نیشنل ہائی وے اتھارٹی کی تین سالہ کارکردگی

تین برس قبل جب تحریک انصاف کی جمہوری حکومت نے اپنے سفر کا آغاز کیا تو اس کے ساتھ ہی نیشنل ہائی وے اتھارٹی کی موجودہ ٹیم نے بھی کام شروع کیا۔نیشنل ہائی وے اتھارٹی کی بطور تعمیراتی و ترقیاتی ادارہ، شہرت کو عالمی سطح پر تسلیم کیا جاتا ہے۔ ادارہ ہذا نے تین برس کے عرصہ میں ملک کے مسائل اور وسائل کو مدنظر رکھتے ہوئے جس احسن انداز میں پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت شاہراہوں کی تعمیر جاری رکھی اور کئی تعمیراتی منصوبوں کو پایہ تکمیل تک پہنچایا، اس پر این ایچ اے خراج تحسین کا مستحق ہے۔ قومی شاہراہوں اور بالخصوص موٹرویز کی تعمیر و مرمت اور دیکھا بھال کے حوالے سے وفاقی وزیر مواصلات و پوسٹل سروسز جناب مراد سعید ،سیکرٹری مواصلات جناب ظفر حسن اور چیئرمین نیشنل ہائی وے اتھارٹی کیپٹن (ر)محمد خرم آغا سمیت این ایچ اے کے متعلقہ حکام،انجینئرز اور ماہرین تعمیرات کی کارکردگی قابل تحسین ہے جن کی شبانہ روز کاوشوں سے ہماری بین الاقوامی معیار کے مطابق تعمیر عمل میں لائی گئی ۔

انسانی ترقی کا عمل راستوں کی دستیابی اور تعمیر سے وابستہ ہے۔جہاں سڑک کی تعمیر شروع ہوتی ہے ،ترقی کا عمل از خود ارتقائی منازل طے کرنا شروع کر دیتا ہے۔عہد حاضر کے تقاضوں سے ہم آہنگ جدید خطوط پر استوار مربوط مواصلاتی نظام کسی بھی ملک کی اقتصادی اور معاشرتی ترقی میں کلیدی کردار ادا کرنے کے ساتھ ساتھ قومی یکجہتی کے فروغ کا بھی اہم ذریعہ ہوتا ہے ۔ پاکستان کو آئیڈیل جغرافیائی لوکیشن کے پیش نظر خطے میں تجارتی نقطہ نظر سے اہم مقام حاصل ہے۔ اس کلیدی پوزیشن سے تمام تراستفادہ اور اندرون ملک بڑھتی ہوئی اقتصادی سرگرمیوں کے پیش نظر ضروری ہے کہ مواصلاتی نظام کو بھی جدیدضروریات سے ہم آہنگ کیا جائے ۔
ملک میں موٹرویز ،قومی شاہراہوں،سٹریٹجک روڈز،پلوں اور سرنگوں کی پلاننگ ، تعمیر ، آپریشن اور مرمت کاکام وزارت مواصلات کے ادارے نیشنل ہائی وے اتھارٹی کے سپرد ہے۔اس وقت ملک میں روڈ نیٹ ورک کی مجموعی لمبائی تقریباً 264000 کلومیٹر ہے ۔ جبکہ نیشنل ہائی وے اتھارٹی کے زیر کنٹرول 51 سڑکوں کی لمبائی 13572 کلومیٹر ہے، جن میں 11255 کلومیٹر 38 قومی شاہراہوں ، 2055 کلومیٹر10 موٹرویز اور 262 کلومیٹر 3 سٹریٹجک روڈز شامل ہیں۔
وزیراعظم اسلامی جمہوریہ پاکستان عمران خان کے روشن اور وسیع تر تعمیراتی وژن کی روشنی میں وزارت مواصلات کے ذیلی ادارہ نیشنل ہائی وے اتھارٹی نے تعمیری عمل کو نجی شعبہ تک تو سیع دیتے ہوئے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت ملک بھر میں موٹرویز کی تعمیر کیلئے کام شروع کردیا ہے ۔ وفاقی حکومت نے پی پی پی کی بنیاد پر منصوبے شروع کرنے کیلئے جامع پالیسی تشکیل دی ہے اور اس حوالے سے ایک ایکٹ بھی منظور کیا ہے، تاکہ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کی بنیاد پر منصوبوں کو موثر انداز میں آگے بڑھایا جاسکے۔
