پشاور بحالی منصوبہ اور بیوروکریسی

اس وقت صوبے میں انتظامی عہدوں پر جو بیوروکریٹ براجمان ہیں اکثریت کی سروس ہماری صحافت کے ساتھ شروع ہوئی۔ ان میں سے کچھ کو تو ہم ذاتی طور پر جانتے ہیں لیکن اکثریت کے ساتھ تعلق صحافت کی حد تک رہا۔ ہم صحافت کے اس سکول کے طالبعلم ہیں جو سمجھتے ہیں گھوڑا گھاس سے دوستی کرے گا تو کھائے گا کیا؟ بہرحال روزنامہ مشرق کے پہلے اور آخری صفحہ پر دو خبریں نظر سے گزریں۔ پہلے صفحہ پر خبر وزیر اعلیٰ محمود خان کے حوالہ سے تھی۔ خبر کا متن دیکھ کر معلوم ہوا کہ وزیراعلی پشاور کی بحالی کے لئے کی جانے والی کوششوں سے مطمئن نہیں ہیں۔ اس اجلاس میں ایڈیشنل چیف سیکرٹری شہاب علی شاہ اور وزیر اعلیٰ کے پرنسپل سیکرٹری امجد علی بھی موجود تھے۔ دونوں ہی نہایت فعال اور قابل بیوروکریٹ ہیں۔ لیکن خبر کی تفصیل دیکھی تو اس کشمکش میں پڑ گیا کہ کہیں ایسا تو نہیں کہ بریفنگ میں جو تفصیلات دی گئیں اس پر وزیر اعلی ناراض ہی ہوگئے ہوں۔ ایک جانب پشاور صوبائی دارلحکومت، تہذیبوں کا گہوارہ، دنیا کے قدیم زندہ شہروں میں سے ایک شہر کا دعویٰ اور اس کی بحالی کے جواب میں وزیر اعلیٰ کو کہا گیا کہ حکومت نے کئی کلومیٹر دیواروں کو وال چاکنگ سے صاف کردیا، بجلی کی الجھی ہوئی تاروں کو سلجھایا، دکانوں پر سٹینڈرڈ بورڈ لگائے، کارخانوں مارکیٹ میں ریڑھیوں کو ہٹایا وغیرہ وغیرہ۔ پشاور شہر کی بحالی جسے انگریزی میں Revival کے نام سے اس منصوبہ میں یاد کیا گیا ہے کیا اس طرح کی جائے گی۔ یہ تو ایسے ہے کہ جیسے طوفان یا کوئی دوسری آفت آئے اور ضلع انتظامیہ شہر کی بحالی کے لیئے عارضی اقدامات کرے کہ جو بورڈ گر گئے تھے اسے دوبارہ لگایا گیا۔ بجلی کی تاریں گری تھیں انہیں دوبارہ اٹھایا گیا، شہر میں دھول اٹھی تھی اسے صاف کیا گیا وغیرہ وغیرہ۔ اگر وزیر اعلی کا یہی مطلب تھا پھر تو ٹھیک ہے۔ ویسے اتنے کام کے لیئے اتنے سینیئر اور قابل افسران کا وقت نہ ضائع کیا جائے تو زیادہ مناسب بات ہوگی۔ یہ کام لوکل گورنمنٹ کے ذریعہ بہتر طریقے سے ہو سکتا ہے۔ ہماری نظر میں تو پشاور شہر کی بحالی صاف ستھرے شہر سے شروع ہوکر پرانے موسم اور امن کی بحالی ہے۔ اس شہر کو جس طرح لوٹا گیا اس کے اعتماد کی بحالی ہے۔ ہماری نظر میں تو شہر پشور کی بحالی کا مطلب پشاور کے اپنے کلچر کی بحالی ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ جب اس شہر کا ٹمپریچر اس سطح پر واپس لایا جائے گا کہ لوگ گرمیوں میں بھی چھتوں پر کمبل اوڑھ کر سوئیں۔ جب شہر میں پھر جگہ جگہ انگور کی بیلیں نظر آئیں اور راتوں کو جگنو ٹمٹمائیں۔ جب اکیلی خاتون رات دو بجے بے خوف و خطر شہر کی گلیوں میں نظر آئیں۔ جو بریفنگ وزیر اعلی کو دی گئی ہے مجھے حیرانگی اس پر ہوئی ہے کہ یہ بریفنگ وزیر اعلیٰ نے سنی کس طرح ہے۔ مثال کے طور پر لکھا ہے کہ اتنے کلومیٹر دیواروں کو وال چاکنگ سے پاک کیا گیا ہے۔ کیا ان دیواروں پر کچھ ایسا پینٹ بھی کیا گیا ہے کہ اب اس پر کبھی وال چاکنگ نہیں ہوگی۔ کہا گیا ہے کہ 603 ریڑھیوں کو ہٹایا گیا ہے تو اس بات کی کیا گارنٹی ہے کہ اگلے دن وہ ریڑھیاں دوبارہ نہیں آئی ہوں گی یا اگلے کچھ دنوں میں کوئی اور ریڑھی نہیں لگائے گا۔ یہ بھی عرض کیا گیا کہ اتنی الجھی ہوئی تاروں کو سلجھایا گیا ہے اس بات کی کیا گارنٹی ہے کہ واپڈا والے کل آ کر دوبارہ ان کو نہیں الجھائیں گے۔ شاید یہی دیکھ کر وزیر اعلی نے بحالی کی نگرانی کا کام کمشنر پشاور کو دے دیا ہے۔ کمشنر پشاور ریاض خان محسود خود ایک منجھے ہوئے بیوروکریٹ ہیں اور پشاور کے انتظامات سنبھالنے کا ماضی میں بھی ان کا تجربہ ہے لیکن اگر یہ کام جس کا ذکر کیا گیا ہے تو اس کام کے لیئے ان کے تجربہ کی اتنی ضرورت نہیں ہے۔ پشاور کی بحالی کے لئے پہلے ایک ویژن کی ضرورت ہے۔ شہر کے تمام سٹیک ہولڈرز کو بلا کر ان کی بیٹھک ہونی چاہئے۔ سب سے پہلے تو یہ جاننا چاہئے کہ پشاور کیسے تھا؟ پھر اس شہر کو اس مقام پر لانے کے لیئے اس کی بحالی کا آغاز ہوگا۔ اس شہر میں باغات تھے وہ کہاں گئے؟ اب جگہ جگہ رہائشی بستیوں کے نام پر کنکریٹ کے غیر قانونی جنگل اگ آئے ہیں۔ آلودگی کے باعث اس شہر میں سانس لینا مشکل ہو چکا ہے۔ کبھی اس شہر کا پانی شہد قرار دیا جاتا تھا آج اس شہر کے کنویں تک خشک ہو گئے ہیں۔ لوگ اس شہر سے نقل مکانی پر مجبور ہوگئے ہیں۔ بحالی کا مطلب اس شہر کی بحالی ہے جو کبھی یہ شہر ہوا کرتا تھا۔ روزنامہ مشرق کی دوسری خبر تھی کہ سپیکر اور اراکین اسمبلی صوبے کی بیوروکریسی سے نالاں ہیں۔ غالبا سیکرٹری صحت اسمبلی حاضر نہیں ہوئے تھے اس وجہ سے سپیکر برہم تھے۔ یہاں بھی وزیراعلیٰ کا ذکر ضروری ہے۔ ان کو اسی ایوان نے منتخب کیا ہے۔ اس لیئے ضروری ہے کہ وہ ان افسران کو ایوان میں عوامی نمائندوں کے سامنے جوابدہی کا پابند بنائیں۔ اگلے عام انتخابات میں اب دو سال ہی رہ گئے ہیں۔ بلکہ ہو سکتا ہے کہ بلدیاتی انتخابات کا میدان بھی سجے۔ ایسے میں وزیراعلی محمود خان کے پاس وقت کم اور مقابلہ سخت والی صورتحال ہے۔ عملًا آٹھ سال سے ان کی صوبے میں حکومت ہے۔ لیکن جب وزیراعلیٰ محمودخان آئے تو کچھ ناگزیر وجوہات کی بنا پر ان کا زیادہ تر وقت اندرونی محاذ پر لڑتے ہوئے ضائع ہوا جو یقینا نہیں ہونا چاہئے تھا۔ وزیراعلیٰ محمود خان کے اندر صلاحیتیں ہیں اور بشمول چیف سیکرٹری ڈاکٹرکاظم نیاز، سیکرٹری اطلاعات ارشد خان کے مذکورہ بالا بیوروکریٹس کی شکل میں ایک تجربہ کار اور فعال ٹیم بھی ہے۔ ان کو بس یہ سمجھنا چاہئے کہ پانچ دن کے ٹسٹ میچ میں ساڑھے تین دن کے کھیل میں جو ہونا تھا ہو چکا اب ڈیڑھ دن کا کھیل باقی ہے اور اسے کریز سے باہر نکل کر بھی جارحانہ کھیلنا پڑے تو کھیل جائے کیونکہ وقت کا تقاضہ اب ٹونٹی ٹونٹی طرز پر کھیلنے کا ہے۔ لیکن کام وہ کرے جو ان کے برانڈ کہلائے جائیں، نظر آئیں، عوام محسوس کریں اور زبان زد وعام ہوں۔ جیسا کہ شروع میں ذکر کیا گیا کہ شہر کی صفائی وغیرہ جیسے معاملات سے نمٹنے کے لیئے محکمہ موجود ہے بس ایک دفعہ ان کی رٹ مضبوط کیا جائے۔