امبوا کی ڈاریوں پہ جھولنا جھلاجا

حیرت سے تک رہا ہے جہاں”وغا” مجھے ‘ مصرعہ میں تھوڑی سی تحریف کرتے ہوئے وفا کو وغا یعنی جنگ میں تبدیل کرنے کا کارن یہ ہے کہ گزشتہ روز سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ایک تصویر کو دنیا نے حیرت سے دیکھا جس میں کابل میں ایک ناکارہ ہیلی کاپٹر کو ایک طالب نے اڑا کر دنیا کو یہ پیغام دیا کہ طالبان آنے والے دنوں میں مزید حیرتوں میں ڈال سکتے ہیں ‘ ایک تو اڑانے والے کو اڑان کا کوئی تجربہ نہیں نہ ہی تربیت حاصل کی تھی اوپرسے امریکی جاتے جاتے تمام جنگی جہاز اور ہیلی کاپٹر ناکارہ بنا گئے تھے مگر بقول شخصے کون لوک او اوئے تسی؟ ناکارہ ہیلی کاپٹر کو کار آمد بنا کر اڑان بھرتے ہوئے جس پر اپنا جھنڈا بھی لگا رکھا تھا ‘ اڑانے والا”جھولے لیتے ہوئے” ذرا بھی نہیں گھبرایا ‘ خود مجھے یاد ہے غالباً 1974ء میں جب میں ریڈیو پاکستان میں پروگرام پروڈیوسر تھا اور اس وقت کے صدر ذوالفقار علی بھٹو صوبہ سرحد کے گیارہ روزہ دورے پر آئے تھے تو ان کے پورے دورے کی کوریج کے لئے ہیلی کاپٹرز کی ایک پوری فلیٹ(Fleet) مقرر کی گئی تھی ‘ ریڈیو ‘ ٹی وی اور صحافیوں کی ایک سولہ رکنی ٹیم ایک بڑے ہیلی کاپٹر میں ہوتی تھی ‘ اس پوری مشن کے سربراہ اس دور کے آئی جی ایف سی میجر جنرل نصیر اللہ بابر تھے ‘ ان کے ساتھ دیگر عملے میں (تب) کیپٹن آفتاب احمد خان شیرپائو بھی شریک تھے ‘ سو جب پہلی بار میں ہیلی کاپٹر پرچڑھا اور اس نے پرواز شروع کی تو حقیقت یہ ہے کہ تھوڑی سی گھبراہٹ ضرور ہوئی تھی ‘ تاہم بعد میں عادت پڑ گئی تھی او رخوف جاتا رہا ‘ مگر جس وائرل ہونے والی تصویر کی بات کی جارہی ہے اس میں تو کسی کہنہ مشق اور تجربہ کار پائلٹ کے محفوظ ہاتھوں میں ہونے کا تصور ہی نہیں ہے بلکہ ایک شخص ایک ہی دن میں تربیت بھی مکمل کرتا ہے اور پھر ایک ناکارہ ہیلی کاپٹر کو خود اڑاتا بھی ہے جیسے جھولے لے رہا ہو ‘ خدا جانے اس نے یہ گانا سنا بھی ہو یا نہ اور اگرسا ہو تو اسے مفہوم کس نے سمجھایا ہوگا کہ
امبوا کی ڈاریوں پہ جھولنا جھلا جا
اب کے ساون تو سجن گھر آجا
ویسے بھی افغانستان میں آموں کی کاشت کہاں ہوئی ہے ‘ وہاں تو ا نگور ‘ سیب ‘ انار ‘ گرما اور خوبانی اور دیگر فروٹ اگتے ہیں خیر جانے دیں ‘ اوپر کی سطور میں ذوالفقار علی بھٹو کے بطور صدر مملکت صوبہ سرحد کے جس گیارہ روزہ دورے کا تذکرہ آیا ہے اس سے اسی دورے کے دوران کئی اہم باتیں یاد آگئی ہیں ‘ ایک تو یہ کہ نصیر اللہ بابر مرحوم جو بطور آتی جی ایف سی پوری فیلٹ کے انچارج تھے ‘ انہوں نے ہمارے ساتھ بڑے ہیلی کاپٹر میں سفر کرتے ہوئے پرانی یادوں کو تازہ کرتے ہوئے خود پائلٹ کی سیٹ سنبھالنے کی خواہش کی مگر تقریباً دس پندرہ منٹ کی پرواز کے بعد معاون پائلٹ(نیوی گیٹر)نے دست بستہ عرض کی ‘ جناب اگر جان کی امان پائوں تو عرض کروں کہ آپ اس وقت افغانستان کی سرحد کے اندر پرواز کر رہے ہیں ‘ ایسا نہ ہو کہ کوئی مسئلہ بن جائے ‘ یہ تو شکر ہے کہ ہم اس وقت بھارت کی سرحد کے پاس نہیں تھے ‘ بہرحال اپنی غلطی کا احساس ہوتے ہی انہوں نے پائلٹ کو واپس اپنی نشست دیدی اور یوں کوئی ناخوشگوار صورتحال پیدا نہ ہوسکی۔ اس پر ہمیں نصیر اللہ بابر کی 1971ء کی جنگ کے دوران بطور بریگیڈیرایک ہیلی کاپٹر میں بھارتی سرحدات کے(وہ بھی غلطی سے) اندر جا کر اترنے کا واقعہ یاد آگیا ‘ جہاں انہوں نے بھارتی سکھوں کے ایک رجمنٹ کو دیکھا تو فوراً ان کے ذہن میں یہ بات آئی اور انہوں نے پستول نکال کر للکارتے ہوئے کہا ‘ تم سب محاصرے میں آگئے ہو ‘ چپ چاپ ہتھیار پھینک کر میرے آگے آگے چلو ‘ بے چارے سکھ فوجیوں نے بھی گھبرا کر ہتھیار پھینک دیئے تھے اور یوں بابر صاحب انہیں ہنکا کر اپنے علاقے میں لے آئے تھے ‘ نصیر اللہ بابر صاحب کا یہ کارنامہ ہماری جنگی تاریخ کا ایک منفرد واقعہ ہے۔وانا میں جہاں ان دنوں جہانزیب خان مرحوم پولیٹیکل ایجنٹ تھے ‘ جو بعد میں کمشنر پشاور بھی رہے اور ریٹائرمنٹ کے بعد کسی نگران دور میں صوبائی
وزیر کے طور پر بھی کام کیا ‘ وہاں جرگہ سے خطاب کے بعد باہر لان میں صدر ذوالفقار علی بھٹو ‘وزیرداخلہ خان عبدالقیوم خان ‘ گورنر سرحد ارباب سکندر خان خلیل ‘مرکزی وزیر حیات محمد خان شیر پائو ‘ گورنر بلوچستان میر غوث بخش بزنجو ‘ گورنر پنجاب غلام مصطفی کھر اور دیگر اکابرین بیٹھے گپ شپ میں مصروف تھے ‘ اس وقت بنگلہ دیش کے رہنما شیخ مجیب الرحمان کے ان مطالبات کا بڑا چرچا تھا کہ پاکستان نہ صرف بنگلہ دیش کے اثاثہ جات دے بلکہ سابق مشرقی پاکستان میں جو مبینہ زیادتیاںخصوصاً خواتین کی بے حرمتی کی گئی ہے ان پر معافی مانگے ‘ ہم میڈیا کے لوگ ایک کونے میں کھڑے یہ سارا تماشا دیکھ رہے تھے ‘ بھٹو مرحوم نے پاکستان ٹائمز کے ملک مرتضیٰ اور اے پی پی کے اشرف مرزا کو آواز دی تو سارے صحافی قریب چلے گئے ‘ بھٹو مرحوم نے کہا ‘ یار اب کیا بنے گا ‘ یہ جو شیخ مجیب نے مطالبات کئے ہیں ‘ کہ ہمارے اثاثہ جات واپس کرو اور خواتین کی بے حرمتی پرمعافی مانگو ‘ ہرشخص کچھ نہ کچھ مشورہ دے رہا تھا کہ اچانک بھٹو مرحوم نے کہا ‘ دیکھو یار اثاثہ جات تو خیر ہم دے دیں گے کسی نہ کسی طرح ‘ مگر یہ معافی وغیرہ تو مجھ سے نہیں مانگی جائے گی ‘ میں نے زندگی میں کبھی معافی نہیں مانگی ۔ پھر تھوڑا سا توقف کرکے خان قیوم کی طرف رخ پھیرتے ہوئے کہا ‘ چلو معافی خان صاحب مانگ لیں گے(اس پر ایک زبردست قہقہہ بلند ہوا ) اور خان قیوم کی اس وقت جو حالت تھی وہ قابل دید تھی ‘ یاد رہے کہ ایوبی دور میں خان قیوم کا معافی مانگنے کا واقعہ بہت مشہور تھا۔بقول میر تقی میر
یوں پکارے ہے مجھے کوچہ جاناں والے
ادھر آئو ‘ ابے اوچاک گریباں والے
اسی دورے کے دوران ڈیرہ اسماعیل خان کے جلسہ عام میں بھٹو صاحب سے پہلے وزیر تعلیم حفیظ پیرزادہ نے ڈیرہ اور بنوں کے عوام کے مطالبے پر یویورسٹی بنانے کا اعلان کیا اور گیند صوبائی حکومت کے کورٹ میں پھینکتے ہوئے جگہ کا انتخاب اس دور کے وزیر اعلیٰ مفتی محمود کی صوابدید پر چھوڑ دیا ‘ مگر مفتی صاحب بھی کچی گولیاں نہیں کھیلے تھے انہوں نے وہیں بعد میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ‘ کہ یونیورسٹیاں قائم کرنا مرکزی حکومت کی ذمہ داری ہے وہ بتائے ہم ان کی خواہش پر جہاں چاہیں زمین الاٹ کر دیں گے ‘ یوں یہ ”حملہ” ناکام بنا دیا ۔