یکساں نصاب اور بہتر نظامِ تعلیم

وزیراعظم نے لاہور میں ایجوکیشن کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ماضی میں کسی نے تعلیم کی بہتری پر توجہ نہیں دی، طبقاتی نظام تعلیم نے معاشرے کو تقسیم کردیا،انگلش میڈیم میں ذہنی غلامی اورملک کے نیچے آنے کی بڑی وجہ تعلیمی نظام ہے۔ یکساں تعلیمی نصاب کو موجودہ حکومت کی سب سے بڑی کامیابی قرار دیتے ہوئے اُنہوں نے کہا کہ اس سے آنے والے وقت میں بہت فائدہ ہوگا۔اپنے قوم کے بچوں کی اعلیٰ تربیت کے لیے بہتر تعلیمی نظام کے ساتھ اُنہوں نے حضرت محمد ۖ کی شخصیت کے مطالعہ اور تعلیمات پہ عمل کرنے کی خصوصی ہدایت دی۔
یہ بات سب جانتے ہیں کہ اقوام و افراد کی ترقی کا انحصار علم و تعلیم پر ہے۔ اس لیے دُنیا بھر میں ہر معاشرہ کی یہ کوشش رہتی ہے کہ ان کا نظامِ تعلیم بہتر ہو اورمُلکی تعمیر و ترقی میں اس سے بھر پور استفادہ کیا جا سکے۔ جب ہم اپنی تعلیمی صورتحال کا جائزہ لیتے ہیں تو یہی ایک سوال پریشان کیے دیتا ہے کہ ہماری تعلیم ہمارے کام کیوں نہیں آرہی ؟اس کے باوجود کہ ایک عرصہ سے ہمارا تعلیمی نصاب ترقی یافتہ مغربی ممالک کا مرہونِ منت رہا ہے اوریہاں تک کہ اب بہت سے اداروں میں وہی کتابیں پڑھائی جارہی ہیں اورہم اپنے بچوں کو مغربی مصنفین کی کتابوں سے اخذ کردہ مضامین پڑھا رہے ہیں مگر بہتر نتائج حاصل نہیں ہو رہے کہ ہم غور وفکر کی بجائے محض تقلید کرنے کے عادی بن چکے ہیں۔ ہماری حکومتوں کی ناقص پالیسیاں ہی دراصل تعلیمی پسماندگی کی اصل وجہ ہیں۔عوام کی پُرزور مخالفت کے برعکس طبقاتی نظامِ تعلیم موجود ہے ۔تعلیمی ڈھانچہ میں غیر پیشہ ورانہ افراد کی کثیر تعداد ہمارے تعلیمی نظام کے نقصان کا باعث بن رہی ہے۔ وزیر اعظم صاحب بالکل بجا کہتے ہیں مگر اب اُنہیں یہ بھی دیکھنا چاہیے کہ ہمارے تعلیمی ادارے مالی مسائل سے کیوں دوچار ہیں اور سیاسی مداخلت سے تعلیمی درسگاہوں کا ماحول کس قدر خراب ہو چکا ہے۔ کیا تعلیمی شعبہ میں موجود مافیا اور منسٹری میں بیٹھے بابو جو نئے تعلیمی منصوبوں پہ غیر مُلکی امداد لٹانے کو ہمہ وقت تیار ہوتے ہیں، اس نظام میں یکساں نصاب کے اطلاق کی اہلیت رکھتے ہیں۔ اس سے کہیں زیادہ یہ جاننا بھی ضروری ہے کہ وزیر اعظم کے یکساں نصاب کے پیشِ نظر ہمارا تصورِ تعلیم کیا ہے؟اور ہماراتصورِ انسان کیا ہے؟اگر ہم اپنے ماضی کی تاریخ اور موجودہ ترقی پذیر دور کے تقاضوں کا مشاہدہ کریں توتعلیم کے عام طورپر دومقاصدواضح نظر آتے ہیں۔پہلا مقصد تو یہ ہے کہ کسی معاشرے کے مخصوص تہذیبی پس منظر میں جنم لینے والے تصورِ انسان کو کس طرح قابلِ عمل سمجھا جاتا ہے۔ دوسرا مقصد ایسے ماہرین کی تیاری لازمی ہے جو ملک اور معاشرے کی مادی تعمیر و ترقی کی ضمانت ہوں۔
