Army called for implementation of SOPs

ہفتہ اوراتوارکوبازاربندرکھنےکافیصلہ،ایس اوپیزپرعملدرآمدکیلئےفوج طلب

ویب ڈیسک(پشاور)صوبائی ٹاسک فورس برائےانسداد کورونانےصوبےک بعض اضلاع میں کوروناکےمثبت کیسزکی بڑھتی ہوئی شرح اورسمارٹ لاک ڈائون سمیت دیگراحتیاطی تدابیراورپابندیوں پرعدم عملدرآمد پرتشویش کااظہارکرتےہوئے پہلےسےنافذ پابندیوں اوراحتیاطی تدابیرپرسختی سے عملدرآمدکویقینی بنانے کافیصلہ کیاہےاوراس سلسلےمیں پولیس اورانتظامیہ کی مدد کیلئےپاک فوج سےتعاون کی درخواست کی ہے۔

ٹاسک فورس نے پولیس کو پہلے سے عائد پابندیوں اور احتیاطی تدابیر پر سختی سے عمل درآمد کو یقینی بنانے کیلئے فوری طور پر ضروری اقدامات کی ہدایت کرتے ہوئے فیصلہ کیا ہے کہ صورتحال کی موثر مانیٹرنگ کی جائے گی اور ضرورت محسوس ہونے پر آنے والے ایک دوہفتوں میں زیادہ متاثرہ علاقوں میں سمارٹ لاک ڈائون کو سخت کرنے اور مزید پابندیاں عائدکی جائیں گی ۔

اجلاس میں کورونا ویکسنیشن کو یقینی بنانے کیلئے ویکسنیشن نہ کروانے والوں کےموبائل سمزبند کرنے پر سنجیدگی سےغور کیا گیا اور متعلقہ حکام کو ہدایت کی گئی کہ ا س سلسلے میں ایک ڈیڈلائن مقرر کرکے لوگوں کو اس حوالےسے آگہی دینے کیلئے ضروری اقدامات اُٹھائےجائیں ۔

ٹاسک فورس کااجلاس جمعہ کےروز وزیراعلیٰ خیبرپختونخوامحمود خان کی زیرصدارت منعقد ہواجس میں صوبہ بھر میں کوروناکی حالیہ لہرکی مجموعی صورتحال کاتفصیلی جائزہ لینےاورمتعلقہ مختلف اُمورپر غوروخوض کےبعد متعدد اہم فیصلےکئےگئے۔

کورکمانڈرپشاورلیفٹیننٹ جنرل نعمان محمود،اراکین صوبائی کابینہ شہرام ترکئی،تیمورجھگڑا،کامران بنگش،چیف سیکرٹری ڈاکٹر کاظم نیاز،آجی جی معظم جاہ انصاری او رمتعلقہ محکموں کے انتظامی سیکرٹریوں نےاجلاس میں شرکت کی ۔

فورم نےصوبائی دارالحکومت پشاورمیں ویکسینشن کی کم شرح پر عدم اطمینان کااظہارکرتےہوئے محکمہ صحت اور تعلقہ ضلعی انتظامیہ کو ویکسنیشن کےہدف کےحصول کو یقینی بنانے کیلئے ٹھوس اقدامات کی ہدایت کی گئی ۔

صوبےمیں کورونا ویکسینشن کی صورتحال کےبارے میں اجلاس کوبتایاگیاکہ صوبےمیں کوروناویکسنیشن کی مجموعی شرح اطمینان بخش ہے،ملکی سطح پر روزانہ 10 لاکھ افراد کی ویکسینشن ہوتی ہے جس میں سے دولاکھ ویکسینشن خیبرپختونخوا میں ہوتی ہے ۔

مزید بتایا گیا کہ ضلع چترال میں ویکسینشن کی شرح سب سےزیادہ ہے۔ٹاسک فورس نےصوبہ بھر میں یکساں بنیادوں پرہفتے میں دو دن یعنی ہفتہ، اتوار کو آف ڈے قرار دینےاوران دو دنوں میں ضروری سروسزکےعلاوہ باقی تمام کاروبار بند رکھنےکافیصلہ کیاگیا ۔

مزید برآں کورونا سے زیادہ متاثرہ اضلاع میں ضرورت کی بنیادوں پر ہسپتالوں میں بعض مخصوص سروسز کو بند رکھنے کا بھی فیصلہ کیا گیا ۔ ہزارہ ڈویژن کے بعض اضلاع میں کورونا کی بڑھتی ہوئی شرح پر قابو پانے کے سلسلے میں انتظامیہ کی مدد کیلئے پاک فوج کے 10 کور کا تعاون حاصل کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا ۔

اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کورونا کی موجودہ صورتحال کو تشویشناک قرار دیتے ہوئے انتظامیہ کوپہلے سے نافذ پابندیوں اور احتیاطی تدابیر پر سختی سے عمل درآمد کو یقینی بنانے کی ہدایت کی اور کہا ہے کہ صورتحال کی مسلسل نگرانی کی جائے گی اور اگلے دوہفتوں میں ضرورت محسوس ہونے پر مزید سخت فیصلے کئے جائیں گے۔