Shazray

قبضہ سچا دعویٰ باطل

وزیر داخلہ شیخ رشید کا کہنا ہے کہ افغان طالبان کا پاک افغان سرحد سے باڑ ہٹانے کا بیان دیکھا ہے،انہوں نے درست کہا ہے کہ سرحد پر باڑ بڑی مشکل سے اور اپنے جوانوں کی جانوں کا نذرانہ پیش کر کے لگائی گئی ہے جسے ہٹانے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتاغیر ملکی خبررسان ادارے کو انٹرویو دیتے ہوئے وزیر داخلہ نے جس امر کی جانب اشارہ کیا ہے پاکستان اور طالبان کے درمیان مفاہمت اور تعلقات کی نوعیت جوبھی ہو اس سے قطع نظر ڈیورنڈ لائن کے معاملے پر پاکستان اور طالبان کے درمیان طالبان کے گزشتہ دورحکومت میں بھی اتفاق نہیں تھا ا لبتہ سرحدی تنازعہ ہونے کے باوجوداس حوالے سے کبھی ا ختلافات میں شدت نہیں آئی اور نہ ہی طالبان نے عملی طور پر اس طرح کی کوئی سعی کی جس سے پاکستان کے ساتھ ان کے تعلقات خراب ہوں یوں سرحدی معاملات ایک موقف ہی کی حد تک رہے لیکن بہرحال اختلاف ضرور موجود ہے طالبان کی گزشتہ حکومت اور بیس سال بعد کی صورتحال میں سرحدی معاملے میں بڑی تبدیلی واقع ہو چکی ہے پاکستان افغانستان کے ساتھ مستحکم باڑ لگا کر اپنی حد بندی ہی نہیں کی بلکہ سرحد بھی مستحکم و محفوظ کرچکا ہے اس کے بعد اس حوالے سے کابل کی کسی حکومت کا دعویٰ اور موقف لاحاصل اور خواہ مخواہ تعلقات میں بگاڑ کا باعث ثابت ہو گا اگر سرحدی تنازعات اٹھ کھڑے ہوئے تو پھر افغانستان کے بڑے سرحدی علاقے تاریخی طور پر ریاست چترال کے حصے ہونے کے باعث افغانستان کو اس حوالے سے مشکلات کا سامنا ہو گا اور ایک نیا تنازعہ اٹھ کھڑا ہو گا۔ افغانستان اور پاکستان کے درمیان ڈیورنڈ لائن کے معاملے پر طالبان قیادت اگر ایک تاریخ کا مطالعہ کریں جس میں دستاویزات اور شواہد کے مطابق پاکستانی حدود کا تعین کیا گیا ہے تو ان کی غلط فہمی دور ہو گی۔ اگر طالبان واقعی اس طرح کا موقف اختیار کرتے ہیں اسے اصولی اختلاف سے بڑا بنا دیتے ہیں تو پھر پاکستان اور طالبان کے درمیان تعلقات کی نوعیت تبدیل ہوسکتی ہے طالبان ہوں یا ماضی و آئندہ کی حکومتیں اب ان کواس حقیقت کو تسلیم کر لینا چاہئے اور عملی طور پر جو سرحدی صورتحال ہے اسے تسلیم کرنے یا پھر خاموشی اختیار کرنا ہی مصلحت ہے دوسری کوئی صورت نہیں۔
صوبے میں نئی سیاسی جماعت کا قیام
شمالی وزیرستان سے منتخب ہونے والے رکن قومی اسمبلی پی ٹی ایم کے سابق متحرک شخصیت و مقررمحسن داوڑ نے پی ٹی ایم سے راہیں جدا کر کے اپنی علیحدہ سیاسی جماعت کی تشکیل کا اعلان کرکے نہ صرف خود قومی دھارے میں شامل ہونے کے لئے قدم اٹھایا ہے بلکہ ان کے اس اقدام سے قبائلی اضلاع میں بھی ا یک خاص سوچ کی بجائے قومی جمہوری سوچ اجاگر ہونے کی راہ ہموار ہوگئی ہے۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے محسن داوڑ نے کہا کہ جمہوری قوم پرست سیاسی جماعت کے لیے کارکنان ایک تنظیم کی کمی محسوس کرتے تھے، این ڈی ایم بہت جلد صوبائی یونٹس تشکیل دے گی مجھے نہیں لگتا کہ پی ٹی ایم ہماری جماعت کو سپورٹ کریگی۔