چند مناسب اور بروقت فیصلے

وزیر اعظم مشیر خزانہ حفیظ شیخ سمیت دیگر ذمہ دار وزراء اور مشیروں نے بدھ کی سہ پہر پریس کانفرنس میں بتایا کہ موجودہ حالات کی سنگینی اور مسائل کو مد نظر رکھتے ہوئے حکومت کیپٹل ویلیو ٹیکس ختم کرنے کے ساتھ دالوں' گھی' چینی وغیرہ پر ٹیکس کم یا ختم کرنے کے ساتھ یوٹیلٹی بلوں کی لیٹ فیس ختم کرنے جا رہی ہے۔ آئی ایم ایف اور عالمی بنک کے ساتھ ایشیائی ترقیاتی بنک پاکستان کو 584ارب روپے دینے پر آمادہ ہیں ہم امداد حاصل کرنے کے لئے بھی بات چیت میں مصروف ہیں۔ پٹرولیم مصنوعات کے نرخ 15دن کی بجائے ایک ماہ بعد طے کرنے کی تجویز زیر غور ہے۔ امر واقعہ یہ ہے کہ موجودہ حالات میں عوام کو جتنی زیادہ رعایت اور سہولت حکومت دے سکے وہ دی جانی چاہئے۔ کورونا وائرس کی وجہ سے ملک بھر میں جاری لاک ڈائون سے پیدا شدہ مسائل سے انکار ممکن نہیں بجا ہے کہ معیشت مسائل کا شکار ہے لیکن ان مسائل کے باوجود عوام کو ریلیف دے کر جہاں مشکل وقت میں زندگی کو آسان بنایا جاسکتا ہے وہیں مستقبل میں عوام سے تعاون لینے میں بھی کوئی امر مانع نہیں ہوگا۔ وفاقی حکومت کو کسی تاخیر کے بغیر پنشنروں کے مسائل کا بھی نوٹس لینا ہوگا۔ یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ ان حالات میں عوام حکومت کی طرف ہی دیکھیں گے وہی ان کے درد اور مسائل پر ہمدردانہ غور کرکے ایسے فیصلے کرسکتی ہے جس سے بہتری آئے مثال کے طور پر بجلی اور گیس کے تین ماہ کے بل 9قسطوں میں وصول کرنے کا اعلان خوش آئند ہے۔ حکومت کو زیادہ سے زیادہ توجہ دیہاڑی دار طبقے کے لئے زندگی کو برقرار رکھنے میں معاون بننے والے فیصلوں اور اقدامات پر دینا ہوگی۔ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے ذمہ میڈیا کے بقایاجات کی ادائیگی کو کم وقت میں یقینی بنانے کا حکومتی وعدہ بھی مناسب ترین ہے۔ ہمیں امید ہے کہ وزیراعظم کے عوام دوست ویژن کی روشنی میں مزید موثر اقدامات اٹھانے میں بھی تاخیر نہیں کی جائے گی۔
جامعہ ازہر اور سندھ کے علماء کا احسن فیصلہ
صدر مملکت عارف علوی کی مصری سفیر کے توسط سے پوچھے گئے سوال کے جواب میں مصر کی قدیم اسلامی دانشگاہ جامعہ ازہر کے علماء کی سپریم کونسل نے باضابطہ فتویٰ میں کہا ہے کہ کورونا وائرس انسانی زندگی کے لئے خطرناک ہے ان حالات میں نماز با جماعت اور نماز جمعہ کی با جماعت ادائیگی کو منسوخ کیا جاسکتا ہے۔ بدھ کی سپہر کراچی میں گورنر ہائوس میں مختلف مکاتب فکر کے علماء نے بھی ( ایک عالم دین کے سوا) اس امر پر ا تفاق کیا کہ انسانی زندگی بچانا واجب ترین عمل ہے نماز پنج گانہ با جماعت کی بجائے گھروں میں ادا کی جائیں جمعہ اور دیگر عبادات بھی انفرادی طور پر گھروں پر ہی انجام دی جائیں۔ خوش آئند بات ہے کہ اسلامی دنیا کی قدیم دانشگاہ اور پاکستانی علماء کی اکثریت معروضی حالات میں یکساں سوچ رکھتی ہے۔اب یہ لوگوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ حالات کی سنگینی کا احساس کریں اور علمائے کرام کی راہنمائی میں فرائض دینیہ ادا کریں تاکہ سماجی میل جول کم سے کم ہو اور کورونا وائرس جیسی موذی وبا سے نجات کے لئے اٹھائے گئے اقدامات کا نتیجہ حاصل کیا جاسکے۔
منافع خوروں کا قابل مذمت رویہ
ملک بھر میں جاری لاک ڈائون میں اشیائے ضرورت کی دکانوں کے علاوہ میڈیکل سٹورز وغیرہ کھلے ہیں تاکہ عوام کسی مشکل سے دوچار نہ ہوں مگر شکایات تواتر کے ساتھ سامنے آرہی ہیں کہ کچھ بد نیت افراد نے حالات کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اشیائے ضرورت اور ادویات کی معمول کی قیمتوں میں مرضی کا اضافہ کرلیا ہے۔ ایک اسلامی ملک اور معاشرے میں اسلام اور نبی رحمتۖ کی تعلیمات اور تجارت کے لئے مقررہ اصولوں پر عمل کی بجائے منافع خوری کے اس مرض پر جتنا بھی افسوس کیا جائے وہ کم ہے کاروباری حضرات سے مودبانہ درخواست ہے کہ وہ اپنے دینی اور شہری حقوق کی ادائیگی پر خود توجہ دیں تاکہ صوبائی حکومتوں کو ایسے اقدامات نہ کرنا پڑیں جن سے انہیں شکوہ ہو اسی طرح ہم چاروں صوبائی حکومتوں سے بھی درخواست کریں گے کہ وہ ادویات اور اشیائے ضرورت کی لاک ڈائون سے قبل کی قیمت پر فروخت کو یقینی بننے کے لئے کوئی کسر نہ اٹھا رکھیں۔