مرد حریت کے جسد خاکی سے خوفزدہ بھارت

کچھ لوگ مر کر بھی امر ہوجاتے ہیں زندگی بھر جدوجہد آزادی کشمیر کے سالار سید علی گیلانی آخری سانسوں تک تحریک آزادی کشمیر کے روح رواں تو رہے ہی بعد ازوفات ان کی نعش سے بھارت جیسی بڑی جمہوریت اور انسانی حقوق کا جھوٹا دعویٰ کرنے والی سرکار جس طرح خوفزدہ ہوئی اس سے سید علی گیلانی مرحوم امر ہوگئے وہ زندگی بھر بھارتی ظلم و استبداد کو للکارتے رہے پس مرگ بھی ان کی کج کلاہی سے بھارتی سرکار جس طرح خوفزدہ ہوئی اس کی مثال نہیں ملتی مقبوضہ کشمیر میں قابض بھارتی فوج بزرگ کشمیری رہنما سیدعلی گیلانی سے ان کی زندگی میں توخوفزدہ رہتی ہی تھی مگر کسی کویہ یقین نہیں تھا کہ بھارتی فورسز حریت رہنما کے جسدخاکی سے بھی خوفزدہ ہو جائے گی ۔ سید علی شاہ گیلانی کی وفات کے بعد جہاں پاکستان اورمقبوضہ کشمیرکے عوام سخت صدمے سے دوچارتھے وہاں دوسری طرف بھارت پر خوف طاری تھاکہ اگر سیدعلی گیلانی کے جنازے کی اجازت دی گئی تو لاکھوں عوام نکلیں گے اور ہندوستان کے خلاف نعرے بازی کی جائے گی ۔ بھارت اس صورتحال سے اس قدربوکھلاہٹ کاشکارہوا کہ سیدعلی گیلانی کے گھرکافوری طورپرگھیرائو کرنے کاحکم دیاگیا۔قابض فورسز نے سیدعلی گیلانی کے گھرکا گھیرائوکیا اورتمام راستوں کوسیل کرکے مقبوضہ کشمیرمیں کرفیولگادیاگیا۔ بھارتی فورسز کی غیرانسانی حرکتیں صرف یہاں تک محدود نہیں رہیں بلکہ انہوں نے سیدعلی گیلانی کے اہل خانہ کوہراساں کیا،زبردستی گھرمیں گھسے اورمیت چھین لی ۔ قابض فورسز نے میت کوغسل تک نہ دینے دیا اورجسدخاکی چھین کرحیدرپورہ مسجدکے قریب جبری تدفین کردی۔بھارت زندگی بھر ان کی جانب سے پاکستان زندہ باد اور پاکستان ہمارا ہے کے نعروں سے زچ ہوتی رہی اور بعد از وفات پاکستان کے سبز ہلالی پرچم پر لپٹی ان کا جسد خاکی بھی بھارتی استبداد کو للکارنے کے لئے کافی تھا۔بھارت نے ان کا جنازہ روک کراپنے اندر کا خوف مزید اجاگر کیا ہے اور حریت پسند رہنما کی قدر و منزلت ان کے چاہنے والوں کے دلوں میں مزید بڑھا دی ہے جدوجہد حریت پسندی اور شہادت کی راہ کے پروانے پہلے بھی شمع حریت پرفدا ہوتے آئے ہیں اورطلوع صبح آزادی کشمیر تک ایسے ہی نچھاور ہوتے رہیں گے ۔اس واقعے سے ملول کشمیری نوجوان ایک نئے ولولے سے بابائے حریت کا مشن لیکر اٹھیں گے اور وہ دن دور نہیں جب بھارتی استبداد سرنگوں ہوگی۔
سرکاری اور نجی ہسپتالوں کا مٹتا فرق
خیبرپختونخوا کے ایم ٹی آئی ہسپتالوں کو ایمرجنسی کیلئے خصوصی فنڈز کے اجراء کے باوجود بیسیوں مفت ٹیسٹوں کی سہولت ختم کرنا سمجھ سے بالاتر امر ہے ۔ ذرائع کے مطابق مذکورہ ہسپتالوں میں صرف چار سے پانچ ٹیسٹ مفت کئے جارہے ہیں جس کے لئے سخت اور طویل کارروائی کی وجہ سے لوگوں کو مشکلات کا سامنا ہے، واضح رہے کہ متحدہ مجلس عمل کی حکومت نے تمام تدریسی ہسپتالوں بشمول پشاور کے تینوں ہسپتالوں یعنی خیبرٹیچنگ ہسپتال، ایچ ایم سی ، ایل آر ایچ اور ایوب میڈیکل کمپلیکس کی ایمرجنسی میں سو سے زائد مختلف قسم کے ٹیسٹوں کی سہولت مفت کردی تھی صوبائی حکومت ایک جانب صحت کارڈ کے ذریعے مفت علاج کی سہولت متعارف کرا کے عوام کو سہولت فراہم کر رہی ہے وہاںدوسری جانب سرکاری ہسپتالوں کو دھیرے دھیرے نجی ہسپتال بنانے کا عمل جاری ہے ایمرجنسی میں لائے گئے مریضوں کے لئے جو سہولت متعارف کرایا گیا تھا اس کا صرف رقم خرچ نہ کرنے کا پہلو ہی نہیں بلکہ مشکل وقت میںمریضوں کے لواحقین کو کسی کھڑکی اور قطار میں کھڑے ہونے کی مشکل سے بچانا بھی تھا ۔ سرکاری ہسپتالوں میں نجی پریکٹس اور لیبارٹری کی جوفیسیں وصول کی جارہی ہیں وہ کسی بھی نجی کلینک سے کم نہیں جس سے سرکاری اور نجی ہسپتالوں کا فرق باقی نہیں رہا ایسے میںمریض سرکاری ہسپتالوں کے گھن چکر میں الجھنے کی بجائے نجی ہسپتالوں کے سہل نظام علاج کو کیوں ترجیح نہ دیں بہتر ہو گا کہ سرکاری ہسپتال یا تو کلی طور پر نجی شعبے کو ٹھیکے پردیئے جائیں یا پھر ان کوعوامی مفاد میں سرکاری شفاخانہ ہی کے طور پر چلایا جائے۔
ریمپ اور خودساختہ سپیڈ بریکرز کا سنگین مسئلہ
ٹائون ٹو پشاور کی جانب سے بدھئی اور چمکنی میں غیر قانونی طور پر گھروں کے باہر تعمیر کئے گئے سوسے زائد ریمپس مسمارکرنے اور شہریوں کو اپنے گھروں کی حدود تک محدود رہنے کی ہدایت قابل تحسین قدم ہے ریگولیشن آفیسرنے شہریوں کو اپنی حدود تک محدود رہنے کی ہدایت کرتے ہوئے واضح کیا کہ اگر مستقبل میں دوبارہ ریمپس تعمیر کئے گئے تو گھروں کے مالکان کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائیگی ۔شہر کے بیشتر علاقوں بشمول حیات آباد اور دیگر پوش علاقوں میں غیر قانونی ریمپ اور خود ساختہ سپیڈ بریکرز کی تعمیر کوئی پوشیدہ امر نہیں لیکن صورتحال سے مکمل آگاہی کے باوجود ٹائونز اور پی ڈی اے کے حکام ان کے خلاف کارروائی نہیں کرتے ازروئے قانون شہری اپنی حدود سے باہر ایک سوتر زمین بھی اپنی ترجیح اور منشاء کے مطابق استعمال میں نہیں لاسکتے مگر دیکھا یہ گیا ہے کہ آدھی سڑک بطور ریمپ استعمال ہو رہی ہے جس سے گزرنے والی گاڑیوں کا راستہ محدود اور پر خطر بن جاتا ہے علاوہ ازیں خود ساختہ سپیڈ بریکٹرز اور بی آر ٹی کے سٹیشنز پر ٹیکسیاں اور گاڑیاں کھڑی کرنے کا عمل بھی تکلیف دہ طور پر جاری ہے جس کا کوئی پرسان حال نہیں۔ حکومت کے ارباب حل وعقد کا ان مسائل پر اس طرح کا ایکشن لینے کی ضرورت ہے جس کا مظاہرہ خاتون ریگولیشنز آفیسر کر رہی ہیں ۔ مسئلہ اگر لاینحل ہے تو وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا مذکورہ خاتون ریگولیشنز آفیسر کو صوبائی دارالحکومت میں ریمپ اور غیر قانونی سپیڈ بریکر ہٹانے کے خصوصی فرائض سونپ دیں تاکہ شہر کو اس تکلیف دہ قسم کے تجاوزات سے پاک کیا جا سکے ٹریفک پولیس بی آر ٹی سٹیشنز پر گاڑیاں کھڑی کرنے اور ٹیکسی گاڑیوں کے رکنے کے عمل کے خلاف خصوصی مہم چلا کر ممکنہ حادثہ اور عوامی ٹرانسپورٹ میں رکاوٹ کا خاتمہ یقینی بنائے۔