تعلیمی اداروں کی نجکاری

تعلیمی اداروں کی نجکاری کے خلاف مختلف اضلاع میں مظاہرے

ویب ڈیسک : صوبے کے مختلف اضلاع میں تعلیمی اداروں کی نجکاری کے خلاف طلبہ اور تدریسی سٹاف نے مظاہرے کئے ہیں.

اس سلسلے میں پشاور،ایبٹ آباد،مردان ،لنڈی کوتل ،صوابی،بونیر اور سوات کے کالجز کاتدریسی سٹاف مجوزہ نجکاری کے خلاف سڑکوں پر نکلا ہے۔

پشاور میں اساتذہ مظاہرہ کرتے ہوئے خیبرپختونخوا اسمبلی کے سامنے جمع ہوگئے ۔

ان میں ایک بڑی تعدا د خواتین اساتذہ کی بھی تھی جو نعرے لگا رہی تھیں سرکاری کالجز کی نجکاری کسی صورت منظور نہیں۔

مظاہرین نے کہا کہ صوبے کے تمام کالجز کو خودمختار بنایا جارہا ہے۔ سینکڑوں طلبہ انہی کالجز میں مفت تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔

کالجز کی نجکاری سے طلبہ مفت تعلیم سے محروم ہو جائیں گے ۔ مردان میں سرکاری تعلیمی اداروں میں بی او جی کے قیام کے خلاف طلبا نے کالج چوک میں دھرنا دے کر سڑک کو ٹریفک کے لیے بند کر دیا۔

دھرنے میں بی او جی نامنظور کے نعرے لگائے گئے ۔مظاہرین نے کہا کہ بی او جی سے فیسوں میں اضافہ ہوگا ،حکومت غریب طلبا پر تعلیم کے دروازے بند کرنا چاہتی ہے۔

مظاہرین نے کہا کہ غریب طلبا پر تعلیم کے دروازے بند کرنا کسی بھی صورت قبول نہیں۔مظاہرین نے سیدو شریف سے مینگورہ نشاط چوک تک احتجاجی واک کر تے ہوئے حکومت کے خلاف نعرہ بازی کی۔

لنڈی کوتل بازار میں طلبا نے پوسٹ گریجویٹ کالج کی ممکنہ نجکاری کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کرتے ہوئے باچا خان چوک سے پریس کلب تک مارچ کرکے اپنے مطالبات کے حق میں شدید نعرے بازی کی۔

مظاہرین نے کہا کہ انہیں کالج کی نجکاری کسی صورت قبول نہیں۔ قبائلی طلبا غریب ہیں نجکاری سے ہزاروں طلبا تعلیم چھوڑنے پر مجبور ہوں گے۔

صوابی کے امن چوک میں کالجز کی نجکاری کیخلاف گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ کالج گوہاٹی صوابی سمیت دیگرکالجزکے پروفیسرزاور لیکچررز نے احتجاج کیا ہے۔

ان کا کہناہے کہ حکومت سرکاری کالجز کی نجکاری کرنے جا رہی ہے جس کے نتیجے میں طلبا کی فیس 4000 فی سمسٹر سے بڑھ کر 30000 تیس ہزار ہو جائے گی۔بونیر میں تعلیمی اداروں کی نجکاری کے خلاف اساتذہ نے بطور احتجاج کلاسسز کا بائیکاٹ جاری رکھا ہوا ہے ۔

ان کا کہنا ہے کہ حکومت کالجز کی نجکاری سے باز آجائے بصورت دیگر کلاسز سے بائیکاٹ جاری رہے گا۔

حکومت کی جانب سے تعلیمی اداروں کی نجکاری کے خلاف ایبٹ آبادمیں مختلف کالجزکے پروفیسرز نے احتجاج کیا ہے ۔ اساتذہ نے اس موقع پرشدید نعرے بازی کی ۔