fierce fighting continues in Panjshir

مذاکرات ناکام،پنجشیرمیں شدید لڑائی جاری

ویب ڈیسک:(کابل)طالبان کے شعبہ دعوت ارشاد کے سربراہ امیرخان متقی نے کہا کہ پنجشیر کی مزاحمتی رہنمائوں کے ساتھ ان کے مذاکرت ناکام ہوگئے ہیں جس کے بعد وادی پنجشیر اور اس سے ملحقہ صوبہ بغلان کے کئی اضلاع میں شدید جنگ کی اطلاعات موصول ہور ہی ہیں۔
افغان ذرائع ابلاغ کے مطابق طالبان اور مزاحمتی فورسز کے درمیان اندراب،خاوگ،گل بہار اور جبل السراج کے علاقوں میں جنگ چھڑ گئی ہے ۔

افغان میڈیا چینل طلوع نیوز کے پریزینٹر مسلم شیرزاد نے ایک ٹویٹ میں بتایا ہے کہ پنجشیر میں طالبان مخالف مزاحمتی فورسز نے مبینہ طور پر طالبان جنگجوئوں پردھاوا بولا ہے جو وادی پنجشیر میں داخل ہونے کی کوشش کررہے تھے۔

دوسری طرف طالبان نے مرکزی سڑک کنٹینرزکے ذریعے بند کردی ہے اور دونوں دھڑوں کے درمیان جھڑپیں جاری ہیں۔اس سے قبل ایک ٹویٹ میں مزاحمتی فورسز کے کمانڈر حسیب نے ٹویٹ کی تھی کہ”طالبان پنجشیر میں کوتل خاوگ کے راستے داخل ہونا چاہتے تھے لیکن انہیں ناکام ہوناپڑا،جھڑپ کے نتیجے میں41 طالبان مارے اور 20 پکڑے گئے ۔دریں اثنا،ایک طالبان ترجمان نے کہاہے کہ پنجشیر مکمل محاصرے میں ہے۔

واضح رہے کہ ہندوکش کے پہاڑوں میںگھرا پنجشیر افغانستان کے 34 صوبوں میں سے واحد صوبہ ہے جوطالبان کے کنٹرول میں نہیں ہے۔