اللہ اکبر،اللہ اکبر

اللہ اکبر،اللہ اکبر کی صدائیں گونج رہی ہیں،گزشتہ روز مولوی جی صاحب کے فرزند اور ان کے روحانی جانشین محترم سلطان آغہ نے اہل پشاور کو رات کے وقت گھروں کی چھتوں پر جا کر سات سات مرتبہ اذان دینے کا پیغام دیا جو آناً فاناً سوشل میڈیا پر وائرل ہوگیا اور منگل کے روز نہ صرف پشاور بلکہ پورے ملک اور بعض حوالوں سے مختلف ملکوں میں آباد خصوصاً پاکستا نیوں نے اس پیغام پرعمل کرتے ہوئے سرشام سے رات گئے تک اذانیں دینے کا سلسلہ جاری رکھا بلکہ یہ سلسلہ گزشتہ رات یعنی بدھ کو بھی اکثر مقامات پر جاری رہا،جبکہ بیشتر لوگوں نے عبادت کر کے بھی اللہ تعالیٰ سے اپنے گناہوں کی معافی مانگی،کورونا کے وباء کے خاتمے کی دعائیں کیں اور آج میڈرڈ سے آنے والی خبر بھی دل خوش کن ہے کہ سپین کے قدیم شہر غرناطہ کی گلیوں میں پانچ سو(500)سال بعد اللہ اکبر کی صدائیں گونجیں،سپین پر سات سو سال تک مسلمانوں کی حکومت کے دوران گونجنے والی اللہ اکبر کی صدائیں اس وقت تھم گئی تھیں جب عیسائیوں نے مسلمانوں کے اقتدار کو ختم کر کے اس شہر پر قبضہ کرلیا تھا۔مسلمانوں کو یا تو قتل کیا یا انہیں سپین کی سرزمین سے بیدخل کر کے نکال باہر کیا،لا تعداد مسلمانوں نے خوف سے اسلام چھوڑ کر عیسائی مذہب اختیارکیا اور جو لوگ عیسائی افواج کے ظلم سے گھبرا کر اسلام ترک کر کے عیسائی مذہب اختیارکر کے جان بچانے میں کامیاب ہوئے ان میں سے بھی اکثر کو اس شک کی بناء پر جان سے ہاتھ دھونا پڑے کہ یہ عیسائیوں کو دھوکہ دے رہے ہیں یوں وہ دین کے رہے نہ دنیا کے،ادھر کے رہے نہ ادھر کے اور مرتد ہو کر مرگئے۔ جو مسلمان چھپ کر حالات کی بہتری کا انتظار کرتے رہے انہیں یہ اعلانات کر کے بندر گاہ پر اکٹھا کیاگیا کہ وہ جہاں چاہیں جا سکتے ہیں اور ان کو لے جانے کیلئے بحری جہاز بندرگاہ پر موجود ہوں گے یوں بچے کھچے مسلمان مقررہ دن تک وہاں پہنچنے لگے مگر یہ صریح دھوکہ تھا کہ جب انہیں جہازوں پر بٹھا کر روانہ کیا گیا تو دور گہرے سمندر میں طے شدہ منصوبے کے تحت یہ جہاز غرق کر دیئے گئے یوں سپین پر سات سو سالہ مسلم اقتدار کا خاتمہ ہوگیا جس کے بعد سپین کی مساجد میں اذان دینے پر پابندی عاید کی گئی اور مساجد کو اصطبیلوں میں تبدیل کردیا گیا تھا،لیکن اللہ تعالیٰ کی اپنی حکمت ہے ایک ایسی وباء نے دنیا بھر کو ایسے حالات سے دوچار کردیا کہ ویران مساجد میں ایک بار پھر پانچ سو سال بعد اللہ اکبر کی صدائیں بلند ہونا شروع ہوگئیں،اللہ واقعی عظیم ہے ،اس سے پہلے ایک ویڈیو ایسی وائرل ہو چکی ہے جس میں اہل مغرب وہاں کے مسلمان باشندوں کے اتباع میں انہی کی طرح نماز پڑھنے کی کوشش کر رہے ہیں اور کیا مرد،کیا خواتین مسلمانوں کے ایک اجتماع کے دوران سڑک اور فٹ پاتھ پر رکوع اور سجود میں مشغول نظر آتے ہیں،ظاہر ہے انہیں نماز تو نہیں آتی مگر ان کے دل میں یہ یقین جاگزیں ہوگیا ہے کہ یہ لوگ اپنے اللہ کے آگے دوزانوں،اور سربہ سجود ہو کر اس وباء سے چھٹکارا پانے کی کوشش کر رہے ہیں تو ان کی تقلید کر کے کیوں نہ وہ بھی خالق کائنات کو راضی کر لیں،اللہ اکبر،اللہ اکبر،گویا بقول منیر نیازی
