افغانستان اور عوامی ایشوز

جتنے صحافی اور خصوصا پشتون صحافی افغانستان کی موجودہ صورتحال کی رپورٹنگ کے لئے افغانستان پہنچ چکے ہیں اسے دیکھ کر تو ایسے لگا کہ شاید افغانستان میں مقیم تمام صحافی کابل ایئرپورٹ سے یا تو ملک چھوڑ چکے ہیں اور یا ائیرپورٹ پر پھنس چکے ہیں۔ جس طرح ڈاکٹراشرف غنی حکومت کے خاتمہ کے ساتھ وہ ملک سے فرار ہوئے اور ان کی فوج بھی مورچہ چھوڑ کر غائب ہوگئی اور طالبان نے بقول ان کے امن وامان کے مسئلہ پر قابو پانے کے لئے خود اہل کابل کی درخواست پر شہر کے اندر داخل ہو کر مورچے سنبھال لیئے تو غالبا طالبان کے ساتھ ہی پشتون صحافیوں نے بھی صحافت کے مورچہ خالی پاکر فورا ہی کابل میں داخلے کی ٹھانی۔ سوشل میڈیا پر طالبان دستوں کے ساتھ ہی اپنے ساتھیوں کی تصویریں دیکھیں تو مین سٹریم میڈیا کی طرف رجوع کیا۔ کمال کی بات یہ کہ چندسینئر ساتھیوں کے علاوہ کوئی رپورٹنگ نظر نہیں آ رہی تھی۔ جو رپورٹنگ ہو رہی تھی وہ بھی ایسی کہ جیسے یہاں ایک طویل آپریشن کے بعد حالات پر قابو پا لیا گیا ہو۔ سوچنے لگا یہ کیوں؟ تو جواب ملا کہ ہم نے قبائلی علاقوں میں جو رپورٹنگ کی تھی شایداسی کو ہی افغانستان میں آزمایا جا رہا تھا یا شاید ہم نے اس کے علاوہ کچھ سیکھا ہی نہیں ہے۔ جس میں ہم کہتے رہے کہ امن امان قائم ہو چکا ہے، دکانیں بھی کھلنے لگی ہیں، زندگی معمول پر آرہی ہے، لوگ مطمئن ہیں وغیرہ وغیرہ۔ یہ پاکستانی میڈیا کے پاس ایک موقعہ ہے کہ ہم اپنا انداز بدلیں جب کہ ہم دیکھ رہے ہیں کہ طالبان تک اپنا انداز اور رویہ بدل چکے ہیں۔ خود ان کو نہیں معلوم کہ صورتحال مستقبل قریب میں کیا رخ اختیار کرنے والی ہے۔ ایسے میں ہمیں بطور پاکستانی صحافی انتہائی سنجیدگی اور تحمل کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔ اس وقت کہانی انسانی المیہ کی ہے نہ کہ مسلح فتوحات کی وہ وقت گزر چکا ہے اس وقت باہر سے صحافی آ کر کبھی امریکہ کے ساتھ اور کبھی طالبان کے ساتھ افغانستان میں لڑائی کی رپورٹنگ کرتے رہے۔ اب تو افغان عوام کی رپورٹنگ کا وقت ہوا چاہتا ہے۔ یہ وہ عوام ہیں کہ جن کو پوری دنیا نے دھوکا دیا۔ ہندوستان تک نے افغان صورتحال سے فائدہ اٹھایا اور ہماری دشمنی میں ان کو ترقی اور امن کے خواب دکھائے۔ ویسے افغان عوام کے ساتھ ہندوستان کے اس فریب اور دھوکے کی تاریخ بہت پرانی ہے اور یہ کوئی پہلی دفعہ نہیں کہ انہوں نے ایسا کیا۔ روزنامہ مشرق کے ان صفحات پر جو کچھ افغان صدر ڈاکٹر نجیب کے ساتھ ہندوستان نے سفارتی سطح پر کیا اس کا ذکر ہوچکا ہے کہ کس طرح مجاہدین کو خوش کرنے کے لئے انہوں نے ڈاکٹر نجیب کو پناہ دینے سے انکار کر دیا تھا۔ تاریخ میں بھی حقیقی دشمنی تو کابل اور دہلی کی رہی ہے۔تو اس وقت ریاست پاکستان اور پاکستانی میڈیا کے پاس وہ موقعہ ہے کہ وہ افغان عوام کی رپورٹنگ کو آگے بڑھائیں۔ ان کے ایشوز پر بات کرے۔ ان کو جو مسائل درپیش ہیں اس پر بات کریں۔ سرحدیں تو افغانستان کی دوسرے ملکوں کے ساتھ بھی لگی ہیں لیکن اس طرف سے تو اس طرح جوق درجوق صحافیوں کی آمد نہیں ہو رہی۔ میری ذاتی رائے میں اس کی بنیادی وجہ یہی ہے کہ ان ممالک کا میڈیا اتنا فعال نہیں ہے۔گو کہ ہماری میڈیا کی توانائی بھی وہ نہیں رہی کہ جو کبھی تھی لیکن پھر بھی ہماری صحافت افغانستان کے پڑوسی ممالک کی صحافت کے مقابلہ میں کہیں بہتر ہے۔ اگر مغربی میڈیا افغان عوام کو بھول چکا ہے تو اس سے ہمیں یہی توقع تھی۔ ان کی دلچسپی اب افغان عوام اور افغانستان میں نہیں رہی لیکن ہم ایسا نہیں کر سکتے۔ وہ ہمارے پڑوسی ہیں اور انہی کے ساتھ ہی ہم نے ساری زندگی گزارنی ہے۔ ہمیں یہ زیب نہیں دیتا کہ افغانستان گئے چند وڈیوز بنائے، کچھ چینلز پر آئے اور پھر بھول گئے۔ جیسا کہ میں نے عرض کیا کہ اس وقت ہماری ریاست اور ہماری میڈیا کے پاس ایک موقعہ ہے کہ ماضی کی غلطیوں سے سیکھیں اور افغان عوام اور نئی حکومت کے بیچ میں اپنا صحافتی کردار ادا کریں۔ وہ اصول بہت سادہ ہے طاقتور کا عوامی احتساب اور فی الوقت تو خود طالبان نے بھی کہا کہ ہم ہر قسم کی تنقید کو برداشت کرنے کے لیئے تیار ہیں۔ اس طرح ہمیں اس بھارتی پراپیگنڈے اور ان کی طرف سے کئے گئے پراپیگنڈے میں سرمایہ کاری کا بھی ازسرنوجائزہ لینا ہوگا۔ کیا وجہ تھی کہ لاکھوں کی تعداد میں ہم نے افغان مہاجرین کو پناہ دی، افغان جنگ کے باعث خود ہماری کتنی تباہی ہوئی اگر جہاد کا طعنہ دے رہے تھے تو وہ تو امریکہ نے تسلیم کیا تھا کہ پاکستان کا صرف راستہ استعمال کیا گیا باقی بربادی تو مغرب نے کی تھی کہ جس سے بعد ازاں ہم بھی متاثر رہے اور ہیں۔ لیکن ان تمام باتوں کے باوجود افغانیوں کی ناراضگی صرف ہمارے حصہ میں آئی۔ ظاہر ہے اس پر ٹھیک ٹھاک کام کیا گیا ہوگا۔ اس وقت ہمیں ایک صحافی کی حیثیت سے افغان عوام کے ایشوز کے ساتھ کھڑے ہونا ہے۔ طالبان نے مذاکرات سے جنگ جیتی یا اسلحہ کے زور پر حقیقت یہ ہے کہ اس وقت وہ حکمران ہیں اب آگے وہ حکمران رہیں گے یا نہیں یہ طے کرنا ہمارا کام نہیں ہے۔ سب سے بڑا مرحلہ افغان عوام میں ہماری اپنی ساکھ کو بحال کرنا ہے اور اس ہندوستانی پراپیگنڈے کی جڑوں کی نشاندہی کرنا ہے جس کی بدولت دونوں ملکوں میں دوریاں پیدا ہوئیں۔ یہ بھی ذہن میں رکھنا چاہیئے کہ افغانستان ایک ڈیویلپنگ سٹوری ہے یعنی اس میں مسلسل تغیر کا عنصر موجود ہے۔ جس طرح امریکہ مغرب نکلا، جس طرح طالبان آئے اس کے بعد قطعیت سے کچھ بھی کہنا قبل از وقت ہوگا۔ اس لیئے بہتر ہوگا کہ ہم کون آئے کون گئے کی بجائے افغان عوام کے مسائل پر اپنی توجہ مرکوز رکھیں۔ بلکہ عالمی سطح پر ان کا مقدمہ لڑیں۔ اس لیئے میں سمجھتا ہوں کہ افغانستان جائیں بلکہ صحافی افغانستان بھیجے جائیں لیکن ان کو بھی چاہیئے کہ بامقصد رپورٹنگ کریں عوام کے حق میں موجودہ طاقت پر دبائو ڈالا جائے۔ وگرنہ جو فوج افغان مترجمین کی شکل میں افغانستان سے فرار ہوکر آدھے صحافیوں کی شکل میں پوری دنیا کی میڈیا میں اپنی جگہ بنا رہی ہے وہ سب سے بڑا چیلنج بن سکتا ہے آزاد صحافت کے خلاف ایک پراپیگنڈے پر مبنی منظم جنگ کا آغاز کوئی انہونی بات نہیں ہوگی۔