے سے کئی بار افغان خواتین کو بھی اعتراض کیوں نہیں ہوتا۔ لیکن اقوام متحدہ کو تشویش ہے کہ طالبان کا افغان خواتین کے ساتھ سلوک ریڈ لائن ہوگا۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ انہیں سنگین خلاف ورزیوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔
امریکہ کے افغانستان پر حملے کی وجوہات بھی آج تک دنیا کو پوری طرح سمجھ نہیں آسکیں کسی نے اسے نائن الیون کے نتائج قرار دیا کسی کا خیال تھا کہ امریکہ اس خطے میں اپنی موجودگی میں چین کے باعث یونہی رکھنا چاہتا تھا اس لئے نائن الیون کوبہانے کے طورپراستعمال کیا گیا حالانکہ نائن الیون میں تو خود امریکی ایجنسیاں شامل تھیں۔ کسی نے کہا افغانستان میں معدنیات کی موجودگی امریکہ کو کھینچ لائی اور پھر افغانستان میں تانبے کے دنیا کے سب سے بڑے ذخائر موجود تھے ۔ تانبے کو دنیا کا دوسرا سونا کہا جاتا ہے اور دراصل امریکہ کی نظر اس سب پر تھی اور کسی نے کہا کہ یہ سب ہی وجوہات تھیں لیکن یہ وہ جنگ تھی جس میں امریکہ کو تین ٹریلین ڈالر کا نقصان ہوا ' امریکہ کی معیشت ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوگئی اور امریکہ کو یہاں سے ویسے ہی ا نخلاء کرنا پڑا جیسے ویت نام سے کرنا پڑا تھا۔ آج کل سوشل میڈیا پرمذاق اڑایا جارہا ہے کہ طالبان نے امریکہ کو افغاستان لیز پر دیا تھا تاکہ وہ سڑکوں اور عمارتوں کی تعمیر کر سکیں اور جوبائیڈن حیران ہیں کہ اتنے سالوں میں امریکہ نے افغانستان کی اس فوج پر مسلسل کام کیا اس فوج کی تربیت کی ' اسے اسلحہ فراہم کیا جس نے طالبان کے خلاف ہتھیار اٹھانا تو درکنار مزاحمت کرنے کی ضرورت بھی محسوس نہ کی۔ یہ بھی اس علاقے کے لوگوں کی فطرت کا حصہ ہے ۔ اس بات کو امریکہ نہیں سمجھ سکتا۔ افغانیوں کا ایک خاص مزاج ہے ۔جب بھی کوئی حملہ آور ہو خواہ ان کے اندر سے کوئی طاقت ہو یا کوئی بیرونی طاقت وہ اس حملے کے خلاف کبھی مکمل مزاحمت نہیں کرتے ۔ یہ بات ماضی سے بھی ثابت ہے ۔ وہ ہمیشہ دشمن کو راستہ دیتے ہیں اندر آنے دیتے ہیں خود چھٹ جاتے ہیں اور پھر وقت گزرنے کا انتظار کرتے ہیں اس کے بعد لڑائی کا آغاز ہوتا ہے اور لڑائی بھی گوریلا انداز میں جو برسوں جاری رہتی ہے ۔یہی معاملہ ہر بار ہوا ہے ۔ روس کے شہنشاہ پیٹر دی گریٹ سے لے کر روس اور امریکہ تک کی جنگوں میں بار بار یہی طریقہ کاردیکھنے کو ملتا ہے اور دنیا ابھی تک اس صورتحال سے واقف ہی نہیں ہوئی۔ ان کا خیال ہے کہ وہ اپنی طاقت ' اپنی ٹیکنالوجی سے یہ جنگ جیت لیں گے اور ہر بار یہ غلط فہمی بے چارے افغانی دور کرتے ہیں ہر بار دنیانہیں سمجھتی۔
جہاں تک افغانستان سے ہی افغانیوں کے انخلاء کی بات ہے تو اس میں بھی کوئی اچھنبے کی بات نہیں۔ وہ اپنے لوگوں کو بھی جانتے ہیں علاقے کی روایات کو بھی اور دولت سے اپنی محنت کوبھی یہ تینوں ہی باتیں بہت اہم ہیں ۔ وہ لوگ جو امریکہ کے ساتھ ' دوسری نیٹو فورسز کے ساتھ مل کر کام کرتے رہے ہیں جو ترجمان رہے یا دوسری کسی بھی طرح سے ان کے ساتھ شامل رہے وہ تو دراصل دشمن کی مدد کر رہے تھے ' انہیں یہ علاقہ معاف نہیں کرتا ' میر جعفر کو آج تک کسی مسلمان نے معاف نہیں کیا ' انہیں طالبان کیسے معاف کریں گے اس لئے وہ افغانستان سے بھاگ جانا چاہتے ہیں ۔ لیکن اس میں ان لوگوں کو ضم نہیں کرنا چاہئے جو اس ساری صورتحال کو بنیاد بنا کر امریکہ یا یورپ میں بہتر زندگی گزارنے کے خواہاں ہیں اور اس سارے معاملے میں کبھی امریکہ کو نہیں بھولنا چاہئے ۔ ہم آج تک امریکہ کے افغانستان پر حملے کی اصل وجہ تلاش کر رہے ہیں ۔افغانیوں کی دولت پرستی بھی نظرمیں ہوگی جو اپنی نفاست یا کمزوری کے لئے کمزور دشمن چنا ' مگر یہ نہیں جانتے تھے کہ یہ دشمن کمزور نہیں بس دکھائی دیتا ہے ۔
اب دنیا طالبان کی سختیوں کا واویلا مچا رہی ہے اور ادھر اس خطے میں اسی دنیا کے مستقبل کے فیصلے ہو رہے ہیں۔