Idhariya

واٹرریسورسز کمیشن کا قیام

صوبے کے آبی وسائل کے تحفظ اور ان کے بہتر انتظام کو یقینی بنانے کیلئے واٹر ریسورسز کمیشن تشکیل میںپہل خیبر پختونخوا حکومت کا اہم قدم ہے خوش آئند امر یہ ہے کہ خیبرپختونخوا واٹر ریسورسز کمیشن تشکیل دینے والا ملک کا پہلا صوبہ بن گیا ہے کمیشن صوبے میں آبی وسائل کے تحفظ ،پانی کے ضیاع کی روک تھام ، مختلف شعبوں کیلئے پانی کی تقسیم ، آبی وسائل کے دانشمندانہ استعمال اور اُن کے بہتر انتظام و انصرام کے سلسلے میں خیبرپختونخوا واٹر ایکٹ2020پر صحیح معنوں میں عمل درآمد کیلئے ایک پالیسی ساز اور فیصلہ ساز ادارے کے طور پر کام کرے گا کمیشن کے پالیسی فیصلوں کو عملی جامہ پہنانے اور آبی وسائل سے متعلق جملہ اُمور کو ریگولیٹ کرنے کیلئے خیبرپختونخوا واٹر ریگولیٹری اتھارٹی کا قیام بھی عمل میں لایا گیا ہے جبکہ صوبائی حکومت نے انٹگریٹڈ واٹر ریسورس مینجمنٹ پلان بھی تیار کرلیا ہے اسی طرح صوبے میں دریائوں کے پانی کے تحفظ اور اُنہیں آلودگی سے محفوظ بنانے کیلئے ریور پروٹیکشن ایکٹ بھی نافذ کیا گیا ہے۔ہم سمجھتے ہیں کہ قوانین کی موجودگی کے باوجود ان پر عمل درآمد نہ ہونا دیگر شعبوں کے ساتھ ساتھ اس اہم شعبے کا بھی بڑا مسئلہ ہے ایکٹ کے نفاذ کے باوجود اس پر عملدرآمد اور خلاف ورزی پر کارروائی کی ضرورت کا شدت سے احساس ہوتا ہے اس طرف توجہ دیئے بغیر کوئی بھی قدم ثمر آور نہ ہوگا۔ ہم سمجھتے ہیں کہ آبی وسائل کے تحفظ کا عمل بین ا لاقوامی طور پر مسلمہ اور وقت کی ضرورت ہے دنیا بھر میں پانی کے ذخائر میں کمی ہو رہی ہے پاکستان موسمیاتی حدت سے متاثر ہونے والے ممالک میں شامل ہے موسمی تغیرات کے باعث ملک میں برسوں سے جمے برف کے پہاڑ پگھل رہے ہیں ان کے پھٹنے سے سیلاب آتے ہیں اس کی وجوہات قدرتی اور عالمی بھی ہیں ساتھ ساتھ ہم ملکی اور علاقائی و مقامی سطح پر بھی اس کے ذمہ دار ہیں مشکل امر یہ ہے کہ ابھی تک اس سنگین مسئلے کا ادراک اسے تسلیم کرنے کی صورتحال اس سے نمٹنے وروک تھام کی مساعی تسلی بخش نہیں یہ درست ہے کہ وزیر اعظم عمران خان کی بصیرت اور عزم کے باعث ملک میں بڑے پیمانے پر شجرکاری اور جنگل اگانے کا عمل جاری ہے لیکن یہ کافی نہیں ماحولیاتی اثرات اور آلودگی کے پھیلائو کے باعث قدرتی ذخائر آلودہ اور جھیلیں خشک یا پھر ان کی سطح کم ہو رہی ہے شہری علاقوں میں پانی کی سطح مسلسل نیچے جارہی ہے اور شہروں و قصبات کے خدانخواستہ اجڑنے اور ویران ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے پانی کی سطح مسلسل پست ہونے کا ایک بڑا سبب بارش کے پانی اور استعمال شدہ پانی کا واپس صاف ہو کر زمین میں جذب نہ ہونا ہے شہر کے شہر اور قصبات تک سڑکوں راستوں کا پکا کیا جانا اور زمین پر کنکریٹ کے دبائو میں اضافہ پانی کا بے دریغ استعمال جیسی وجوہات عمومی صورتحال ہیں ماحولیاتی آلودگی میں کمی لانے اور فضائی کثافت کے ساتھ ساتھ آبی کثافت جیسے مسائل ہنوز قابل توجہ ہیں اگر یہ کہا جائے کہ ان کا ٹھیک سے ادراک ہی نہیں تو خلاف حقیقت بات نہ ہو گی ان تمام معاملات کا ادراک اور تدارک کے لئے خیبر پختونخوا میں واٹر ریسورسزکمیشن کی تشکیل اہم قدم ہے کمیشن کی تشکیل اور اس کے منصوبوں کے حوالے سے جو تفصیلات سامنے آئی ہیں ان پر عملدرآمد سے اگر بہتری نہ بھی آسکے اور ابتری کی روک تھام ہی ہوسکے تو یہ بڑی کامیابی ہو گی ہم سمجھتے ہیں کہ پانی کے ضیاع کی روک تھام اور شہریوں کو پانی کو کفایت سے استعمال کا پابند بنائے بغیر ہونے والے اقدامات مؤثر نہ ہوں گے شہروں اور قصبات میں صنعتی ‘ گھریلو اور تجارتی بنیادوں پر پانی کے بے دریغ استعمال کی روک تھام پر قدغن لگانا ہو گا اور استعمال شدہ پانی کو صاف کرکے دوبارہ استعمال میں لانے کے لئے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کی ضرورت ہے ۔ سروس سٹیشنزپر پانی کے استعمال کی حوصلہ شکنی اور گھروں میں گاڑیاں پائپ لگاکر دھونے اسی طرح فرش دھوتے ہوئے پانی کے بے دریغ استعمال ‘ نلکے کھلے چھوڑ کر پانی نالیوں اور گلیوں میں بہانے کے عمل کی روک تھام سخت اقدامات کے بغیر ممکن نہیں پانی کے باکفایت استعمال کے لئے شعور اجاگر کرنے کی اہمیت اپنی جگہ پانی کے استعمال کو میٹر لگا کر جانچنے اور ایک خاص مقدار سے زیادہ پانی کے استعمال پر جرمانہ یا بھاری بل وصول کرنے کا عمل شروع کرنے کی ضرورت ہے ۔ خیبر پختونخوا میں حکومتی اقدامات اور مساعی سے بجا طور پر توقع کی جا سکتی ہے کہ صوبے میں پانی کے ذخائر کے تحفظ اور آبی مسائل کو بچانے و محفوظ رکھنے کے بروقت اقدامات سے صورتحال کوسنبھالنے اور بہتری لانے میں کامیابی ملے گی۔