اجلاس کے علاوہ بھی کچھ کیا کریں

سمجھ سے بالاتر امر یہ ہے کہ حکومتی فیصلوں پر عملدرآمد میں سنجیدگی اختیار کرنے کی بجائے باربارحکام ایسے اقدامات کے حوالے سے اجلاس کیوں منعقد کرتے ہیں جس کے بارے میںصوبائی حکومت کے بار بار کے اعلانات موجود ہیں۔ خیبر پختونخوامیںپرویز خٹک حکومت میں پلاسٹک کے تھیلے استعمال کرنے کی ممانعت کی گئی تھی اور اس کی فیکٹریوں کو ختم کرنے وکاروباری طبقے اور ملازمین کو متبادل روزگار کی تلاش و انتظام کے لئے آٹھ ماہ کا وقت دیا گیا تھا بعد ازاں موجودہ دور میں بھی وزراء کی سطح پرپولی تھین بیگز کے خاتمے کے عزائم کا اعادہ ہوتا رہا اب ایک مرتبہ پھر ماحولیاتی آلودگی کے خاتمے اور پلاسٹک کے تھیلوںصوبائی حکومت کے احکامات کے مطابق پولی تھین بیگ کے فوری خاتمے اورحکومت کے احکامات کی روشنی میں پولی تھین بیگ کے خاتمے کیلئے ہنگامی بنیادوں پر فوری اقدامات کئے جانے کا فیصلہ سمجھ سے بالاتر امر ہے یہ کارروائیاں پہلے کیوں نہیں کی گئیں حکومتی اعلانات کو بے وقعت کیوں کیا گیا اب کیا ضمانت ہے کہ اس اجلاس کے فیصلوں اوراحکامات پر عملدرآمد کی نوبت آئے گی وزیر اعلیٰ کو اس حوالے سے ماضی سے تاحال اعلانات اور اقدامات کی تفصیل طلب کرکے سرکاری عمال سے جواب طلبی کرنی چاہئے کم از کم اس اجلاس کے فیصلوں پر عملدرآمد ہی ہوتو غنیمت ہو گی ۔حکومت کے لئے یہ بڑی ناکامی کی بات ہو گی کہ اس مرتبہ بھی حکومتی ہدایات پر اگر عملی طور پر عملدرآمد یقینی بنانے کی بجائے ایک اوراجلاس پراکتفا کیا جائے۔
افسوس
خیبرپختونخوااسمبلی کا اجلاس کورم پورا نہ ہونے کی وجہ سے ملتوی کیا جانا عوامی نمائندوں کی سنجیدگی اور غمخواری کا کھلا ثبوت ہے اسمبلی کی کارروائی سے لاتعلقی کا عالم یہ ہے کہ ایوان میں کورم پورا نہ ہونے کی نشاندہی پر سپیکرنے پانچ منٹ تک کیلئے گھنٹیاں بجانے کی ہدایت کی لیکن اس کے باوجود بھی جب دوبارہ ممبران کی گنتی ہوئی تو ایوان میںصرف30ممبران ہی موجود تھے جس پر ایک مرتبہ پھر دومنٹ تک کیلئے گھنٹیاں بجائی گئیں اس بار جب سیکرٹری اسمبلی نے ایوان میں ایم پی ایزکی تعدادمعلوم کی تویہ تعداد2ممبران کے اضافہ کے ساتھ32ہوگئی ۔اس طرح کی صورتحال میں اسمبلی کا اجلاس طلب کرنے کی ضرورت ہی کیا تھی جب حکومتی اراکین اسمبلی کو ہی اجلاس میں شرکت میں دلچسپی نہیں خیبر پختونخوا اسمبلی کے حکومتی اور حزب ا ختلاف کے اراکین اگر اجلاس میں شرکت ہی کو بوجھ قرار دینے لگیں توان سے مزید کیا توقعات وابستہ ہو سکتی ہیں حزب اختلاف پر نہیں حکومت پر اسمبلی کی کارروائی چلانے کی زیادہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے حکومتی اراکین کا بھی یہ عالم ہو تو اس پر افسوس کا اظہار ہی کیا جا سکتا ہے ۔توقع کی جانی چاہئے کہ حکومتی اراکین اسمبلی کو بالخصوص اور حزب اختلاف کے اراکین کو بالعموم اس امر کا احساس ہو گا کہ عوام نے ان کو غیر حاضر رہنے اور صرف اپنے استحقاق مجروح ہونے پر احتجاج اور اسمبلی میں تحریک استحقاق پیش کرنے کے لئے منتخب نہیں کیا بلکہ ان کی بڑی آئینی ذمہ داریاں ہیں ہر دو اراکین اسمبلی کو اس امر کا ادراک کر لینا چاہئے اوراسمبلی اجلاسوں میں شرکت یقینی بنانا چاہئے ۔