پڑھی لکھی ماں!

آج کی پڑھی لکھی ماں اپنے بچوں کی تعلیم کے حوالے سے زیادہ فکر مند دکھائی دیتی ہے، اکثر مائیں اپنے بچوں کے تعلیمی مسائل کا ذمہ دار تعلیمی نظام، تعلیمی اداروں یا حکومت کو ٹھہراتی ہیں جبکہ حقیقت میں وہ خود ہی اپنے بچوں کی تعلیم کی ذمہ دار ہیں کیونکہ ماں ہی بچوں کی سب سے بڑی خیر خواہ ہوتی ہے، اگر ماں پڑھی لکھی ہے تو اس کا سب سے زیادہ فائدہ اس کی اپنی اولاد کو ہونا چاہیے، ماں اپنے بچوں کی تعلیم بارے لوگوں کے سامنے تو تحفظات رکھتی ہے مگر اپنی اولاد کو وقت دینے کیلیے آمادہ نہیں ہے اگر ماں موبائل اور غیر ضروری کاموں پہ توجہ دینے کی بجائے اولاد کو وقت دے، ان کی تعلیمی ضروریات کا خیال رکھے تو بچوں کی تعلیمی کارکردگی میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ تین دہائیاں قبل جب کسی گھر میں کوئی پڑا لکھا شخص ہوتا تو آس پاس کے بچے اس کے پاس پڑھنے کیلیے آتے، تب تعلیم کمرشل نہیں ہوئی تھی اور اکثر لوگ صدقہ جاریہ سمجھ کر بچوں کو مفت پڑھاتے تھے بلکہ پڑھنے والے بچوں کی حوصلہ افزائی کی جاتی تھی، اگر گھر کا کوئی شخص پڑھا لکھا ہوتا تو اس گھر کے بچے تعلیمی اعتبار سے دوسرے بچوں سے آگے ہوتے، مگر اب صورتحال مگر یکسر مختلف ہے۔
ہمارے ہاں عام خیال یہ ہے کہ موروثی طور پر باپ اور ماں دونوں سے بچوں کو ورثے میں ذہانت منتقل ہوتی ہے مگر حال ہی میں ہونے والی ایک تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ مخصوص جینز مختلف طریقے سے کام کرتے ہیں،ذہانت کا تعین کرنے والے جینز کروموسوم ایکس میں واقع ہوتے ہیں اور چونکہ خواتین میں2 ایکس کروموسومز جبکہ مردوں میں صرف ایک ہوتا ہے، تو بچوں میں ماں کی جانب سے ذہانت کی منتقلی کا امکان دوگنا زیادہ ہوتا ہے۔ تحقیق میں بتایا گیا کہ دوسری جانب باپ کے ذہانت کے جینز غیرفعال ہوجاتے ہیں۔ یاد رہے اس سے قبل 1994 میں میڈیکل ریسرچ کونسل سوشل اور پبلک ہیلتھ سائنسز یونٹ کی ایک تحقیق میں بچوں کی ذہانت یا آئی کیو، نسل، تعلیم اور سماجی اقتصادی حیثیت کو مدنظر رکھتے کہا گیا تھا کہ بچوں کی ذہانت کی پیشگوئی ماں کے آئی کیو سے کی جا سکتی ہے۔سائنسی خیالات سے قطع نظر منطقی طور پر بھی اس کی وضاحت ممکن ہے کہ دانشمند ماں ذہین بچوں کی پرورش کرتی ہے۔چونکہ ماں ہی بنیادی نگہداشت کرتی ہے تو وہی بچوں کی شخصیت کی تعمیر دماغ کی اہم ترین نشوونما کے دوران کرتی ہیں۔کہا جاتا ہے کہ بچوں میں موروثی طور پر ذہانت کا 40 سے 60 فیصد حصہ منتقل ہوتا ہے جبکہ دیگر کا انحصار دیگر عناصر پر ہوتا ہے۔
