مشرقیات

موسم سہانا ہو گیا ہے فی الحال،شدید گرمی کے دوران جب موسم انگڑائی لیتے ہوئے ٹھنڈی ہوائوں کے ساتھ برکھا رت بھی لے آئے تو دل میں جوان رتوںکا بسیرا بھی ہوجاتا ہے۔کسی کو بھولے بسرے گیت یا د آنے لگتے ہیں تو کوئی اپنی جوانی کے ان دنوں کو یا د کرنے لگتا ہے جب ایسے موسم میں بلاوجہ یا ر بیلیوں کے ساتھ کہیں بھی مٹر گشت کرنے کو دل مچل جایا کرتا تھا،ایسے لوگ بھی ہیں جو ساون کی گھٹا چھاتے ہی ہلے گلے کا کوئی موقع تلاش کرنے چل پڑتے ہیں ،کچھ لوگ برکھا رت کو باورچی کھانے میںکسی مخصوص سوغات کے ساتھ منانے کے بھی عادی ہیںتو بہت سے ایسے بھی ہیں جو رم چھم برستی بارش میںپھلوں کے بادشاہ کی سنگت میں بھیگنا پسند کرتے ہیں۔رہے بچے تو بدن کا اوپری جامہ پھینک کر گلیوں سڑکوںپر جمع پانی میں اچھل کود سے برساتی موج کا مزہ ہم سب نے کسی نہ کسی صورت لے رکھا ہے۔گو کہ یہ موسمی کیفیت عارضی ہوتی ہے تاہم اس کا ایک مستقل نشہ ہوتا ہے جو اگلے برس کی برسات تک من چلے دل کو بے چین رکھتا ہے۔ایسے ہی موسم ،برکھارت یا رم جھم برستی بارش کے دوران دل میں امنڈتے جذبات کو شاعرانہ رنگ ڈھنگ میں بیان کیا گیا ہے تو کئی سدا بہارنغمے ،غزلیں اور گیت وجود میں آئے۔ان نغموں اور گیتوںنے اپنے گانے والے گلوکاروں کو بھی مقبولیت عامہ بخشی۔بھلا کون بھول سکتاہے ناہید اختر کے گائے اس گیت کو ،
آئے موسم رنگیلے سہانے
جیانہیں مانے
تو چھٹی لے کے آجا ساجنا
آپ نے پروین شاکر کی نسوانی جذبات کو بیان کرتی شاعری پڑھ رکھی ہے تو ساتھ ہی انکی یہ مختصر مگر جامع حال دل بیان کرتی نظم سے بھی آپ بخوبی واقف ہوں گے
میںکیوں اس کو فون کروں
اس کے بھی تو علم میں ہوگا
کل شب
موسم کی پہلی بارش تھی
یا پھر ان کا یہ شعر
اب بھی برسات کی راتوں میں بدن ٹوٹتا ہے
جاگ اٹھتی ہیںعجب خواہشیں انگڑائی کی
یہ خواب وخیال کی باتیں نہیں ہیں اب بھی ایسا ہی ہے مسئلہ یہ ہے کہ موسم کی انگڑائی کے ساتھ ہم نے اپنے دل کی بدلتی کیفیت کو بھول کر بارش برستے ہی بجلی کے غائب ہوجانے پر نظر رکھی ہوئی ہے یا پھر ایسے موقع کو نکاسی آب کے نظام کی قصیدہ خوانی کی نذر کر دیتے ہیں۔سو باتوںکی ایک بات کہ اپنی تمام امنگوںکو منفی اور مصنوعی جذبات کے ریلے کے سپرد کر دیتے ہیں۔حقیقی جذبات کے اظہارکے موسمی موقع سے ہم فائدہ کم ہی اٹھاتے ہیں۔