مشرقیات

''پکار رہی ہے سکول کی گھنٹی'' اس دل خوش کن نعرے کے ساتھ محکمہ تعلیم خیبر پختونخوا صوبے میں سکول نہ جانے والے آٹھ لاکھ بچوں کو سکولوں میں داخلہ کی مہم چلا رہی ہے مہم کی کامیابی کے لئے اساتذہ کو ذمہ داری تفویض ہوتی ہے خاص طور پر دیہات میں استانیاں جا کروالدین کو اپنے بچوں کو سکولوں میں داخلہ دلوانے کی ترغیب دیتی ہیں داخلہ مہم اچھی بات ہے لیکن سکولوں میں نام اندراج کرانے والے اور سکولوں میں داخل ہونے والے جوطالب علم بہت سی وجوہات کی بناء پر سکولوں سے بھاگ رہے ہیں سکول چھوڑ رہے ہیں ان کو روکنے کا کوئی ٹھوس بندوبست کیوں نہیں کیا جاتا بہت ساری اور باتیں ہو سکتی ہیں لیکن اصل اور نتیجہ خیز اس امر کا جائزہ لیا جائے کہ ''بچہ پڑھ کر کیا کرے گا'' اس کے جواب میں اس جواب کو ا یک طرف رکھتے ہوئے کہ تعلیم خہ شے دے بچے سکول کی بجائے ورکشاپ جاتے ہیں 'کباڑ جمع کرتے ہیں 'گھروں میںکام کرتے ہیں ' ریڑھی لگاتے ہیں اور ریڑھی والے کے ساتھ آواز لگانے کی مشقت کرتے ہیں طرح طرح کے چھوٹے موٹے کام کرکے خود کو اور اہل خاندان کو پالتے ہیں حکومت ان کو تعلیم دینا چاہتی ہے تو ان کے معاشی مسائل کا کچھ تو بندوبست کرے چلیں آگے چلتے ہیں کہ سرکاری تعلیمی اداروں میں داخل کم ہی بچوں کو یقین ہوتا ہے کہ وہ پڑھ لکھ کر کسی قابل ہو پائیں گے حالانکہ عملی طور پر ان کی شرح بہتر ہے اس کی وجہ ان کا اکثریت میں ہونا بھی ہے لیکن جب وہ صاف ستھرے یونیفارم میں نجی سکولوں کے طلبہ کو جاتے دیکھے ہیں تو احساس محرومی کا شکار ہوتے ہیں پرائیویٹ سکولوں کے بچے بھی کم ہی تیرمارتے ہیں زیادہ تر ماں باپ کے پیسے ہی ضائع کرتے ہیں۔ تعلیم اچھی چیز ہے تعلیم صرف حصول ملازمت کے لئے نہیں ہونی چاہئے اس دلیل والوں سے سوال ہے کہ عصری تعلیم آخرت کے لئے نہیں دنیا کے لئے حاصل کی جاتی ہے خیرمیٹرک اور انٹر تک کی تعلیم حاصل کرنا یا پھر اس کی سند کا ہونا اب مجبوری بن گئی ہے اس سطح تک آنے کے بعد جو طلبہ آگے نہ بڑھنے اور مختلف شعبوں میں پست سطح کی ملازمتیں تلاش کرتے ہیں وہ خسارے میں نہیں رہتے جو آگے بڑھنے کی جستجو میں لگ جاتے ہیں وہ کامیاب ٹھہرتے ہیں جو درمیاں میں لٹک جاتے ہیں وہ لٹکے ہی رہتے ہیں۔کیا ہمارے داخلہ مہم کے داعیوں کے پاس صرف سکول کی گھنٹی کو جو بچوں کو ویسے بھی بہت بری لگتی ہے اس نعرے کے علاوہ طلبہ کی نافع تعلیم و تربیت اور ان کے مستقبل کا بھی کوئی منصوبہ ہے یا پھر داخلہ رجسٹر بھرنے اور گھنٹی بجانے پر اکتفا کو کافی جانا جائے۔