بچے عموماً زیادہ تر وقت بچہ اپنی ماں کے ساتھ گزارتے ہیں، اہم بات یہ کہ پیدائش سے لے کر پانچ سال کی عمر تک بچوں میں سیکھنے کی صلاحیت سب سے زیادہ ہوتی ہے۔ اس عمر میں بچے کو جو بھی سکھایا جائے اسے وہ بہت جلدی سیکھ جاتا ہے لہٰذا ہر ماں کو چاہئے کہ وہ اپنے بچے کی پرورش اس انداز سے کرے جس سے وہ ایک اچھا، سچا اور کامیاب انسان بنے، اس کی مکمل نشوونما ہو۔ بچے کی پرورش میں ماں کا کردار اس کسان کی طرح ہوتا ہے جو بیج کو پھلنے پھولنے کے لئے مناسب ماحول تیار کرتا ہے، اس کی کھاد پانی کی ضرورتوں کو پورا کرتا ہے۔ ٹھیک اسی طرح اگر آپ اپنے بچے کی اچھی پرورش کرنا چاہتی ہیں تو اسے تناؤ سے دور اور مثبت ماحول دیں، لیکن اس بات کا بھی دھیان رکھیں کہ اسے کسی بندش میں باندھنے کے بجائے اپنے طریقے سے آگے بڑھنے دیں۔ بچے کو خود مختار بنائیں تاکہ بڑا ہو کر وہ مشکلات کا سامنا کرسکے، اسے آپ کا ہاتھ تھامنے کی ضرورت پیش نہ آئے۔ آج کی ماں بچوں کی تعلیم و تربیت پر اپنی پریشانی لوگوں کے سامنے پیش کرتی ہے مگر اپنی ان عادات کو بدلنے کیلئے تیار نہیں جو عادات دھیرے دھیرے ماں سے بچے منتقل ہو رہی ہیں، اگر مائیں اپنے بچے کو اچھی تربیت دینا چاہتی ہیں تو اس کیلئے پہلے اپنی بری عادتوں کو تبدیل کریں کیونکہ بچہ وہی کرتا ہے جو اپنے آس پاس دیکھتا ہے۔ بچوں کو محبت بھرے لہجے میں سمجھانے کی کوشش کریں۔ بچے سے محبت کرنے کا یہ مطلب قطعی نہیں ہے کہ آپ اس کی ہر غیر ضروری بات مانیں۔ ہر بچہ اپنے آپ میں منفرد ہوتا ہے۔ اپنے بچے کا دوسروں سے موازنہ کرکے آپ اس کے اعتماد کو کمزور کرسکتی ہیں۔ اگر بچہ پڑھائی میں کمزور ہے تو اسے پڑھائی پر دھیان دینے کیلئے کہہ سکتی ہیں، لیکن غلطی سے بھی یہ نہ کہیں کہ فلاں لڑکا تم سے زیادہ ذہین ہیں۔بچوں کو فیصلہ کرنا سکھائیں، اگر آپ چاہتے ہیں کہ مستقبل میں آپ کا بچہ اپنے فیصلہ خود کرسکے تو ابھی سے اسے اپنے چھوٹے موٹے فیصلے خود کر نے دیں۔ خواتین بچوں کی تعلیم کے حوالے سے ایک غلطی یہ بھی کرتی ہیں کہ وہ باپ کو کوسنا شروع کر دیتی ہیں کہ باپ بچے کی تعلیم پر کوئی توجہ نہیں دے رہا، ایسا بالکل بھی نہ کریں کیونکہ باپ یہ توقع کر رہا ہوتا ہے کہ بچوں کی ذمہ داری ماں کی ہے، سو آج کی پڑھی لکھی ماں کو چاہئے کہ وہ ٹیکنالوجی کا مثبت اسعمال کر کے بچوں کی تعلیم پر خصوصی توجہ دے، کیونکہ وہ بچوں کی پہلی استاذ ہے۔