قومی قیادت سے عوام کی توقعات

کورونا وائرس پیدا شدہ صورتحال میں بلا شبہ وفاقی اور چاروں صوبائی حکومتوں کے اقدامات لائق تحسین ہیں۔ عوام دوستی' صحت اور مستقبل کو محفوظ رکھنے کے لئے اب تک اٹھائے گئے اقدامات پر دو آراء نہیں۔ صورتحال یقینا تشویشناک ہے۔ 192 کے قریب ممالک اس وبا سے متاثر ہیں ہلاکتیں مجموعی طور پر 20 ہزار سے بڑھ چکی ہیں جبکہ متاثرین کی تعداد 4لاکھ سے تجاوز کر چکی دنیا کی ایک تہائی آبادی لاک ڈائون کے ماحول میں زندگی بسر کر رہی ہے۔ انسانی آبادیوں کے ساتھ معیشت پر بھی کورونا وائرس کے بے پناہ منفی اثرات مرتب ہوئے بدھ کے روز پاکستان میں ڈالر کی قیمت 162 روپے ہوگئی۔ سٹاک مارکیٹ میں مندے کارجحان برقرار ہے۔ چاروں صوبائی حکومتوں کے موثر اقدامات کے نتائج آنے میں لگ بھگ دو ہفتے لگیں گے۔ اگلے روز اسلام آباد کے علاقے بارہ کہو سے ملحقہ ایک بستی میں 13افراد کورونا وائرس کے متاثرین کے طور پر سامنے آئے۔ مردان کے ایک ٹائون میں 39 افراد متاثر نکلے دونوں مقامات کو مکمل طور پر الگ تھلگ کردیاگیا ہے اور مزید افراد کے ٹیسٹ جاری ہیں۔ کوئٹہ ضلع کا بلوچستان کے دیگر علاقوں سے رابطہ ختم کردینے کے بعد صوبائی حکومت نے شہر کے چار علاقوں کے گرد عالمی طبی اصولوں کے مطابق حصار قائم کرکے ان کا ملحقہ آبادیوں سے رابطہ ختم کردیا ہے۔ ان اقدامات سًے صورتحال کی سنگینی کے ساتھ حکومتوں کے احساس ذمہ داری کی نشاندہی ہوتی ہے۔ بدھ کی شام چاروں صوبائی حکومتوں کے ذمہ دار نمائندوں اور گلگت بلتستان کے وزیر اعلیٰ نے ایک ٹی وی پروگرام میں لاک ڈائون کو مفید ترین اقدام قرار دیتے ہوئے کہا یقینا کچھ مشکلات اور مسائل ہیں لیکن حکومتوں کے سامنے اپنے لوگوں کی زندگی اور مستقبل ہے ان کو محفوظ رکھنے کیلئے ہر ممکن اقدام اٹھائے جائیں گے۔ اس پر افسوس ہی کیاجاسکتا ے کہ صوبائی حکومتوں کے موثر اور بروقت اقدامات کے باوجود یہ تاثر عام ہے کہ وفاق اور صوبے ایک پیج پر نہیں اور سیاسی قیادت میں دوریاں بدستور موجود ہیں۔ بدھ کو قومی اسمبلی کے سپیکر اسد قیصر کی دعوت پر منعقد ہونے والی پارلیمانی لیڈروں کی ویڈیو لنک کانفرنس میں وزیر اعظم نے کہا حکومت کورونا سے تنہا نہیں جیت سکتی حزب اختلاف سے بھی تجاویز لی جائیں گی کانفرنس میں انہوں نے لاک ڈائون کے حوالے سے اپنے موقف کو ایک بار پھر دہرایا اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کا کہنا تھا کہ اصل مقصد قوم کی بقاء کی جنگ ہے۔ بلاول بھٹو کا کہنا تھا ہم سب کو مل کر مشکل حالات میں بڑے فیصلے کرنا ہوں گے اس ماحول میں بد قسمتی سے بدمزگی اس وقت پیدا ہوئی جب وزیر اعظم اپنی گفتگو کرکے ویڈیو لنک آف کر گئے جس پر شہباز شریف اور بلاول بھٹو نے اجلاس کا بائیکاٹ کردیا اس بائیکاٹ کو ختم کرانے کے لئے سپیکر اپنی کوششیں کر رہے تھے کہ حکومت کے ایک ترجمان کا بیان سامنے آگیا کہ وزیر اعظم کے لئے 4سے 6 گھنٹے کی کانفرنس میں مسلسل شریک ہونا ممکن نہیں تھا۔ عوام الناس جو پارلیمانی لیڈروں کی کانفرنس سے امیدیں لگائے ہوئے تھے ان کی نہ صرف امیدیں ٹوٹیں بلکہ یہ منفی تاثر بھی مستحکم ہوا کہ پچھلے چند برسوں کے دوران سیاسی عمل نفرت و عدم برداشت کے جن عذابوں سے دوچار ہے اس کے خاتمہ کے لئے اس بد ترین وقت کی سنگینی کو بھی محسوس نہیں کیاگیا۔ وزیر اعظم کی اگر دیگر مصروفیات تھیں تو انہیں ملتوی کیا جاسکتا تھا یا پھر وہ اپنے خطاب سے قبل کانفرنس میں شریک رہنمائوں کو بتا دیتے کہ چونکہ دیگر معاملات کا شیڈول پہلے سے طے ہے اس لئے وہ اپنی بات کہہ کر اجازت لیں گے ان کی نمائندگی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کریں گے۔ یہ کہہ دیا جاتا تو بدمزگی پیدا ہوتی نا ہی عوام میں منفی پیغام جاتا لیکن وزیر اعظم کا اپنے خطاب کے بعد مزید بات کئے بغیر لنک آف کر دینے سے یہ تاثر پھر پختہ ہوا کہ وہ حزب اختلاف کے ساتھ بیٹھنے ان کی بات سننے اور باہمی تعاون سے آگے بڑھنے کو ذہنی طور پر تیار نہیں۔ نرم سے نرم الفاظ میں اس امر پر افسوس ہی کیاجاسکتا ہے کہ موجودہ حالات میں جس قومی اتفاق رائے کی ضرورت اور اہمیت تھی اسے مد نظر نہیں رکھا گیا۔ عوام میں بھی مایوسی پھیلی وہ یہ سوچنے پر مجبور ہیں کہ جو قائدین ایک دوسرے کے ساتھ بیٹھنے اور بات کرنے کے لئے آمادہ نہیں وہ ان کے لئے کیا کریں گے۔ وطن عزیز اور 22کروڑ عوام جن مشکلات حالات سے گزر رہے ہیں اور لاک ڈائون میں عوام بالخصوص محنت کش طبقات کو جس توجہ اور دلجوئی کی ضرورت ہوتی ہے اسے نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ یہ توقع کی جا رہی تھی کہ پارلیمانی لیڈروں کی کانفرنس مشترکہ طور پر ایسی اہم تجاویز مرتب کرے گی جن پر عمل سے اصلاح احوال کا کام تیزی سے آگے بڑھے گا۔ جو ہوا اس پر افسوس ہی کیا جاسکتاہے۔ ستم بالائے ستم یہ کہ اس وقت یہ تاثر بھی عام ہے کہ وزیر اعظم چاروں صوبائی حکومتوں کے لاک ڈائون کے فیصلے سے خوش نہیں اس حوالے سے انہوں نے کل بھی اپنے موقف کو دہرایا اس طور تو زیادہ مناسب تھا کہ وہ کانفرنس کے دیگر شرکاء سے اپنی تجاویز پر رائے لیتے ان کی بات سنتے عین ممکن ہے کہ ان کی سوچ کے قریب ترین عمل کاراستہ نکل آتا۔ یہ عرض کرنا از بس ضروری ہے کہ صوبائی حکومتوں کے موثر اقدامات کے ساتھ اگر سیاسی قیادت کا اتفاق رائے اور متحد ہو کر ان حالات میں عوام کی رہنمائی کرنے کا اعلان ہوتا تو اس کے مثبت نتائج سامنے آتے۔ قومی قیادت اگر یک زبان ہو کر معاشرے کے صاحب حیثیت لوگوں سے کمزور و بے نواز طبقات کی مد د کی اپیل کرتی تو 50فیصد مسائل ایک مشترکہ آواز پر ختم ہوسکتے تھے اندریں حالات ہم اس امر کی طرف توجہ دلانا ضروری سمجھتے ہیں کہ سیاست کے لئے بہت وقت پڑا ہے عوام ملک اور مستقبل کے لئے قائدین باہمی رنجشیں' اختلافات اور دیگر معاملات کو ایک طرف اٹھا رکھیں اور متحد ہو کر عوام کی قیادت کریں۔ امر واقعہ یہ ہے کہ یہ جنگ اتحاد کی طاقت' شعورو آگہی اور دیگر ضروری اقدامات کے بروقت اٹھانے سے ہی جیتی جاسکتی ہے۔