روئے سخن کسی کی طرف ہو تو روسیاہ

صدر ایوب خان کا دور یاد آگیا ہے ‘ اپنے اقتدار کے دس سال پورے ہونے پر انہوں نے”ترقی کے دس سال” جسے اس دور میںDecade of Development کا ٹائیٹل دیا گیا تھا کے نام سے ایک پروگرام ترتیب دیا ‘ خدا جانے انہیں کس”عقلمند” نے یہ مشورہ دیا تھا کہ وہ اپنی حکومت کے کارناموں کی تشہیر کے لئے یہ ڈھونگ رچائیں ‘ ایسا ہر حکمران کے ساتھ اکثر ہوتا رہتا ہے کہ اس کے گرد خوشامدیوں اور کاسہ لیسوں کا ایک ٹولہ ایسا ضرور ہوتا ہے جوان کے کان میں ایسے الفاظ انڈیلتا رہتا ہے۔ اس حوالے سے ایوبی دور میں ایک لطیفہ بھی بہت مشہور ہوا تھا کہ ایک بار جب صدر ایوب سابقہ مشرقی پاکستان کے دورے سے واپس آرہے تھے تو جہاز میں اپنے کئی کاسہ لیس خوشامدیوں کے ساتھ دورے کے حوالے سے گفتگو چل رہی تھی تو ایک وزیر نے سو روپے کا نوٹ نکال کر صدرایوب سے کہا ‘ سر آپ اس پر دستخط کر دیں اور میں اسے نیچے گراتا ہوں ‘ یہ نوٹ جس کو ملے گا وہ خود کو بہت خوش نصیب سمجھے گا۔ ایک اور چاپلوس نے فوراً کہا ‘ سر سو کے نوٹ کے بجائے پیچاس پچاس کے دو دستخط شدہ نوٹ کیوں نہ گرائے جائیں اس طرح دو افراد خوش ہوجائیں گے ایک زیادہ خوشامد پرست نے بات کو زیادہ وزنی بناتے ہوئے دس دس روپے کے دس دستخط شدہ نوٹ جہاز سے نیچے گرانے کی تجویز دی ‘ معاملہ چلتے چلتے پانچ کے بیس اور پھر روپے روپے کے سو نوٹوں تک جا پہنچا۔ اس ساری صورتحال پر اس دور کے وزیر خارجہ ذوالفقار علی بھٹو ہر تجویز پر حیرت سے تجویز کنندہ کو دیکھ کر بالآخر دبی زبان میں بڑ بڑاتے ہوئے گویا ہوئے کہ اگر صدر صاحب ہی کو گرا دیا جائے تو پورا پاکستان خوش ہو جائے گا’ گویا صورتحال اس سطح پر پہنچ گئی تھی ‘ یعنی عوام حکومت سے اس قدر تنگ آئے ہوئے تھے ‘ یہی وجہ تھی کہ جب”ترقی کے دس سال” والا منصوبہ سامنے آیا تو عوامی سطح پر اسے تھوڑی سی تبدیلی کے ساتھ Decay of Development یعنی
تباہی کے دس سال کا نام دیا گیا ‘ کیونکہ مہنگائی اس دور میں بھی عروج پر تھی ‘ حکومت نے مخالف سیاسی جماعتوں پر طرح طرح کی پابندیاں لگا رکھی تھیں کسی کو بولنے کی اجازت تک نہیں تھی ‘ تاہم حکومت کے خلاف منفی جذبات اندر ہی اندر عوام کے ذہنوں میں سرایت کرتے کرتے بالآخر امڈ کر باہر نکل آئے اور آٹا اور خاص طور پر چینی کی قیمت میں چار سے آٹھ آنے سیر اضافہ کے بعد ملک کے کونے کونے میں آٹا چور ‘ چینی چور کے نعرے گونجنے لگے ‘ چونکہ اس دور میں نوابزادہ عبد الغفور ہوتی وزیر تجارت تھے اور مردان شوگر ملز بھی(غالباً) انہی کے خاندان کی ملکیت تھی ‘ یوں چینی کے نرخوں میں آٹھ آنے سیر اضافہ کی وجہ سے ملک کے درو بام چینی چور کے نعروں سے گونج رہے تھے ‘ سونے پر سہاگہ یہ ہوا کہ ”ترقی کے دس سال” کے حوالے سے ملک کے مختلف حصوں میں منعقدہ تقریبات اور جلسوں وغیرہ کے ضمن میں پشاور کے جناح پارک میں منعقدہ جلسہ عام میں نوابزادہ عبدالغفور ہوتی اور بعض دیگر اراکین قومی و صوبائی اسمبلی کی جانب سے ایوب خان کی خدمت میں دس لاکھ روپے کا تھیلہ پیش کئے جانے کے موقع پر ایک نوجوان ہاشم خان نے صدر مملکت پر جان لیوا حملہ کرتے ہوئے گولیاں چلائیں ‘ تاہم سیکورٹی اہلکاروں سے اسے قابو کرتے ہوئے یہ حملہ ناکام بنا دیا ‘ تاہم اس کے بعد ایوبی آمریت کی دیواروں میں شگاف پڑنے شروع ہوگئے ‘ سیاسی رہنمائوں کے احتجاج میں تیزی آتی چلی گئی ‘ ملک بھر میں سیاسی حالات ابتر ہوتے چلے گئے۔ سیانوں نے بھی تو سچ کہا ہے کہ تاریخ کا المیہ یہ ہے کہ ہم تاریخ سے کچھ سبق نہیں سیکھتے ‘ ایوبی دور کے حوالے سے اگرچہ حبیب جالب کی مزاحمتی شاعری کا بہت
چرچا رہا ہے جو آج بھی لوگ ضرورت کے وقت استعمال کرکے دل کا بوجھ ہلکا کر لیتے ہیں تاہم قتیل شفائی کا ایک شعر بھی کمال کا ہے کہ
دنیا میں قتیل اس سے منافق نہیں کوئی
جو جبر تو سہتا ہے بغاوت نہیں کرتا
مگر اس دور سے حالات میں جو بدلائو آتا رہا ہے او عوام نے بھی”سمجھوتے” کرنے سیکھ لئے ہیں تو اب کوئی کچھ بھی کر لے ‘ کتنے بھی حالات دگر گوں کیوںنہ ہوجائیں ‘ حالات کے جبر کو برداشت کئے بناء کوئی چارہ نہیں رہا ‘ آج کا شاعر نہ تو حبیب جالب جیسا ہے نہ قتیل شفائی کے بیانئے کو اہمیت دینے پر آمادہ ہے اس لئے وہ یہ کہنے پر مجبور ہے کہ
دو چار برس جتنے بھی ہیں جبر ہی سہ لیں
اس عمر میں اب ہم سے بغاوت نہیں ہوتی
یہ بھی نہیں کہ ہر طرف”سکوت مرگ”طاری ہے ‘ اکا دکا آواز اب بھی گونج بن کر سیاسی فضا میں ارتعاش پیدا کر دیتی ہے ‘ اس لئے ”کارکردگی” کا پول کھولنے کے بیانات سامنے آتے رہتے ہیں ‘ مگر اب مسئلہ اس کم بخت سوشل میڈیا نے پیدا کر دیا ہے جس کی بنیاد جرمن پروپیگنڈہ باز گوئبلز نے رکھی ضرور تھی مگر اسے یہ معلوم نہیں تھا کہ آنے والے دور میں ایسے ایسے ٹرولز پیدا ہو جایئں گے جو جھوٹ ‘ مکرو و فریب ‘ غلط بیانی کے نئے نئے ریکارڈ قائم کرکے خود اس کے بھی کان کترنے لگ جائیں گے ‘ آج اگرگوئبلز زندہ ہوتا تو یقیناً ان ٹرولز کے آگے زانوئے تلمذ تہہ کرکے خوشی سے سرشار ہوتا ‘ کیونکہ گوئبلز کے پروپیگنڈے کو جرمن افواج برسرزمین حقیقت میں ڈھالنے کی کامیاب کوشش تو کم از کم کر لیتی تھیں ‘ مگر یہاں تو صرف کاغذی حقائق کو میڈیا کے زور پر لوگوں پر مسلط کیا جاتا ہے ‘ دنیا بھر میں یہی صورتحال ہے ‘ زیادہ دور جانے کی ضرورت نہیں ہے ہمسائے افغانستان کے حالات پر نظر دوڑائیں تو عالمی سطح پر منفی پروپیگنڈہ صورتحال کو مکدر بنانے پر تلا ہوا ہے ‘ کہ بقول شاعر
فرضی مقدمات ہیں جھوٹی شکایتیں
ہم پھر بھی لکھ رہے ہیں جنوں کی حکایتیں
حرف آخر بس اتنا ہے کہ بقول شاعر روئے سخن کسی کی طرف ہو تو روسیاہ