حقوق نسواں کے امین

انسانی بلکہ خاص طور پر حقوق نسواں کے امین کو ن لوگ ہیں اس بارے میں کوئی دورائیں نہیں ہیں یہ لوگ وہ ہیںجو عمو ما ًمختلف ازم کے پیر و کا ر بن کر سامنے آتے ہیں جبکہ یہ فاشسٹ ازم کی لڑی کے پیرو ہوئے ہیں اسلام نے جتنے زیا دہ خواتین کے حقوق کو اہمیت دی ہوئی ہے اس کا عشر عشیر بھی کسی ازم یا دین یا مذہب میں نہیں پایا جا تا ، بہر حال جی سیو ن کے ممالک نے اپنے گزشتہ رو ز کے اجلا س میں اعلا ن کیا ہے کہ خواتین کے حقوق کے تحفظ اور دہشتگردی روکنے کے حوالے سے افغانستان میں طالبان کا مواخذہ کیا جا ئے گا ۔ افغانستان کی مو جو د ہ صورت حال یہ ہے کہ اس بارے میں ایک ہی مثال دی جا ئے تو وہ ہی کا فی ہے ، یعنی کابل ائیر پورٹ کا علا قہ ہی لے لیں ائیر پورٹ کے اندرونی حصے کا انتظام وانصرام امریکا نے سنبھال رکھا ہے اور ائیر پورٹ کے بیرونی حصے پرطالبان نگران ہیں ، بیرونی حصے میں جو امن واما ن نظرآرہا ہے وہ آپ اپنی شان ہے وہا ں کسی کی انگلی زخم خوردہ نہیں ہوئی جبکہ ایک اطلا ع کے مطابق ائیر پورٹ کے اندرونی حصے میں ایک ادھم مچا ہو ا ہے ایک رپورٹ کے مطا بق وہا ں آٹھ سے زیا دہ افراد فائرنگ کی زد میں آکر ہلا ک ہوگئے ہیں اور جو زخمی ہوئے ہیں وہ الگ ہیں مغربی میڈیا اس حصے کی اصل صورت حال کو چھپا رہا ہے اور یہ جتایا جا رہا ہے کہ لوگ کھچا کھچ ایر پو رٹ بھر رہے ہیں وہ افغانستان سے نکلناچاہتے ہیں کیونکہ ان کو طالبان کاخوف کھا رہا ہے ۔ ائیر پو رٹ کے اندر ونی علا قہ میں انسانی حقوق کی جو پا ئمالی ہورہی ہے وہ جی سیو ن جیسی تنظیم کو کیو ں نظر نہیں آرہی ہے اور ان کو طالبان کی کامیا بی کیو ں نا مطبوع ہے ذرا اس پر بھی روشنی ڈال دینا چاہئے ، کیا عافیہ صدیقی کے ساتھ جو سلوک روا رکھا جا رہا ہے وہ کیا حقوق انسانی اور حقوق نسواں کے عین مطا بق ہے ۔ امریکاکی جیل میںگزشہ روز دھا ن پان منحنی نحیف جسامت کی عافیہ صدیقی کے ساتھ کیا حقوق نسواں کے اصولو ں کے مطابق سلو ک ہو رہا ہے ایک ناہنجا ر نے عافیہ عارض سراپا پر کھولتی ہوئی چائے انڈیل دی کیا ان حقوق نسواں کے امانت داروںکے کانو ں پر جوں رینگی ، یہ سب مطلب کی کہا نیاں گڑھتے ہیں اور اغربت کو گاڑدیتے ہیں ، حقائق یہ کہہ رہیں کہ 15اگست کے روز سے اب تک طالبان کے ہاتھو ں کوئی ایک معمولی سا معمولی بھی حقوق نسواں کا کوئی واقعہ نہیں ہو ا ہے جو جی سیو ن کی تنظیم کو دھمکا نے کی ضرورت پڑ گئی ہے اور امک دھمک کو مچا رکھی ہے ۔ اب امریکا ہی بتا سکتا ہے کہ افغانستان میں کیا افتاد پڑی تھی کہ اس نے افغانستان کے مالی اثاثے منجمد کردئیے ۔ جرمنی جس نے یہ تڑ ی لگائی تھی کہ افغانستان میں شریعت نافذکی گئی تو جرمنی افغانستان کی امدا د بند کردے گا کیو ں بند کر دے گا اس کو کیا چڑ ہے چڑ افغانستان سے نہیں ہے بلکہ اسلا می فکر ونوید کی ہے ، اب ورلڈ بینک نے بھی ڈونڈی پیٹ ڈالی ہے کہ اس نے افغانستان کی امدا د روک لی ہے ۔ورلڈ بینک اس وقت افغانستان کے بارہ عدد ترقیاتی منصوبو ں کے لیے رقم فراہم کر رہا ہے 2020سے اب تک تین ارب ڈالر ان منصوبوںکے لیے فراہم کیے گئے ہیں ، بلاجواز ورلڈ بینک نے اقدام اٹھا یا ہے افغانستان میں ترقیا تی سرگرمیا ں معمول کے مطا بق جاری ہیں اورکہیں تعطل پیدا نہیں ہو اہے ، اشرف غنی یکایک فرارنہیں ہو ا تھا بلکہ وہ پو ری منصوبہ بندی سے مفر ہو ا اس کا گما ن تھا کہ وہ افغانستان کو انتظامی لحاظ سے بے یا رو مدد گا ر چھو ڑ جائے گا۔ لیکن جن امید وں پر تکیہ تھا وہ سب پھر وہو گئیں ، انسانی حقوق کا اندازہ یوں بھی لگا یا جاسکتا ہے کہ ائیر پو رٹ کے اندر جو غل غپاڑ ہ مچا یا گیا اس کا واحد مقصد یہ نظر آتاہے کہ طالبان اور فراریو ں کو آمنے سامنے لا کر خانہ جنگی کی فضاء پید اکر دی جائے مگر ساری افراتفری وہا ں ہے جہا ں امریکی سیکو رٹی فورسز ٹیک لگائے بیٹھی ہوئی ہیں ، طالبان نے عام معافی کا اعلا ن کر کے تما م گما ن سمان ملیامیٹ کردئیے ، بلکہ ہو ش ٹھکا نے لگا دئیے ہیں ، جا ن بوجھ کر یہ غلغلا مچایا گیا کہ خوف وہر اس پیدہو اور سارانظام دھرم بھر م ہو جائے ، سرکا ری ملا زمین کا م پر لگے ہوئے ہیں کسی کے سا تھ کوئی زیا دتی نہیںہو رہی ہے اشرف غنی نے سیکورٹی فورسز سمیت سوجن سویلین ملا زمین کی تنخواہیںگزشتہ چار چار ما ہ سے روک رکھی تھیں ان کو یقین دلا دیا گیا ہے کہ اب تنخواہیں بروقت ادا ہونگی ۔زنا نہ مردانہ سب ہی تعلیمی ادارے ، کھل گئے ہیں جو بند ہی نہیں کیے گئے تھے بلکہ خوف سے خالی پڑے تھے بینک معمول کے مطابق کا م کر رہے ہیں اس میں کا م کر نے والی یا ایسے ادارے جہا ں خواتین کی حاضری ضروری ہے مثلا ًہسپتال وغیر ہ خواتین سے کہا گیا ہے کہ ڈھنگ کا لباس پہن کر آئیں جہاں حاضر ی اہم نہیں ہے وہا ں کا م کر نے والی خواتین سے کہا ںگیا ہے کہ وہ فی الحال گھرو ں پر انتظا ر کریں جب تک ان کو کا م پر نہیں بلا یا جا تا اس وقت تک ان کو گھر بیٹھے تنخواہ ادا کی جا ئے گی کیا اس سے بھی بڑھ کر حقوق نسوا ں کوئی اورہو سکتے ہیں ، جی سیون تنظیم کو مقبوضہ کشمیر کے حالا ت کی طر ف بھی تو جہ دیناچاہیے کہ وہا ں انسانی حقو ق کو کس بربریت سے بھارت کشتہ در کشتہ کر رہا ہے ۔