سیاسی اور جمہوری جدوجہد کے لئے راستہ چننا ہر شہری کا حق ہے محسن داوڑ پہلے جس تنظیم سے وابستہ تھے وہ نوجوانوں کو منظم کرکے آئینی جدوجہد نہیں کرتی تھی بلکہ ایک جذباتی اور نفرت انگیز ماحول پیدا کرنا اور حالات سے افدئہ اٹھانا ان کا مطمع نظر رہا ہے اس کے پلیٹ فارم سے محسن داوڑ نے ا پنے خطاب میں جن خیالات کا اظہار کرتے رہے ہیں ان سے اسے رجوع کرنا ہو گا تاکہ ان کی نئی جماعت اس تنظیم کی تسلسل ثابت نہ ہوحقوق طلبی اور قوم پرستی کی سیاست آئین اور قانون میں گنجائش کے اندر رہتے ہوئے عیب نہیں احسن امر ہے صوبے میں ماضی کی قوم پرست جماعت کے اطوار بدل جانے کے بعد اس طرح کے خیالات کے حامل افراد کے لئے جس پلیٹ فارم کی ضرورت محسوس کی جارہی تھی نوزائیدہ جماعت اسے پر کر سکتی ہے اور یہ صوبے کی سیاست میںاچھا اضافہ ثابت ہو سکتی ہے ۔
آن لائن نظام تعلیم کے فروغ کی ضرورت
پشاور یونیورسٹی کی جانب سے ملحقہ کالجز کے لئے ہنگامی اور کورونا کی وبائی صورتحال کے پیش نظر آن لائن امتحانات منعقد کرنے کی منظوری احسن فیصلہ ہے ہم سمجھتے ہیں کہ کورونا کی صورتحال نے تعلیم کے شعبے کو جس نظام سے روشناس کرایا ہے اور اساتذہ نے بھی اس شعبے میں تربیت و مہارت حاصل کرلی ہے اس کے بعد ضرورت اس امر کی ہے کہ جامعات دو قسم کے کورسز متعارف کرانے پر کام کریں ایک جاری نظام اور دوسرا مکمل آن لائن تعلیم اور کورسز متعارف کرائے جائیں امکان ہے طلبہ کی بڑی تعداد آن لائن تعلیم کو ترجیح دے گی جس کی کئی وجوہات ہیں آن لائن تدریس اور امتحانات کے لئے اس مناسبت سے کورسز متعارف کراکے اسے فروغ دیا جائے تو اس سے صوبے میں تعلیم کے فروغ اور طلبہ کو جدید انداز میں سیکھنے کے مواقع ملیں گے۔
تضاد عملی؟
پاکستان میں ایک جانب جہاںیکساں نصاب متعارف کراکے تعلیمی تفاوت کے خاتمے کی سعی ہو رہی ہے وہاں دوسری جانب سے بین الاقوامی کوالیفیکیشن اور عالمی تعلیمی بورڈ کی منظوری دی جارہی ہے جو ملک میں طبقاتی نظام تعلیم کے تحفظ کے مترادف ہے۔ہم سمجھتے ہیں کہ بین الاقوامی تعلیم کے مواقع کی فراہمی اور مستند بورڈ کے قیام کی ضرورت سے انکار نہیں اس لئے کہ ہمارا تعلیمی نظام اور طریقہ امتحانات اور بورڈز اپنی ساکھ اور وقعت کھو چکی ہیں ایسے میں دوسرے بہتر مواقع کی طرف طلبہ کا متوجہ ہونا فطری امر ہو گا۔ نظام تعلیم اور نظام امتحانات کی اصلاح نہ کی گئی تو یہ عضو معطل ہو کر رہ جائیں گے اور نواردین کے وارے نیارے ہوں گے۔