خیبر پختونخوا میں سیاحت کے مواقع

گزشتہ دنوں فرصت کے چند لمحات میسر آئے تو وادی کالام کا رخ کیا ۔ قدرتی حسن سے مالاما ل ان علاقوں میں آسمان سے باتیں کرتی پہاڑیاں، شور مچاتی ندیاں اورسبزہ زار سیاحوں کی ذہنوں کو ایسی تازگی اور فرحت بخشتی ہیں کہ وہ قدرت کے ان حسین نظاروں میں اپنے آپ سے کھوجاتے ہیں۔لیکن بد قسمتی سے یہ جنت نظیر وادیاں ابھی تک حکومت کی توجہ کے منتظر ہیں۔ حکومت کی تھوڑی سی توجہ سے یہ علاقے دنیا کے بہترین سیا حتی مراکز بن سکتے ہیں۔ شاید اسی بات کا ادراک کرتے ہوئے حکومت نے شمالی علاقہ جات میں اینٹیگریٹڈ ٹورزم زونز (آئی ٹی ذیز)یا مربوط سیاحتی مراکز کے قیام کا فیصلہ کیا ہے جس کے تحت سوات میں منکیال، چترال میں مدکلاشٹ، ایبٹ آباد میں ٹھنڈیانی اور مانسہرہ میں گنول کے مقام پربین الاقوامی معیار کے سیاحتی مراکز قائم کئے جارہے ہیں۔اسی پروگرام کے تحت اپر دیر میں کمراٹ، لوئر دیر میں بن شاہی، سکائی لینڈاور لڑم ٹاپ،الائی، بٹگرام اور شانگلہ میں بھی سیاحتی مراکز قائم کئے جائینگے۔ نئے ضم شدہ اضلاع میں تین ہزار ملین کی خطیر رقم سے ضلع خیبر میں وادی تیراہ، مچنی، باجوڑ، مہمند،کرم، اورکزئی، شمالی اور جنوبی وزیرستان میں بھی سیاحتی مراکز بن رہے ہیں قبائلی علاقہ جات کا خوشگوار موسم، ثقافتی ورثہ، الگ رسم ورواج اور یہاں کی مہمان نوازی بین الاقوامی سیاحوں کی خصوصی توجہ کا مرکز ہو گی ۔ اسی طرح کوہ سلیمان اور بنوں،ڈیرہ اسماعیل خان کے سنگم پر واقع شیخ بدین میں بھی سیاحتی مراکز کا قیام حکومتی ترجیحات میں شامل ہیں۔
شمالی علاقی جات میں ہر سال شندور میلہ، بروغل، کمراٹ،اورڈیرہ جات میں مختلف قسم کے ثقافتی میلوں اور فیسٹیول کا انعقاد کیا جاتا ہے جس کو دیکھنے ہزاروں سیاح آتے ہیں۔ کالام میں مہو ڈنڈ، اوشو اور لدو میں بھی اس قسم کے میلوں کا انعقاد کیا جاسکتا ہے۔ اسی طرز پر نوجوانوں کیلئے مختلف قسم کے سپورٹس فیسٹیول اور یوتھ کارنیول کا انعقاد کیا جاسکتا ہے جس سے نہ صرف نوجوانوں کو ایک صحت مند تفریح میسر ہوسکے گی بلکہ انکی ذہنی نشونما کے ساتھ ساتھ انکے اندر مثبت سوچ کو پروان چڑھایا جاسکتا ہے۔
شمال میں قدرتی حسن سے مالامال ترچ میر اور فلک سیر کی فلک بوس پہاڑیاں بین الاقوامی کوہ پیماوئں کیلئے خصوصی دلکشی کا باعث ہیں۔ سیاحت کی صنعت سے جڑے ماہرین کا خیال ہے کہ آسمان سے باتیں کرتی ان پہاڑوں کی سنگلاخ چٹانوں میں منجی جمپنگ، روپ کلایمبنگ، زیپ لائننگ ، واٹر رفٹنگ اور کنوئنگ پر تھوڑی سی حکومتی توجہ کے ساتھ ایڈونچر ٹورزم کو فروغ دیا جاسکتا ہے۔اسی کے ساتھ ساتھ چھوٹے چھوٹے ڈیموں پر واٹر سپورٹس کوسیاحوں کی توجہ کا مرکز بنایا جاسکتا ہے۔ کوہاٹ، صوابی، نوشہرہ اور ہری پور میں موجود چھوٹے چھوٹے ڈیم اسکے لئے بہترین سائٹس ہوسکتے ہیں۔ اسی طرح تربیلہ اور ورسک ڈیمزپر بین الاقوامی طرز کے دلکش واٹر سپورٹس فیسٹیول منعقد کئے جاسکتے ہیں۔
