ہزاروں افغان مہاجرین

ہزاروں افغان مہاجرین کی پاکستان آمد

ویب ڈیسک : بی بی سی رپورٹ کے مطابق طالبان کے افغانستان پر قابض ہونے کے بعد ہزاروں لوگ خوف کے مارے اپنے گھروں سے نکل کر ہجرت کرنے لگے ہیں ۔ اس وقت پوری دنیا کی توجہ کابل کے ہوائی اڈے پر جمع ہجوم پر مرکوز ہے ، لیکن ہزاروں دیگر لوگ چمن بارڈر پر پڑوسی ملک پاکستان کی طرف بھاگ رہے ہیں۔

چمن سپن بولدک بارڈر پاکستان اور افغانستان کے درمیان مصروف ترین گزرگاہوں میں سے ایک ہے جہاں روزانہ ہزاروں تاجر اور مسافر اس خاک آلود قصبے سے گزرتے ہیں،لیکن ان دنوں ٹریفک خاص طور پر افغانستان کی طرف سے زیادہ ہے کیونکہ ہزاروںلوگ طالبان کے ممکنہ ظلم و ستم سے بھاگ رہے ہیں۔صبح سے شام تک سینکڑوں مرد جن کے کندھوں پر سامان ہوتا ہے ، برقع پوش خواتین اپنے مردوں کے پیچھے تیزی سے چلتی ہوئی ،چھوٹے چھوٹے بچے اپنی ماوں سے چمٹے ہوئے،سخت گرمی میں تھکے ہارے اور یہاں تک کہ مریضوں کو بھی کندھوں پر اٹھائے ہوئے پاکستان کی طرف رواں دواں ہے۔

پاکستان کی طرف ہجرت کرنے والی ایک57 سالہ خاتون زرقون بی بی جو کہ اقلیتی ہزارہ برادری سے تعلق رکھتی ہیں ،ان کاکہنا تھا کہ" ہزارہ گروپ ماضی میں طالبان کی طرف سے ظلم و ستم کا شکار رہا ہے،حال ہی میں ان کے کمیونٹی کے کچھ افراد پر وحشیانہ حملے نے ان خدشات کو جنم دیا کہ ان کے لیے طالبان کی حکمرانی کیسی ہوگی،ان کا کہنا تھا کہ"وہ چند سال قبل ہزارہ برادری کو نشانہ بنانے والے طالبان کےبم دھماکےمیں اپنی بہو کو کھو چکی ہیں اورنہیں چاہتی کی اپنے خاندان کا کوئی اور فرد کھو دے،لیکن اس وقت انہیں سب سے زیادہ فکر اپنے اکلوتے بیٹے کی ہو رہی کہ وہ کہا ہوگا۔

کیونکہ وہ ایک برطانوی کمپنی میں کام کرتا تھا،اور طالبان کے قابض ہوتے ہی خوف کے مارے ملک سے بھاگنا چاہتا تھا،"انہوں نے مزید کہا کہ"طالبان بہت خطرناک لوگ ہیں اور وہ ان سے بہت ڈرتی ہے"۔

قندھار سے تعلق رکھنے والے ایک مزدور عبید اللہ نے بھی بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی طرف بھاگنے کا فیصلہ اس لیے کیا کیونکہ "وہاں کاروبار تباہ ہو چکا ہے،کوئی حکومت نہیں ہے،معیشت بھی مکمل تباہی کا شکار ہے"۔انہوں نے کہا کہ"اس وقت قندھار میں امن و امان کی صورتحال تو نارمل ہے،لیکن کام نہیں ہے،"میں نے پاکستان اس لیےہجرت کی کہ مجھے کوئی کام مل جائے،"میں شاید یہاں پر رکشہ چلاں لوں۔

دریں اثنا،طالبان اپنے قبضے کے بعد سے زیادہ سنجیدہ تصویر پیش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں،پاک افغان بارڈر پر طالبان کے ایک سپاہی نے موقف ظاہرکیا کہ"افغانستان میں اب مکمل طور پر امن ہے اور غیر ملکی قابض افواج کے ملک سے نکلتے ہی افغان عوام کا صدمہ بھی ختم ہو جائے گا،"اس وقت صرف تھوڑی سی اعتماد کی کمی ہے،لیکن لوگ جلد ہی جان لیں گے کہ ہمارا مقصد وہی ہے جو ہم نے افغان عوام سے وعدہ کیا ہے"۔

اس بار کے طالبان بالکل مختلف طریقے سے کام کر رہے ہیں"،لیکن جو لوگ ماضی میں طالبان کے ہاتھوں متاثر ہوئے تھے وہ ابھی بھی اعتماد کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں اور ملک سے بھاگنا جاہتے ہیں۔

دوسری جانب پاکستانی حکام بھی کہتے ہیں کہ پاکستان پہلے سے ہی لاکھوں افغانیوں کی میزبانی کر رہا ہے ۔1980 کی دہائی میں جب سوویت یونین نے افغانستان پر حملہ کیا تو لاکھوں افغانی ہجرت کر کے پاکستان آئے تھے ، تاہم پاکستان اب ایک اور آمد سے نہیں نمٹ سکتا "۔اس لیے اس بار سرحدوں پر پناہ گزین کیلئے کیمپ لگائے جائیں گے اور ان کو پاکستان کے شہروں میں جانے کی اجازت نہیں ہوگی۔