ہمارے سماجی ادارے اور تمدنی میراث ہی اپنے معاشرہ میں ایک بہتر انسان کی نشو ونما کرتے ہیں اورریاست کا نظامِ تعلیم اس میں معاون ہوتا ہے۔ ہاں ماہرین کی تیاری اور جدید خطوط پر مُلک کو ترقی یافتہ بنانا ریاستی نظامِ تعلیم کی مرہون منت ہے۔ ہم ایک مسلم معاشرہ میں رہتے ہیں ، اپنی مسلم تہذیبی روایت کے محافظ ہیںاور ہمارے تمام سماجی اداروں کی یہ کوشش رہتی ہے کہ ہماری نسل اپنی تہذیب کی نمائندہ و وارث بنے۔ یہ ضروری ہے کہ ہمارا نظامِ تعلیم ایسا
ہو جواس کام میں سماج کی معاونت کرسکے۔ اب تک جو نصاب اور نظام تشکیل دیا جا چکا ہے ، اس کے نتائج اطمینان بخش نہیں ہیں۔ اس کی ایک وجہ تو سماج کا غالب تصورِ مذہب ہے۔ اور پھر ریاست بھی تعلیم کواپنی دسترس میں رکھتی ہے جس سے طلباکی قابلیت متاثر ہوتی ہے اور ہم آزادانہ سوچ پیدا کرنے سے محروم رہتے ہیں۔ بچے کی شخصیت سازی کے لیے اس کے گھر اور تعلیمی درسگاہ کی تعلیم بڑا اثر رکھتی ہے ۔ ان دونوں اداروں کی باہمی معاونت بہتری کی ضمانت ہے۔ کسی مُلک کو ترقی یافتہ بنانے میں مختلف علوم کے ماہرین کی ازحد ضرورت ہوتی ہے کہ یہی لوگ آنے والے وقت میں ملک وقوم کی تعمیر و ترقی کی ذمہ داری اٹھاتے ہیں۔ اس حوالہ سے ہمارا نظامِ تعلیم ایسا ہو کہ ایک طالب علم اپنی صلاحیتوں سے مختلف خیالات اورنئے دنیاوی تقاضوں کو سمجھ کران میں انتخاب کر سکے۔ یہ نظریاتی تعلیم کا نہیں، پیشہ ورانہ اور علمی تربیت کا درجہ ہے۔اس لیے موجود ہ صورتحال میں ضروری ہے کہ ابتدائی تعلیم یکساں کردی جائے اور مسلم بچوں کو ان کی مذہبی اور تہذیبی روایت سے وابستہ رکھنے کا اہتمام کیاجائے۔ اعلیٰ تعلیم کو پوری طرح پیشہ ورانہ انداز میں ترتیب دیا جائے اور اعلیٰ درجے کے ماہرین تیار کیے جائیں۔اگر ہماری حکومت واقعتا تعلیمی نظام میں اصلاح کرنے اور تعلیم کا معیار بہتر کرنے میں سنجیدہ ہے تو ایسے اقدامات کی ضرورت ہے جو صرف اعلیٰ تعلیم کے حصول سے متعلقہ ہوں۔یکساں نصاب کی تیاری اور اس کے یقینی نفاذ پر سختی سے کاربند رہنے کا مکمل اہتمام ہو۔درسگاہوں اور اساتذہ کا معیار مثالی ہو۔ اب بھی اگر ایسا نہیں ہوتا اور ان اعلانات کے پیچھے کچھ دیگر ارادے ہوں یا اس کے اطلاق میں مجبوری آئے تو پھر نظامِ تعلیم میں کسی تبدیلی یا بہتری کا کوئی امکان نہیں۔