میں جو اک برباد ہوں آباد رکھتا ہے مجھے
دیر تک اسم محمدۖشاد رکھتا ہے مجھے
اسلام سے نفرت تو دیگر مذاہب والوں کی گھٹی میں پڑی ہوئی ہے ،مگر اہل مغرب اسلامی شعائر کا جس قدر مذاق اڑاتے ہیں وہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں،اس سلسلے میں کئی مغربی ممالک میں مسلمانوں کے انسانی حقوق کی پامالی سے بھی دریغ نہیں کیا جاتا اور وہاں کی عدالتوں نے جہاں ستر پوشی کے خلاف کئی فیصلے دیئے اور برقعہ اوڑھنے پر پابندی لگائی بلکہ کئی ممالک میں تو سکارف کو بھی خلاف قانون قرار دیا حالانکہ اگر انہی ممالک کی اپنی بنائی ہوئی ان فلموں کا جائزہ لیا جائے جن میں پچاس اور ساٹھ کی دہائیوں کی فلمیں بھی شامل ہیں اور جن کی کہانیاں کائو بوائزٹائپ کے دور پر محیط ہیں تو خود ان کے معاشروں میں اس دور میں خواتین سکارف پہنے نظر آتی ہیں مگر مغربی معاشروں میں بے پردگی،عریانیت اور فحاشی کا غلبہ ہو جانے کے بعد اب ان پر مسلمان خواتین کے سکارف پر بھی تکلیف پہنچتی ہے،مگر اب کورونا وائرس کے پوری دنیا میں پھیل جانے کے بعد کیا مشرق کیا مغرب،کیا شمال کیا جنوب کیا مسلمان کیا یہودونصاریٰ اور دیگر اقوام جن میں مختلف مذاہب کے ماننے والے یہاں تک کہ منکرین (Ethiest)سب ماسک کی شکل میں سکارف پہننے پر مجبور ہو چکے ہیں اللہ اکبر،میرے اللہ کی شان نرالی،ملکہ برطانیہ کی بکنگھم پیلیس چھوڑ کر قلعہ ونڈسر میں پناہ گزین ہو کر از خود قرنطینہ میں خود کو محبوس کرنے کے بعد جو تازہ تصاویر سامنے آئی ہیں ان میں بھی ماسک کی شکل میں نقاب یعنی سکارف کے ذریعے خود کو محفوظ بنا کر انہوں نے دنیا کو ترغیب دیدی ہے کہ نقاب ہی انہیں بہت حد تک کورونا سے بچا سکتا ہے اس پر ڈاکٹر نذر عابد کا یہ شعر کتنا معنی خیز لگتا ہے کہ
عجیب خوف ہے عابد تمام بستی میں
کہ اپنے سائے کے سائے سے لوگ ڈرتے ہیں
بات سید سلطان آغہ کی اس تلقین سے شروع ہوئی تھی کہ عوام اپنے گھروں کی چھتوں پر شام کے اوقات میں سات سات مرتبہ اذانیں دیں اور اس کے بعد عبادت یعنی نوافل پڑھ کر اللہ سے اس عذاب کو ختم کر نے کی دعائیں مانگیں،ان کی بات پر عمل بھی کیا گیا اور اللہ اپنے گنہگار بندوں کی ضرورسنتا ہے،مگر صرف اذاینں دینے اور معافی طلب کرنے سے بات نہیں بنتی ،بلکہ معافی طلب کرنے کیلئے بنیادی شرط خلوص نیت اورآئندہ کیلئے تو بہ کرنا بھی ہے مگر جب ہم اپنے کردار پر نظر ڈالتے ہیں تو صورتحال کچھ اور دکھائی دیتی ہے،ذرا ادھر اُدھر دیکھئے اب بھی لوگ ان حالات سے بھر پور فائدہ اٹھانے کیلئے اشیائے صرف مہنگی کر کے بیجنے سے باز نہیں آتے، مصنوعی قلت ان کا وتیرہ ہے حکومت اور اپوزیشن قومی معاملات پر بھی تقسیم ہے تو پھر صرف اذانیں دینے سے ہم رب کائنات کو کب تک دھوکہ دینے کی ناکام کوشش کرتے رہیں گے ۔اللہ اکبر ،اللہ اکبر