Mashriqyat

مشرقیات

نپولین (1769-1821ء )جب پہلی قید کے بعد جزیرہ البا (Elba)سے بھاگا تو اس کے ساتھ اس کے وفادار سپاہیوں کی ایک مختصر سی جماعت تھی۔ اس معزول تاجدار کے عزائم یہ تھے کہ وہ فرانس کے تخت پر دوبارہ قبضہ کرے۔ مگر پہلے ہی معرکہ میں اس کو فرانس کے 20ہزار جوانوں کا سامنا کرنا پڑا۔
نپولین دنیا کے انتہائی بہادر انسانوں میںسے ایک ہے ۔ مگر اس نے ایسا نہیں کیا کہ اپنی فوجی کمی کا لحاظ نہ کرتے ہوئے حریف سے ٹکرا جائے۔ جب دونوں فریق آمنے سامنے ہوئے تو وہ اکیلا بالکل غیر مسلح حالت میں اپنے جماعت سے نکلا اور نہایت اطمینان کے ساتھ فریق مخالف کی صفوںکے سامنے جاکھڑا ہوا۔ اس نے اپنے کوٹ کے بٹن کھولے اور اپنے سینے کو ننگا کر دیا۔ اسکے بعد جذباتی انداز میں اپنے مخالف سپاہیوں سے’ جن میں سے اکثر اس کے ماتحت رہ چکے تھے ‘ خطاب کر کے بولا:
”تم میں سے کون ہے جو اپنے باپ کے ننگے سینے پر فائر کرنے کے لیے تیارہو۔”
اس کا اثر یہ ہوا کہ ہر طرف سے ”کوئی نہیں ‘ کوئی نہیں” کی آوازیں بلند ہونے لگیں۔ تمام سپاہی مخالف جماعت کو چھوڑ کر نپولین کے جھنڈے کے نیچے آ گئے۔ نتیجہ ظاہر ہے۔ نپولین اپنی بے سرو سامانی کے باوجود فاتح ہوا۔ اس نے ملک فرانس کے تخت پر دوبارہ قبضہ کر لیا۔ حالانکہ اس وقت وہ جس بے سرو سامانی کی حالت میں تھا’ اس کے ساتھ اگر وہ فرانس کی فوجوں سے لڑ جاتا تو میدان جنگ میں شاید اس کی لاش تڑپتی ہوئی نظر آتی۔ آدمی کے پاس کتنا ہی ساز و سامان ہو لیکن خطرہ پیش آنے کی صورت میں اگر وہ گھبرا اُٹھے تو اس کے اعصاب جواب دے جائیں گے۔ وہ اس قابل نہیں رہے گا کہ صورت حال کے بارے میں سوچ اور مقابلہ کے لیے اپنا منصوبہ بنائے۔ اس کے برعکس اگر وہ خطرہ کے وقت اپنے ذہن کو حاضر رکھے تو بہت جلد ایسا ہوگا کہ وہ خطرہ کی اصل نوعیت کو سمجھ لے اور اپنے ممکن ذرائع کو بروقت استعمال کر کے کامیاب رہے ۔ تاریخ میں بار بار کم تعداد اور کم طاقت والوں نے زیادہ تعداد اور زیادہ طاقت والوں نے زیادہ تعداد اور طاقت والوں پر کامیابی حاصل کی ہے’ اس کی وجہ یہ ہے کہ دشمن اس سے بہت کم طاقتور ہوتا ہے جتنا کہ وہ بظاہر دکھائی دیتا ہے۔ اس دنیا کا نظام کچھ اس ڈھنگ پر بنا ہوا ہے کہ کوئی شخص یا گروہ خواہ کتنا ہی طاقتور ہو جائے اس کے اند رکوئی نہ کوئی کمزوری موجود رہتی ہے ۔ اسی کمزوری کو استعمال کرنے کا نام دشمن پرفتح حاصل کرنا ہے۔ کسی شخص کی واحد طاقت اس مخالف کے فریق کی کمزوری ہے اور یہ طاقت ہمیشہ ہر ایک کو حاصل رہتی ہے۔ بشرطیکہ وہ اس ہوشیاری کا ثبوت دے سکے کہ وہ اپنے حریف کی کمزوری کو استعمال کرنا جانتا ہے۔