موجودہ حکومت کا وژن ہے کہ 2030 تک سڑکوں کی تعمیر و توسیع میں خاطر خواہ اضافہ کیاجائے ،تاکہ آئندہ سالوں میں پاکستان کی تجارتی ضروریات اور خطہ میں مستقبل کی علاقائی تجارتی سرگرمیوں کی ضرورت کو پورا کیا جاسکے۔اس عظیم مقصد کے حصول کیلئے پرائیویٹ سیکٹر کا تعاون وقت کی اہم ضرورت ہے۔ نیشنل ہائی وے اتھارٹی چین۔پاکستان اکنامک کاریڈور (سی پیک) اور سنٹرل ایشیاء ریجنل اکنامک کوآپریشن پروگرام(کیریک)کے تحت ملک بھر میں سڑکوں کی تعمیر اور اپ گریڈیشن کے منصوبوں پر عمل پیرا ہے،جس کا بنیادی مقصد ملک میں معاشی اور معاشرتی ترقی کی رفتار تیز کرنا ہے۔
نیشنل ہائی وے اتھارٹی نے گزشتہ چند سالوں میں کامیاب کاوشوں کی بدولت پرائیویٹ سیکٹر کی سرمایہ کاری کیلئے پرکشش ماحول فراہم کیا اور پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے تحت بلڈ ۔آپریٹ ۔ ٹرانسفرکی بنیاد پر135 ارب روپے کے چار منصوبے ایوارڈ کئے۔ این ایچ اے نے اس کامیاب سلسلے کوآگے بڑھاتے ہوئے مزید 9 منصوبے پی پی پی کی بنیاد پر مکمل کرنیکا فیصلہ کیا ہے جن کی مجموعی لمبائی 1726 کلو میٹر بنتی ہے ان میں حیدر آباد ۔سکھر موٹروے کا منصوبہ خصوصی اہمیت رکھتا ہے۔ حیدر آباد۔ سکھر موٹروے کے میگاپراجیکٹ کی تعمیر کو بہتر انداز میں پلان کرنے اور اس منصوبے میں پرائیویٹ سیکٹر کی حوصلہ افزائی کیلئے نیشنل ہائی وے اتھارٹی اور پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ(PPP) اتھارٹی کے مشترکہ اہتمام سے این ایچ اے کے مرکزی دفتر میں سٹیک ہولڈرزکا مشاورتی اجلاس منعقد کیا گیا ۔ حیدر آباد۔سکھر موٹروے کراچی۔ پشاور نارتھ سائوتھ اکنامک کاریڈور کا آخری سیکشن ہے۔
واضح رہے کہ نیشنل ہائی وے اتھارٹی نے شمالاً جنوباً جدید موٹروے سسٹم کے قیام کیلئے پشاور۔کراچی موٹروے کا منصوبہ شروع کیا ،جس کا مقصد کراچی اور گوادر کی بندرگاہوں تک تیز رفتار ٹرانسپورٹ سسٹم فراہم کرنا ہے،تاکہ چین،افغانستان اور وسطی ایشیائی ریاستوں کے ساتھ تجارتی سرگرمیوں کو صحیح معنوں میں عملی شکل دی جاسکے۔کراچی۔پشاور موٹروے کی زیادہ تر الائنمنٹ قومی شاہراہ (N-5) کے متوازی ہے جو ملک کے بڑے شہروں اور تجارتی مراکز سے منسلک ہے۔پشاور۔کراچی موٹروے کے تمام سیکشن ماسوائے حیدر آباد ۔سکھر موٹروے ،کے مکمل ہوچکے ہیں،جس پر جلد از جلد کام کے آغاز کیلئے اقدامات کئے جارہے ہیں۔
ایشیائی ترقیاتی بینک نے پاکستان کیلئے ساڑھے23 کروڑ ڈالر قرض کی منظوری دی ہے ۔ایشیائی ترقیاتی بینک کے اعلامیہ کے مطابق یہ رقم نیشنل ہائی وے اتھارٹی کو جاری منصوبوں کی بہتری کیلئے دی جارہی ہے ،جس کے تحت قومی شاہراہ N-55 کے222 کلومیٹر کے شکار پور۔راجن پور سیکشن کی دو لین سے چار لین کیرج وے میں توسیع کی جائے گی۔N-55 شاہراہ وسطی ایشیا ء علاقائی اقتصادی تعاون کاریڈور منصوبے کا حصہ ہے جو کراچی اور گوادر بندرگاہوں کو قومی اور بین الاقوامی مراکز کے ساتھ منسلک کرتی ہے۔اس منصوبہ سے سندھ اور پنجاب سے گزرنے والی اس شاہراہ کی استعدار کار بہتر ہوگی۔