بھارت کے شامت اعمال

افغانستان میں بڑی تبدیلی آنے کے بعد دنیا میں سب سے زیادہ تکلیف جس ملک کو ہو رہی ہے اس کا نام بھارت ہے ۔ بھارت کے بعد افغانستان میں امر اللہ صالح اور اس جیسے دیگر کچھ عاقبت نااندیشوں کا ہے جن کوآج نہ نیند اچھی آتی ہے اور نہ کھانا پینا مزہ دیتا ہے اس قبیل کے کچھ لوگ اپنے وطن عزیز میں بھی ہیں ' وہ بھی شدید کرب میں مبتلا ہیں۔
بھارت نے امریکہ کی افغانستان میں موجودگی سے جو فوائد سمیٹے ' اس میں اس کوئی مادی یا معاشی فائدہ نہ تھا ' لیکن پاکستان کو زک ونقصان پہنچانے کا جو موقع اسے یہاں ملا تھا ' یہ اسے بلی کے بھاگوں چھینکا ٹوٹے کے مصداق ملا تھا۔ ویسے تو بھارت نے 1947ء (قیام پاکستان) سے لیکر آج تک ایسا کوئی موقع ضائع ہونے نہیں دیا جس کے ذریعے پاکستان کو جانی ' مالی اور جغرافیائی اور عدم استحکام کے حوالے سے نقصان پہنچایا جا سکتا تھا۔ 1971ء میں بھارت کے منہ کوجو خون لگا اس کا ذائقہ وہ بھولنے نہیں پارہا۔ پاکستان کے دو لخت ہونے کے اس واقعے کو بھارت اپنے سینے پر ایک تمغے کے طور پر سجائے ہوئے ہے اور اپنی نئی نسلوں اور افواج کو اور آر ایس ایس جیسی دہشت گرد تنظیموں کو بطور نصاب بہت فخر کے ساتھ پڑھاتا ہے حالانکہ اس میں بھارتی سور مائوں کی کوئی خاص بہادری وہادری نہیں تھی۔ اس میں مغربی پاکستان کے سیاستدانوں کی غلطیاں اتنی زیادہ تھیں کہ بنگالیوں کو مکتی باہنی بننے پر مجبور ہوناپڑا۔ بھارت نے افغانستان میں ایک دفعہ موقع پر اسی طرز پر بلوچستان میں تخریب کاری اور دہشت گردی کی منصوبہ بندی کی اور افغانستان کے ہر بڑے شہر اور بالخصوص پاکستان کی سرحدوں سے متصل شہروں میں اپنے قونصل خانے میں را کے ایجنٹوں کو بھر دیا پاکستان کے کچھ موقوف ' کچھ مادی حرص کے مارے اور کچھ خواہ مخواہ کے قوم پرست و انقلابی ' نوجوان ان کے ہاتھوں میں گرے تو ان کو پاکستان کے خلاف کام کرنے اور پروپیگنڈہ مشین کے طور پر استعمال کرنا شروع کیا۔ افغانستان کی افواج کو فوجی تربیت کے بہانے وہاں لے کر ان کے دل و دماغ میں پاکستان کے خلاف بغض و نفرت بھرنے کی ہر ممکن کوشش کی۔اللہ تعالیٰ کی شان اور قدرت بہت بلند اور عظیم ہے کسی کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ ایک دن ایسا بھی آئے گا کہ بھارت کے سفارت کار ' جاسوس اور افغانستان کی ترقیاتی کاموں کی آڑ میں پاکستان دشمنی میں جتے لوگ یوں اپنا سفارت خانہ اور قونسصل خانے ایسی افراتفری میں چھوڑیں گے کہ اپنی جانیں بچانے کے خوف پاکستان کے خلاف استعمال ہونے والا بہت خفیہ وکانفیڈنشنل دستاویزات اور آلات ' طالبان کے ہاتھوں لگ کر پاکستان کو اس کی ا طلاع ہو گی۔
آج کل اس خوف اور ڈر سے کہ گزشتہ دو دہائیوں سے بھارت دنیا بھر میں پاکستان کے خلاف پروپیگنڈہ کرتا رہا ہے کہ یہ ملک دہشت گردوں کی سرپرستی کرتا ہے ۔ آج دنیا کے سامنے ناقابل تردید ثبوتوں کے ساتھ عنقریب ایسا مواد سامنے آئے گا کہ اصل دہشت گرد بھارت ہی ہے جو اس خطے میں امن کے خلاف تحریکوں اور دہشت گرد تنظیموں کی ہر طرح سے مدد کرتا رہا ہے ۔
پاکستان گزشتہ ستر برسوں میں جو کچھ بھی کرتا رہا ہے صرف اپنے دفاع میں کرتا رہا ہے ۔ کسی زمانے میں اگر افغانستان کے حوالے سے سٹرٹیجک ڈیپتھ کا نظریہ تھا بھی تو اس حکومت نے تو ببانگ دہل اسے قطع کرتے ہوئے افغانستان اور خطے میں اپنا کردار صرف اور صرف امن کے ساتھ نتھی کر لیا ہے ۔ اس کا ثبوت موجودہ صورتحال میں پاکستان کا کہ وہ اپنے ہوائی بیڑے کے ذریعے غیر ملیکوں کو کابل ایئر پورٹ سے انخلاء کرانے میں بھر پور مدد کر رہا ہے ۔ جبکہ بھارت اب بھی پنج شیر والوں کو ا سلحہ کے جہاز بھیج رہا ہے بھارت صبح و شام اپنی میڈیا کے ذریعے پاکستان اور افغانستان کے طالبان کے خلاف زبردست ہائبرڈ وار میں مصروف ہے لیکن اب حالات بدل چکے ہیں بھارت جو پاکستان کے لئے ہر راہ میں اندھا کنواں کھودتا رہا اور ہرگھات پر مورچہ بناتا رہا ۔ اپنے سفلی اعمال کے نتائج بھگت رہا ہے اس کے اینکر جب طالبان کو انڈین ہیلی کاپٹر کے ساتھ موٹر سائیکل پر بیٹھے ویڈیو وائرل کروا رہے ہیں اور اس کے جنگی جہاز ان کے قبضے میں چلے گئے ہیں تو ان کے جلنے مرنے اور کڑھنے کی کوئی حد نظر نہیں آتی۔ اس وقت ان کو ایک بہت ہی بڑا صدمہ یہ پہنچ رہا ہے کہ طالبان کے پاس 80 بلین ڈالرز کا جدید ترین سوفیسٹیکٹڈ اسلحہ آگیا ہے ۔ ان کو خطرہ ہے کہ کہیں یہ ٹیکنالوجی پاکستان کے ہاتھ لگ گئی تو پھرکیا ہو گا کیونکہ پاکستانی نقل بمطابق اصل بنانے کے بہت ماہر ہیں۔ لیکن بھارت اب اپنے شامت اعمال سے بچ نہیں سکتا(ان شاء اللہ) کیونکہ جو دوسروں کی راہوں میں کانٹے بچھاتا یا کنویں کھودتا ہے آخر کار وہ اس میں خود گرتے ہیں۔