دہشت گردی کا دوسرا واقعہ اور طالبان کی ذمہ داری

ایک عام خیال یہ تھا کہ افغانستان میں طالبان کی آمد کے بعد بھارتی ریشہ دوانیوں کے مراکز کے خاتمے اور صورتحال پر طالبان کے کنٹرول سے سرحدی و علاقائی امن میں بہتری اور استحکام آئے گا طالبان افغانستان میں قدم جمانے کی تگ و دو میں ہیں ان سے اس وقت سرحدی علاقوں کو پرامن بنانے اور سرزمین کو کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہ ہونے دینے کو یقینی بنانے کی توقع قبل از وقت ہے البتہ بھارت کے افغانستان سے بوریا بستر لپیٹ کر رخصتی سے سرحدی حالات میں بہتری کی جو توقع تھی اس حوالے سے بھی حوصلہ افزاء امور ابھی سامنے نہیں آئے بہرحال ایسا لگتا ہے کہ طالبان کی ساری توجہ کابل اور پنج شیر کے محاذ پر ہے اور سرحدی علاقوں پر اچھے طالبان ساتھیوں کی کمک میسر آنے کے باوجود بھی ابھی طالبان سرحدی علاقوں میں اس پوزیشن میں نہیں آسکے ہیں کہ وہ اپنی سرزمین کو وعدے کے مطابق کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال ہونے سے روکنے کو یقینی بنا سکیں کابل کے حالات اور وہاں پر خود کش حملہ دھماکہ اور ڈرون حملے سے وہاں بھی طالبان کے کنٹرول اور استعداد پر سوال اٹھنا فطری امر ہے ہم سمجھتے ہیں کہ حکومت میں آنے کے بعد کا وقت جدوجہد کے وقت سے کہیں زیادہ باعث چیلنج ہوتا ہے جس سے قطع نظر طالبان کی آمد کے بعد سے اب تک پاکستانی سرحد پر دہشت گردوں کی جانب سے دو بارحملے کئے گئے تازہ واقعہ میں افغان سرزمین سے دہشت گردوں نے باجوڑ میں فوجی چوکی پر فائرنگ کی جس سے2سپاہی شہید ہوگئے جبکہ جوابی کارروائی میں3دہشت گرد بھی ہلاک ہوگئے۔پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق دہشت گردوں نے افغان علاقے سے باجوڑ میں فوجی چوکی پر فائرنگ کی جس کا فوجی جوانوں نے بھرپور جواب دیا۔ پاکستان دہشت گردوں کی طرف سے افغان سرزمین کے استعمال کی شدید مذمت کرتا ہے اور توقع کرتا ہے کہ افغانستان میں موجودہ اور مستقبل کا سیٹ اپ پاکستان کے خلاف ایسی سرگرمیوں کی اجازت نہیں دے گا۔ٹی ٹی پی کی قیادت اگرچہ افغان طالبان قیادت کے ہاتھ بیعت کر چکی ہے لیکن اس کے باوجود ٹی ٹی پی نے ابھی پاکستان سے مذاکرات یا پھر افغان سرزمین سے پاکستان کے خلاف کارروائی نہ کرنے کی ضمانت نہیں دی ہے اور نہ اس کا اعلان کیا ہے ایسے میں افغان طالبان پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اس حوالے سے اپنی ذمہ داریوں پراولین فرصت میں توجہ دے کر اسے یقینی بنائیں یا پھر افغانستان سے پاکستان مخالف عناصر کوبے دخل کریں۔ بار بار کی سرحدی خلاف ورزیاں اور حملے جاری رہے تو پھر پاکستان کے پاس آگے بڑھ کر کارروائی پر مجبور ہونے کے او ر کوئی چارہ کار باقی نہ رہے گا اور یہ کوئی اچھی صورت نہ ہو گی ۔ اگرچہ سرحد پر اونچی باڑاور خندقیںکھود کر بڑی حد تک محفوظ بنایا گیا ہے اور جدید نظام سے نگرانی کا عمل بھی ہے لیکن اس کے باوجود طویل سرحد پر دہشت گردی کی وارداتوں کی مکمل روک تھام اسی وقت ہی ممکن ہو گا جب سرحد کے اس پار بھی حفاظتی اقدامات اور نگرانی کا عمل یقینی بنایا جائے۔طالبان کو چاہئے کہ وہ پاک افغان سرحد کے پر خطر مقامات پرنگرانی اور گشت کا عمل مربوط بنانے پر توجہ دیں اور اندرون ملک ایسے عناصر جو سابق افغان حکومت میں رہے ہوں اور ان کا عمل مشکوک ہویا پھر بھارت کے تربیت یافتہ عناصر اور اس کے حامیوں کے جتھوں پر کڑی نظر رکھیں اوران کی کسی ممکنہ درون مملکت اور بیرون مملکت کا رروائیوں کو بروقت ناکام بنائیں علاوہ ازیں داعش کے خلاف بھی اب طالبان کو متحرک ہونا پڑے گا۔ طالبان کابل میں باقاعدہ حکومت کے قیام اور سرحدی امور پر جتنا جلد توجہ دے سکیں بہتر ہوگا۔ پاکستان کے سرحدی علاقوں کے تحفظ کے حوالے سے پاکستان اپنی ذمہ داریوں سے ضرور آگاہ ہے اس کے باوجود اگر کہیںمعاملات کی مزید بہتری کے تقاضے جائزے میں سامنے آئیں تو اقدامات میں تاخیر نہ کی جائے نیز سرحدی علاقوں میں ممکنہ خطرات کا ادراک اور سرحدی علاقوں کے عوام سے بھی ایک مرتبہ پھر اعانت اور روابط کو مستحکم بنانے کی ضرورت اس لئے بھی ہے کہ ابھی حالات بہتری کی طرف نہیں بلکہ مشکلات اور خرابی کا عندیہ دے رہے ہیں جس کے پیش نظر پوری تیاری اور مستحکم اقدامات کی ضرورت ہے۔