تحریک انصاف کے تین سال

یہ ایک معمول کی کارروائی رہی ہے کہ حکومتیں سو دن ‘ ایک سال ‘ دوسال یا تین سال وغیرہ کے بعد عوام اور اپنی پارٹی کے کارکنوں کے سامنے اپنی کارکردگی کے حوالے سے رپورٹس پیش کرتی ہیں اور اپنی کارکردگی اور ”کارنامے”دکھانے کے لئے تقریبات کا انعقاد کرتی ہیں۔ پاکستان میں اس سے پہلے دو بڑی سیاسی جماعتوں کی حکومتیں بھی عوام کے سامنے اپنے بڑے بڑے منصوبے اور کارنامے پیش کرتے رہے ہیں مثلاً مسلم لیگ نون والے آج تک پشاور تا لاہور موٹر ویز ‘ لاہور کے اندر اورنج ٹرین اور جنگلہ بس وغیرہ پر فخر کرتے ہیں۔ اس طرح پیپلز پارٹی والے ذوالفقار علی بھٹو سے لیکر آصف علی زرداری تک کے بڑے کاموں کو اپنی پارٹی کے منشور پرفارمنس رپورٹس کا حصہ بناتے رہتے ہیں اور حقیقت یہ ہے کہ ہر حکومت اپنی مدت اقتدار میں کچھ نہ کچھ ضرور کرتی ہے۔ ایوب خان نے دس برسوں میں پاکستان میں جو زرعی اور صنعتی انقلاب برپا کیا اس نے پاکستان کو ایشیا کے لیڈنگ ملکوں کی صف میں لاکھڑا کیا تھا ‘ لیکن بعد کے زمانے کی حکومتوں نے وہ ردھم جاری نہ رکھا ‘ لیکن پھر بھی آج تک بہرحال پاکستان سے کل سے بہتری کی جانب گامزن ہے ۔ اگرچہ ہماری سیاسی جماعتوں’ مارشل لائوں اور دیگر بہت سارے عوامل کے سبب وہ کچھ نہ ہو سکا جس کی پاکستان میں وسائل و صلاحیتوں کے لحاظ سے بڑی گنجائش اور وسعت تھی۔
1960ء کے ایوب خانی دور سے لیکر آج تک ہر حکومت نے اپنی دانست اور زعم میں عوام کی فلاح و بہبود کے لئے سرتوڑ کوششیں کی ہیں۔ کسانوں ‘ مزدوروں ‘ ملازمین اور دیگر شعبوں کے لئے ہر ممکن آسانیاں اور ترقیاں دینے کے اقدامات کئے ہیں۔ اس لحاظ سے سابقہ حکومتوں اور تحریک انصاف کی حکومتوں میں کوئی خاص فرق نہیں وعدوں کے انبار اور سبز باغ اور خیالی پلائو اس سے ماقبل کی حکومتیں بھی عوام کو دکھاتی اور کھلاتی رہی ہیں اور موجودہ حکومت نے وعدوں کے ذیل میں ایک کروڑ نوکریاں اور پچاس لاکھ گھر تعمیر کرا کر حد کر دی ہے ۔ لیکن سچی بات یہ ہے کہ غربت ہے کہ پاکستان میں دن بہ دن بڑھ رہی ہے اور موجودہ دور میں تو مہنگائی نے صحیح معنوں میں عوام کی کمر توڑ دی ہے ۔ لیکن اس کے باوجود گزشتہ دنوں وزیر اعظم پاکستان نے پاکستان میں بڑے سکرینوں کے ذریعے عوام کو اپنی تین سالہ کارکردگی سے آگاہ رکھنے کا اہتمام فرمایا۔اس حوالے سے انہوں نے ہمیشہ کی طرح بڑے وعدے بھی کئے اور مستقبل کے لئے اپنے عزائم کا اظہار بھی کیا ۔ یہ بات بالکل واضح ہے کہ عوام کا جو یہ خیال تھا کہ تحریک انصاف کی حکومت کے آتے ہی یہاں غریب عوام کو گزشتہ حکومتوں کی روش و کارکردگی سے ہٹ کر غیر معمولی اقدامات دیکھنے کو ملیں گی وہ تو نہ ہوسکا اور یہ بات موئیدیں و مخالفین سب کے سامنے ہے ۔ اس حکومت نے تین برسوں میں پشاور کی بی آر ٹی کے علاوہ کوئی بڑا منصوبہ مکمل نہیں کیا ۔ لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اس کے باوجود پی ٹی آئی کے ورکرز اپنے لیڈر کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں اور امید کا دامن تھامے ہوئے ہیں۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر وہ کون سی بات اور کون سی چیز ہے جو عمران خان کو دیگر رہنمائوں سے ممتاز اور نمایاں کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے ۔ مجھے یا میرے خاندان کو ابھی تک تحریک انصاف کی حکومت سے ایک دھیلے کا کوئی فائدہ حاصل نہیں ہوا ہے اور بعض اوقات بعض معاملات پر دل میں شدید جلن اور کڑھن بھی پیدا ہوتی ہے لیکن اس کے باوجود حقیقت یہ ہے کہ عمران خان پاکستان کی سیاسی تاریخ میں ایک الگ تھلگ ‘ منفرد اور مضبوط عزم اور حوصلہ کے انسان ہیں۔ یہی چیز آپ کو اس کے
باوجودکہ ابھی تک عوام کو کوئی خاص رعایت و سہولت ڈیلیور نہیں کر سکا ہے لیکن ان تین برسوں میں اس شخص کو جن حالات کا سامنا کرنا پڑا۔ اگر کسی او کوکرنا پڑا ہوتا تویقیناً ان کے ہاتھ پائوں پھول جاتے ۔ اس کی حکومت نے جن بڑے مسائل کا سامنا کیا ‘ ان میں سے سرفہرست گیارہ پارٹیوں کے اتحاد پر مشتمل ایک ایسی اپوزیشن ہے جو پہلے دن ہی سے ان کے خلاف تحریک چلانے اور اسمبلیوں سے استعفیٰ دینے پر اکسا رہے تھے ۔ دوسرا بڑا مسئلہ کرونا کا تھا اس موذی وباء میں وزیراعظم نے جو اقدامات کئے ‘ ا للہ تعالیٰ نے اس میں برکت ڈالدی اور کرونا کے باوجود پاکستان کی معیشت اس نقصان سے بچ گئی جس کا سامنا بھارت نے کیا۔ تیسرا بڑا مسئلہ طالبان اور امریکہ و نیٹو ممالک کا تھا ‘ جس کے بارے میں وزیر اعظم نے پہلے دن سے جو موقف اختیار کیا تھا کہ افغانستان کے مسئلہ کا کوئی فوجی حل نہیں ۔ طالبان خان کا لقب برداشت کیا لیکن آج امریکہ اور طالبان کے درمیان دوحہ معاہدہ ہوا تو ایک دنیا اس عجیب و منفرد طبیعت کے انسان کو ماننے پر مجبورہے ۔ لوگوں نے”گھبرانا نہیں”کو مذاق میں تبدیل کر دیا ‘ لیکن یہ شخص واقعی گھبرانے والا نہیں ورنہ پاکستان میں آج تک کوئی سپر پاور کو ”مطلقاً نہیں” کہہ سکا ہے ۔ اس اڑیل اور ضدی شخص کا ایک بڑا کام یہ بھی ہے کہ گزشتہ دو حکومتوں کے برعکس اپنے ملک کی افواج (اسٹیبلشمنٹ) کے ساتھ ایک صفحہ پر ہے اور دنیا اس حوالے سے لطف لینے سے محروم ہے حالانکہ اپوزیشن نے بڑی کوشش کی ان کے درمیان ا ختلافات پیدا کئے جائیں جہاں تک معاشی ترقی کا تعلق ہے تو امید کی جا سکتی ہے کہ دس بڑے ڈیم پانچ سے دس سال کے اندر مکمل ہونگے تو دنیا دیکھ لے گی آخر میں یہ بات بھی کتنی اہم ہے کہ سادہ اکثریت لیکر تین چارجماعتوں کے اتحاد کے ساتھ اپنی مدت پوری کرنا بھی کوئی خالہ جی کا گھر نہیں۔ ویسے اگر اس شخص دو تہائی اکثریت مل گئی تو کیا اس سے توقع نہیں کی جا سکتی کہ ان حالات میں زرمبادلہ 27ارب ہیں تو تب کتنے ہوں گے ۔