میری گلی نہ سیاں آنا

امریکی میجرجنرل کرس ڈونا کے افغانستان سے نکلنے کی تصویر بڑے بیا آبرو ہوکر ترے کوچے سے ہم نکلے کی تاریخ رقم کر گئی ہے ‘ روسیوں نے افغانستان سے نکلنے کے بعد اگرچہ دنیا کی دوسری اقوام کو یہی مشورہ دیا تھا کہ افغانوں سے پنگا مت لو ‘ مگر طاقت اپنے ساتھ غرور اور تکبر لیکر چلتا ہے ‘ اور امریکیوں کو ہی زعم تھا کہ اگر روسیوں کوشکست اور سوویت یونین کے حصے بخرے ہوئے تو ان کی بدولت یعنی مجاہدین کے پیچھے ا مریکی سپورٹ تھی ‘ اس کا اسلحہ’ گولہ بارود اور ڈالروں کے کنٹینر تھے ‘ جن کی وجہ سے مجاہدین نے روس کو ناکوں چنے چبوائے اس لئے اب اگر امریکہ اپنے لائو لشکر اور اتحادیوں (نیٹو ممالک) کے ساتھ مل کر افغانستان پر جنگ مسلط کرے گا تو افغان مجاہدین کب تک اس ٹڈی دل کا مقابلہ کر پائیں گے۔
سابق سوویت یونین اور امریکیوں کے انخلاء میں بس ایک فرق ہے کہ ورسی واپس جاتے ہوئے اپنا اسلحہ ‘ ٹینک ‘ گاڑیاں وغیرہ ساتھ لیکر گئے تھے کیونکہ انہوں نے دریائے آمو کو پار کرکے کابل پر شب خون مار کر بلکہ غالباً(ببرک کارمل)کو بھی ایک ٹینک پر بٹھا کر قبضہ کیا تھا ‘ اور انقلاب ثور کے نام سے تبدیلی لا کر افغانستان کو زیر نگیں کرنے کی کوشش کی تھی مگر کچھ اندرونی خلفشار اور کچھ حالات میں تبدیلیوں جبکہ امریکی تعاون سے مجاہدین نے اسے اپنے زخم چاٹنے پر مجبور کرتے ہوئے واپسی کی راہ دکھائی ‘ تاہم صرف چند ناکارہ ٹینکوں ‘ بعض تباہ شاہ ہیلی کاپٹروں اور اکا دکا بمبار طیاروں کے ڈھانچوں کے علاوہ باقی سب سامان حرب بچا لے جانے میں کامیاب ہو گیا تھا ‘اور جو تباہ شدہ جنگی ہتھیار مختلف علاقوں میں بکھرے پڑے تھے ان کو ٹینکوں کا قبرستان کہا جانے لگا ‘ بہرحال ا فغانستان کے ساتھ دریائے آمو کے ذریعے اپنی مشترکہ سرحدات کی وجہ سے روسیوں کو بچا کھچا سامان لے جانے میں زیادہ دقت نہیں ہوئی۔
المیہ یہی ہے دریا کا
دو کناروں میں بھی سفر تنہا
دریائے آمو نے روس کی کچھ نہ کچھ لاج تو رکھ ہی لی ‘ یہ الگ بات ہے کہ جو ناکارہ ٹینک ‘ بکتر بندگاڑیاں ‘ ہیلی کاپٹر اور تباہ حال طیارے وہ چھوڑ گیا تھا اس کو دیکھ دیکھ کر طالبان اور عام لوگ خوش ہوتے تھے ‘ حالیہ دنوں میں بھی ایسی کئی تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل ہوتی رہیں ‘جن میں بعض ناکارہ بمبار طیارے اور ہیلی کاپٹر نظر آرہے ہیں اور جو شاید امریکی مسلط کردہ جنگ کے دوران گرائے گئے تھے ‘ اوپر سے حالیہ دنوں میں ایک لمبی چوڑی ایسی فہرست بھی وائرل ہوئی جس میں بتایا گیا تھا کہ امریکی افواج جاتے جاتے اپنے پیچھے کتنے طیارے ‘ ہیلی کاپٹر ‘ بکتر بند گاڑیاں ‘ ٹرک ‘ کاریں اور دیگر سازو سامان چھوڑ کر چلے گئے، بعض مبینہ اطلاعات کے مطابق اس تمام بھاری اسلحے کو فرنس (بھٹیوں) میں پگھلا کر ان سے عمارتی استعمال کے لئے سلاخیں بنانے کی سوچ ابھری تھی ‘ یعنی کوڑیوں کے مال یہ لوہا خرید کر تجوریاں بھرنے کا منصوبہ بنایا گیا تھا ‘ اسی طرح اب کی بھی یہ جوامریکی اسلحہ کے ڈھیر پیچھے رہ گئے ہیں ان کو بھی شاید اسی مقصد کے لئے استعمال کرنے کی سوچ ابھرے ‘ اگرچہ ایک اور مبینہ آئیڈیا بھی ”مارکیٹ” میں گردش کر رہا تھا کہ اگر طالبان اس جدید ترین اسلحے اور مشینوں کو خود استعمال نہیں کر سکتے تو ممکن ہے کہ ان کی ٹیکنالوجی”برائے فروخت” کے تحت ایسے ممالک سے رجوع کرکے بھاری قیمت وصول کر سکتے ہیں جو امریکی ٹیکنالوجی کو نقل کرکے بلکہ ان سے بھی بہتر اور ترقی یافتہ اسلحہ بنانے میں دلچسپی رکھتے ہوں تاہم یہ ایک خطرناک رجحان اور قابل اعتراض صورتحال کو جنم دینے کا باعث بن سکتا ہے ‘ یعنی امریکی کبھی نہیں چاہیں گے کہ ان کی ٹیکنالوجی کسی اور ”طاقت” کے ہاتھ لگے او روہ اس کا توڑ بنانے کی کوشش کرے ایسی صورت میں یقیناً آنے والے دنوں میں امریکہ اور طالبان کے مابین ایک اور قضیہ جنم لے سکتا ہے اور طالبان اتنے بھی نادان نہیں ہیں کہ وہ ایسی کوئی غیر ذمہ دارانہ رویہ اختیار کرکے عالمی سطح پراپنی حکومت منوانے میں اپنے لئے کوئی مشکلات کھڑی کریں ‘ ظاہر ہے اس کے بعد یہ تمام اسلحہ طالبان کے لئے ”بہ دست بچگان” ہی بن جاتا ہے اور اسے یا تو سکریپ کرکے فروخت کریں ‘ یا پھر ان کو مختلف شہروں کے چوراہوں میں بطور یادگار”سجا کر” نما ئش کے لئے پیش کریں ‘ تاکہ نہ صرف آنے والی افغان نسلیں اپنی فتحیابی کے نشان کے طور پر ان پر ہمیشہ فخر کرتے رہیں بلکہ غیر ملکی وفود جب بھی افغانستان کے دورے پر آئیں تو یہ یادگاریں ان کے لئے عبرت کا نشان بن کر انہیں یہ سبق پڑھاتی رہیں کہ روسیوں نے افغانستان سے جاتے ہوئے جو سبق دنیا کو پڑھانے کی کوشش کی تھی کہ سب کچھ کرو مگر افغانیوں سے پنگا مت لو ‘ وہ روسیوں کے تلخ تجربات کا نچوڑ تھا ‘ مگر ظاہر طاقت ‘ تکبر اور غرور کے گھمنڈ میں امریکیوں نے اس پر توجہ نہ دے کر خود کو عبرت کا نشان بنا لیا ہے ‘ اور روسی اکابرین کی کسی بات پر دھیان ہی نہیں دیا۔
اور وہ شخص بھی محروم سماعت نکلا
ہم نے رو رو کے جیسے درد سنائے اپنے
بہر حال امریکی اسلحے کے حوالے سے جو تازہ خبر خودایک امریکی جنرل نے دی ہے وہ یہ ہے کہ امریکی فوج نے انخلاء سے پہلے کئی طیاروں ‘ بکتر بند گاڑیوں کے ساتھ جدید راکٹ ڈیفنس سسٹم کو ناکارہ بنا دیا ‘ گویا اب یہ تمام اسلحہ محض بیکار ہی ہے جس کے ساتھ طالبان”بچوں” کی طرح کھیل تو سکتے ہیں اسے کسی استعمال میں نہیں لا سکتے ‘ گویا یہ پاکستانی فلم سات لاکھ ہوئی جس میں ایک سیٹھ کی سات لاکھ روپے نقد ‘ سات لاکھ کے ہیرے جواہرات ‘ سات لاکھ کی جائیداد وغیرہ پر تصرف کے لئے ہیروئن کو”شادی” کی شرط ماننا ہوتی ہے ویسے طالبان بھی بڑے کائیاں ہیں جنہوں نے ایک ہی رٹ لگا رکھی ہے کہ
ہزار بار منع کیا
میری گلی نہ سیاں آنا