اپوزیشن کی نئی حکمت عملی اور جمہوریت

کراچی کے باغ جناع گرائونڈ میں پی ڈی ایم کا جلسہ ہوا ۔ لندن میں بیٹھے میاں نواز شریف نے کہا کہ موجودہ حالات میں خاموشی جرم ہے اور مولانا فضل الرحمن نے لوگوں کو انقلاب لانے اورحکومت کے خاتمہ کے لیے اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کرنے کا عندیہ دیا ۔اپوزیشن کے اس اتحاد نے حکومت کے خلاف ایک بار پھر بھرپور تحریک کا منصوبہ بنا لیا ہے۔ جس میں پیپلز پارٹی اور عوامی نیشنل پارٹی شامل نہیں ۔پاکستانی سیاست کے حوالہ سے لوگ جانتے ہیں کہ سال1988 میں پیپلز پارٹی کی پہلی حکومت سے لے کر تحریک انصاف کی موجودہ حکومت تک اس قسم کی سیاسی ہلچل ایک معمول بن چکی ہے ۔ لہٰذا پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ کی جانب سے آئین کی بالادستی ، انسانی حقوق ،حکومتی مظالم اور جمہوریت کے نعروںمیںبھی انہیں سیاسی حکمت عملی نظر آتی ہے ۔اب مبصرین چاہے کچھ بھی کہیں اور لکھیں مگر عام آدمی کی عدم دلچسپی نمایاں ہے۔ یوں تو ہمارے ہاںسیاسی حلقوں میں پارلیمانی جمہوریت پر ایک عمومی اتفاق رائے پایا جاتا ہے تاہم جمہوری اداروں اور جمہوری عمل کی کارکردگی کے حوالے سے ایک عدم اطمینان بھی پروان چڑھ رہا ہے۔عوام کی اکثریت سمجھتی ہے کہ جمہوریت اب بالا دست اشرافیہ کے مابین محض اقتدار کی جنگ بن کر رہ گئی ہے’ جس میں عوام کے مفادات اور پریشانیوں کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔بہت سے تجزیہ نگار جمہوری عمل کی ناکامی اور عوامی مسائل پر عدم توجہی کے لئے سیاسی قائدین کوذمہ دار ٹھہراتے ہیں۔چند دانشور کہتے ہیںکہ سیاسی رہنماؤں اور سیاسی اداروں کو موثر انداز میں کام کرنے کا موقع ہی نہیں دیا جاتا۔ہاں کچھ دوست یہ کہتے ہیں کہ آج جو سیاست دان ہمیں فعال دکھائی دیتے ہیںیا جونوجوان سیاسی قیادت آگے آرہی ہے ،وہ ریاست اور سماج کے حوالے سے مثبت اور دیر پا ویژن نہیں رکھتی۔یہ وہی لوگ ہیں جو1982 کی نامزد کردہ مجلس شوریٰ اور1985کے غیر جماعتی انتخاب کے نتیجہ میں سامنے آئے اور چند لوگوں نے ضلعی سطح سے قومی اور صوبائی سیاسی میدان کا سفر بڑی تیز رفتاری مگر ڈرامائی انداز میں طے کیا۔ ان میں زیادہ تر دولت مندوں کا نیا طبقہ شامل تھا،جس کی وجہ سے مُلکی سیاست میں پیسے کا چلن عام ہوا۔اراکین پارلیمنٹ کو سرکاری فنڈ کی فراہمی اور پھر ذرائع ابلاغ نے پاکستانی سیاست کو بری طرح متاثر کیااور اب یہ ان کے مکمل شکنجے میں ہے۔حکومت او راپوزیشن کے کشیدہ تعلقات کی وجہ سے بھی جمہوری ادارے اور سیاسی عمل کمزور ہوا ہے۔ بر سر اقتدار جماعت اور اپوزیشن ایک دوسرے پر ہر طرح کے الزامات اور جوابی الزامات عائد کرتے رہے ۔ اپوزیشن جماعتیں پارلیمنٹ یا صوبائی
اسمبلیوں کے اجلاس کی کارروائی میں خلل ڈالنے کی کوشش میں رہتی ہیں۔اب اپوزیشن کی جماعتوں کو احتساب کا سامنا ہے تو حکومت کے ساتھ انتہائی کشیدہ تعلقات ہیںجس کی بدولت وہ معمولی یا اہم نوعیت کے معاملہ پر بھی تعاون نہیں کر رہے ۔ الفاظ کی جنگ جاری ہے جس سے ملک کا سیاسی ماحول اور پارلیمنٹ کا کردار متاثر ہو رہا ہے۔ وفاقی اور صوبائی سطح پر حکومتیں اچھی گورننس کا مظاہرہ کرنے سے قاصر نظر آر ہی ہیں۔ریاستی ادارے عوام کو ضروریا ت اور سروسز فراہم کرنے میںناکام ہیں۔اپوزیشن حکومت کی اس ناقص کارکردگی کو نشانہ بنا رہی ہے۔ ان کا خیال ہے کہ مہنگائی اور عوامی مشکلات میں اضافہ ایسے معاملات ہیںجس سے وہ عوام کی حمایت حاصل کر کے اپنے احتجاج کو کامیاب بنائیں گے۔ عوام پھرماضی کی تاریخ دہرائے جانے کا تماشا کر رہی ہے۔2014 میں تحریک انصاف عوامی دھرنے سے حکومت کا تختہ الٹنا چاہتی تھی، اب اپوزیشن حکومت کو سڑکوں پر للکارنے جا رہی ہے۔ ہماری سیاسی جماعتیں حکومت کو گرانے یا اسے دبائو میں لانے پر اکثر سڑکوں پر احتجاجی تحریک چلانے، ٹریفک جام کرنے اور عام آدمی کے معمولات زندگی میں انتشار پیدا کرنے جیسے ماورائے پارلیمان حربے استعمال کرتی ہیں۔جس سے پارلیمنٹ مکمل طور پہ نظر انداز ہو جاتی ہے۔ یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ یہاں سیاسی جماعتیںکسی نہ کسی نوازش سے فائدہ اٹھاتی رہی ہیں۔اگر وہ جمہوریت کی خواہاں ہیں تو وہ اپنی روز مرہ کی سیاست میں تبدیلی لائیں۔ جمہور کے فیصلے کو قبول کریں بھلے یہ فیصلہ ان کے موافق نہ ہو۔ جمہوریت احتجاج اور تنقید کرنے کا حق ضرور دیتی ہے مگریہ استحقاق لامحدود نہیں۔ اس امر کا اطلاق حکومت اور اپوزیشن دونوں پر ہوتا ہے۔ کوئی حکومت اپنے مفادات کے حصول اور اپنی پارلیمانی اکثریت کے بل بوتے پر ایسا قانون نافذ نہیںکر سکتی جس سے جمہوریت کی روح متاثر ہوتی ہو۔ مذاکرات کا عمل جاری رہنا چاہئے اور سب کو پارلیمنٹ میں بیٹھنا ہوگا۔ سیاسی قیادت کو اپنے کردارسے رویوں میں بہتری،دیگر سیاسی جماعتوں سے باہمی تعلقات اور اداروں کا احترا م کرنا ہوگا ورنہ یہ محاذ آرائی ہمارے جمہوری نظام کے لیے نقصان دہ ہے۔ یہ ضروری نہیں کہ اس کے نتیجہ میں کوئی حقیقی جمہوری حکومت قائم ہو۔