افغانستان کا طلسم

افغانستان کا طلسم

چند سوال ہیں جن کا جواب نہیں مل رہا۔ افغانستان کے کئی ماہرین ہیں۔ پاکستان ان کا پڑوسی ہونے کے سبب ماہر ہے۔ ایران کی بھی کم و بیش یہی کیفیت ہے۔ بھارت افغانستان کے معاملات کا ماہر ہے کیونکہ اس نے صرف وہاں سرمایہ کاری ہی نہیں کی بلکہ وہ افغانستان کے ذریعے پاکستان، ایران، چین ، امریکہ ، روس اور وسطی ایشیائی ریاستوں سب کے ساتھ ہی اپنے معاملات کو ایک مخصوص شکل دیتا رہا۔ چین افغانستان کا ماہر ہے کیونکہ بھارت اور امریکہ مل کر افغانستان میں اپنی موجودگی سے چین کے خلاف کسی طرح بھی فائدہ اٹھا سکتے تھے۔ امریکہ اس لیے ماہر تھا کیونکہ وہ ایک بہانے سے افغانستان آ بیٹھا تھا اور اس کے بے انتہا مفاات اس خطے سے وابستہ تھے۔ یہ ساری مہارتیں اس بات سے قطع نظر ہیں کہ اس سب سے پہلے بھی اور اس کے بعد ان گنت قوموں کو یہ محسوس ہو گا کہ وہ افغانستان کو پوری طرح سمجھتے ہیں اور اس کے بعد بھی ان گنت قوموں کو یہ محسوس ہو گا کہ وہ افغانستان کو پوری طرح سمجھتے ہیں اور اس کے بارے میں کوئی اپنی مرضی کا فیصلہ کر سکتے ہیں یا افغانستان میں اپنی سوچ ، اپنے ارادوں کے حساب سے کوئی تبدیلی کر سکتے ہیں لیکن وہ ہمیشہ غلط ہی ہوں گے۔ افغانستان کو قوموں کا قبرستان کیے جانے کی کئی وجوہات ہیں۔ افغان قوم اور افغان جغرافیے کی مہارت کبھی حاصل نہ کر سکنا ان وجوہات میں سے ایک ہے۔
تاریخ گواہ ہے کہ کسی بھی جنگ کے جیتے جانے کے لیے حریف کے بارے میں آگہی بہت ضروری ہے۔ وہ کون لوگ ہیں ، کسی خاص امر کے نتیجے میں کیا ردعمل دے سکتے ہیں۔ ان کے بنیادی کردار میں کون کون سی خصوصیات ہیں اور ان کے ساتھ معاملات کا طریقہ کار یا حکمت عملی کیا ہو سکتی ہے۔ دوسری اہم بات یہ ہے کہ اس علاقے کے جغرافیے اور اس جغرافیے کے نتیجے میں کسی بھی فوج کو کس حکمت عملی کی ضرورت ہے، سمجھ آنا بہت ضروری ہے۔ جب تک یہ دو بنیادی چیزیں معلوم نہ ہو۔ ان کے حوالے سے تیاری نہیں ہو سکتی اور تیاری کے بنا جنگ جیتنا ناممکن ہے ، خصوصاً ایسی قومیتوں کے لیے جہاں جذبے کے علاوہ ہر دوسری شے اہم ہے۔ یہ ایک ایسی جنگ تھی جس میں افغان خواہ کسی بھی بنیاد سے تعلق رکھتے تھے۔ پٹھان تھے یا فارسی بان ، ازبک تھے یا تاک یا کسی اور قومیت سے تعلق رکھتے تھے ، وہ تو اپنے ہی طور سے جنگ لڑنے کے عادی تھے، وہ ہر ایک جنگ کو خواہ اس میں کوئی بیرونی طاقت موجود ہو یا درون خانہ لڑائی ہو، ایک ہی طرح لڑتے ہیں اس لیے اپنے کام کے ماہر ہو چکے ہیں۔ ان کے کردار کے سارے پیچ و خم وہ خود جانتے ہیں اور انہیں وہ کسی طور پر استعمال کریں گے اس کی ہی کافی مہارت ہے۔ جغرافیہ بھی انہیں معلوم ہے اور اس جغرافیے کا بہترین استعمال انہیں آ چکا ہے کیونکہ کب سے تو وہ خواہش مند فاتحین کو شکست دیتے آ رہے ہیں۔ منگولوں نے ان پر 1219-1221کے درمیان حملہ کیا اور شکست کھائی ، مغل سلطنت 1383-1385کے درمیان انہیں زیر نگیں کرنے کی کوششیں کرتی رہی اور کامیاب نہ ہو سکی۔ سلطنت برطانیہ نے تین بار ان پر حملہ کیا ۔ اور بار بار شکست کھائی۔ دوسری جنگ عظیم کے وقت 1839-1842 کے درمیان حملہ کیا شکست خوردہ رہے، دوبارہ ہمت جمع کی 1878-1880کے درمیان جنگ کی اور بری طرح پسپا ہوئے، پھر 1919میں تیسری بار حملہ کیا اور اس بار بھی ناکام ہوئے۔ ان سے کسی دوسری سلطنت نے سبق نہ سیکھا۔ پہلے انہیں اپنا دوست بنایا اور پھر روس نے 1979میں افغانستان پر حملہ کیا۔ یہ جنگ دس سال جاری رہی اور اب امریکہ 2001ء میں طالبان کا بہانہ بنا کر آن وارد ہو اور 221میں بری طرح پسپائی کے بعد لوٹ رہا ہے۔ افغان قوم میں آج بھی کوئی تبدیلی نہیں اور تہذیبیں یہاں ملیامیٹ ہو گئیں۔
اس حوالے سے ہم روز تجزیے کرتے ہیں اور صرف ہم نہیں پوری دنیا اس بارے میں پریشان ہے ، متفکر ہے۔ وہ اس معمے کو سمجھنا چاہتے ہیں لیکن سمجھ نہیں پاتے۔ کبھی وہ اس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ افغان قوم بہت لالچی ہے ، اسے پیسے سے خریدا جا سکتا ہے، جنگوں کے نتیجے میں معلوم ہوتا کہ علاقائیت اور وطنیت کا اصل مفہوم اور اس کی حفاظت بھی انہی لوگوں پر ختم ہے۔ وہ حملہ آوروں کو آنے دیتے ہیں، ان سے فائدہ بھی اٹھا لیتے ہیں لیکن انہیں یہاں حاکم بھی نہیںہونے دیتے۔ وہ راستہ دیتے ہیں اور جب کوئی فرعون سمندر پار سے عین درمیان میں پہنچتا ہے ، پانی آپس میں مل جاتا ہے اور فرعون اپنی طاقت اور فوج سمیت وہیں غرق ہو جاتا ہے۔
امریکہ بھی ابھی اسی پریشانی کا شکار ہے کہ آخر اس کے ساتھ یہاں کیا ہوا۔ اس کی حکمت عملی ، اس کی تکنیکی صلاحیتوں اور اس کی دولت کے باوجود وہ ناکام کیسے ہو گیا۔ وہ نہیں مانے گا لیکن یہ ہی افغان قوم کا طلسم ہے۔ پاکستان آج تک سمجھ نہیں سکا کہ جس قوم کو ہم نے سالہا سال پناہ دی ، اسے سر آنکھوں پر بٹھایا وہ اپنے ملک واپس لوٹی تو ”مرگ بر پاکستان” کے نعرے کیوںلگاتی رہی۔ امریکہ کا اچنبھا ہمارے لیے حیرک ناک نہیں۔ حیرت ناک تو یہ بات ہے کہ امریکہ افغانستان طالبان کے ساتھ لڑنے گیا اور پھر ڈونلڈ ٹرمپ اور جوبائیڈن انہی طالبان سے مذاکرات میں کوششِ امن کرتے رہے۔ اور امریکہ جس نے داعش کو ، طالبان کے مد مقابل ایک طاقتور کے طور پر کھڑا کیا، اب اسی داعش کے خلاف یہ کہتا ہے کہ انہوں نے جو خود کش دھماکے کیے اس میں تیرہ امریکی فوج ہلاک ہو گئے۔ جوبائیڈن زار و قطار روئے کہ داعش کو معاف نہیں کریں اور حیرت انگیز بات یہ بھی ہے کہ خودکش ان امریکی فوجیوں تک کیسے پہنچے جب کہ حفاظتی نرغے میں یہ امریکی فوجی سب سے اندرونی حلقے میں ہوتے ہیں، ان کے باہر محافظین اور اس کے باہر گورکھے ہوا کرتے ہیں اور حیرت کی بات یہ بھی ہے کہ مرنے والوں کی نعشیں کہیں دکھائی نہ دیں۔ یہ ساری باتیں ایک ساتھ طلسم ہوشربا میں ہی ہو سکتی ہیں۔