پہاڑوں کے دامن میں واقع چترال پوری دنیا میں اپنی الگ ثقافت کیلئے مشہور ہے۔ یہاں پر ہر سال پولو اور فٹ بال ٹورنامنٹس کا اہتمام ہوتا ہے ۔یہاں منعقد ہونے والے شندور، بروغل اور کیلاش فیسٹیول میں دنیا بھر سے ہر سال ہزاروں سیاح وادی چترال کا رخ کرتے ہیں۔ یہاں بیس مختلف پولو گراونڈز کی تزئین و ارائش کا کام شروع ہے۔ یہاں پر مدکلاشٹ میں مالم جبہ اور نلتر کے پٹرن پر سکی ریزارٹس کے قیام کا بھی اہتمام کیا جاسکتاہے۔ان مقامات پر سیاحت کو فروع دینے سے ایک طرف نہ صرف مقامی ثقافت کو بین الاقوامی سطح پر متعارف کیا جاسکے گا بلکہ بیرونی سرمایہ کاری بھی ہوگی اور روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا ہونگے۔رابطہ سڑکوں کے جال سے جہاں آمد ورفت اور ایک جگہ سے دوسری جگہ اشیا کی ترسیل میں آسانی ہوگی وہاں نئے مارکیٹ اور تجارتی منڈیاں بھی وجود میں آئنگی اورروزگار کے مواقع بڑھیں گے ۔ نئے سیاحتی مقامات کے قیام سے نئے ہوٹلز ، ریستورینٹس بنیں گے، ریسٹ ایریاز،سہولتی مراکز قائم ہونگے اورھاسپیٹیلیٹی چینز سے وابستہ ٹور گائینڈز، ٹریول ایجنٹس اور ٹور آپریٹرز کی بے شمار اسامیاں وجود میں آئینگی ۔حکومت نے صوبے میں سیاحت کو فرع دینے کے حوالے سے بیس مختلف مقامات کی نشاندہی کی ہے لیکن بدقسمتی سے ان سیاحتی مراکز کی طرف جانے والے اکثر و بیشترسڑکوں کی حالت ناگفتہ بہ ہے، سڑکیں جگہ جگہ پر ٹھوٹ پھوٹ کا شکارہیں اور اکثر اوقات سیاحوں کو گاڑی سے اتر کر پیدل چلنا پڑتا ہے۔ حکومت نے ہزارہ، مالاکنڈ اور جنوبی اضلاع خصوصاً شیخ بدین میں دس ارب روپے کے خطیر رقم سے شاہراہوں اور رابطہ سڑکوں کے چودہ مختلف پراجیکٹس کی منظوری دی ہے۔ اسی طرح اپر اور لوئرچترال ،سپرٹ ویلی کوہستان اورہزارہ موٹر وے کے ساتھ ساتھ سوات موٹر وے کا فیز ٹو ایکسٹنشن بھی منظور ہوچکا ہے۔ اگر یہ سارے منصوبے بروقت مکمل ہوجاتے ہیں تو یہ یقینا سیاحت کے فروغ میں اہم سنگ میل ثابت ہونگے۔ لیکن اسکے ساتھ ساتھ حکومت کو ان علاقوں میں سیوریج کا نظام بہتر بنانے اور گندگی کو ٹھکانے لگانے کے لئے موثر نظام لانا ہوگا تاکہ ان جنت نظیر وادیوں کو ہر قسم کی موسمیاتی آلودگیوں سے پاک کرکے بین الاقوامی سیاحوں کیلئے پر سکون ماحول میں دلکشی کا وہ ساراسامان فراہم کیا جا سکے جس کے وہ متقاضی ہیں۔