بی آئی ایس پی،مستحقین،کرونا کا مطلب ”کورونہ”

ایک ایسے وقت میں جب پورا ملک کرونا وائرس کے وباء کی لپیٹ میں ہے اور حکومت کی ساری توجہ اور مشینری یا تو اس وباء سے نمٹنے کی طرف متوجہ ہے یا پھر سرکاری امور معطل کر کے تعطیلات دی گئی ہیں اس کے پیش نظر میں نے اس ہفتے کا کالم موقوف کردیا تھا لیکن کالم نہ چھپنے کے باجود بھی جس طرح برقی پیغامات کی بھر مار رہی وہ اپنی جگہ ،بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے متاثرین کے باربار پیغامات سے یہ کالم لکھنے پر مجبور ہوئی۔اپر چترال کے بالائی علاقہ یار خون زگ سے ثروت علی کی شکایت ہے کہ ان کی والدہ کا کارڈ صرف اس بناء پر بند کر دیا گیا کہ ان کے موبائل فون میں ایک ہزار روپے کا بیلنس پڑا تھا۔یار خون ڈزگ ایک ایسا علاقہ ہے جہاں موبائل میں بیلنس نہ ہو تو سمجھو پتھر کے دور میں واپس چلے گئے ہو ماں کا دل بچوں کیلئے بے چین اور تڑپتا ہو تو بھوکی رہے گی مگر موبائل میں رقم ضرور رکھے گی پہلے کے دنوں کی بات اور تھی کہ مجبوری میں بس توکل اور دعائووں کا سہارا لیا جاتا رہا مگر اب جب سے یہ دورگو کی سہولت میسر آگئی ہے مائوں نے اس کا خاص استعمال یہ بنالیا ہے کہ بچہ بازار جائے اور دس منٹ لیٹ ہو تو ماں فوراً فون کر کے پوچھتی ہے بچی کے یونیورسٹی سے آنے میں تھوڑی تاخیر ہو جائے ماں فون کر کے تسلی کرتی ہے کہ بچی ٹریفک کے رش میں پھنسی ہوئی ہے یا پھر کسی اور وجہ سے تاخیر ہوئی ہے خیریت ہے ثروت علی نے حکومت کیلئے''بے انصاف حکومت''کا لفظ استعمال کیا تو ازراہ تفنن پوچھا گیا کہ ووٹ کس کو دیا تھا کہنے لگے اسی کا تو رونا ہے دھوکے میں آگیا تھا لوگوں کی باتوں پر اعتبار کر بیٹھا اور یقین سے ووٹ دیا کہ ہونہ ہو غریبوں کے مسائل کے حل کی کنجی اسی جماعت کی جیب میں ہے چوروں اور ڈاکوئوں سے لوٹا ہوا پیسہ آئے گا ملکی قرضے بھی اداہوں گے اور عوام کو بھی کچھ ملے گا یہ نہ سوچا تھا کہ ہر موجودہ حکومت رخصت شدہ حکومت سے مختلف نہیں ہوتی۔اس سے زیادہ سننے کی تاب نہ تھی ورنہ چترال کے دور افتادہ علاقے کا یہ صاف گونوجوان اورکیا کچھ کہہ جاتا۔بینظیر انکم سپورٹ ہو یا احساس پروگرام کے تحت دی جانے والی امداد اس سارے معاملے میں مکمل شفافیت کی توقع نہیں بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے غلط استعمال کے باعث جو کارڈ بلاک کئے گئے ہیں اس عمل کی پوری حامی ہوںلیکن جانے انجانے میں جس قسم کے افراد کے کارڈ بلاک ہوئے ہیں ان کی کہانیاں اور رواداد ابتلا سنیں توکلیجہ منہ کو آتا ہے بے شمار لوگ ہیں جو رونا رو رہے ہیں کہ ان کی گزراوقات کا ایک بڑا ذریعہ یہی سرکاری امدادی رقم تھی جو بند ہونے سے گونا گوں مشکلات ومصائب سے دوچار ہیں۔میں ایک مرتبہ پھر درمندانہ اپیل کرتی ہوں کہ حقیقی مستحق اور نادار افراد کے کارڈ جتنے جلد کھولے جا سکیں کھول دیئے جائیں اکثر کی یہ شکایت ہے کہ مقامی دفتر سے رجوع کرنے پر عملہ تعاون نہیں کرتا نہ ہی بات سنی جاتی ہے اور نہ ہی معروضات پیش کرنے کا موقع دیا جاتا ہے یہ مناسب رویہ نہیں یہ وقت ہمدردی اور غمخواری کا ہے کسی کی جیب سے مدد نہیں ہوسکتی تو کم از کم اس مشکل وقت میں محروم طبقے کو سنا تو جائے اور ان کے کارڈ بحال کرنے میں تاخیر نہ کی جائے۔جو لوگ مستحق نہیں تھے اور جو ضرورتمند نہیں تھے وہ کیوں منتوں پر اتر آئیں گے پہلے بھی انہوں نے منتوں اور ترلوں سے تو کارڈ نہ بنوائے ہوں گے ۔شمش لنڈی ارباب سے کہتے ہیں کہ اگر علاقہ کے ممبران صوبائی وقومی اسمبلی کو حلقے کے غریب عوام کی حالت زار کا علم نہ ہو تو سابق ناظمین اور سابق کونسلرحضرات کی خدمات حاصل کی جا سکتی ہیں ان کے علم میں ہے کہ ان کے علاقہ میں کن کن گھرانوں کو امداد کی ضرورت ہے۔اگرچہ شمس نے موجودہ حالات میں متاثر ہونے والے افراد کے حوالے سے تجویز پیش کی ہے لیکن یہی تجویز بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے حوالے سے بھی مناسب ہے۔میرے خیال میں بااختیار افراد درد دل رکھنے والے ہوں اور وہ ضرورتمندوں اور مستحقین سے ملاقات گوارہ کر کے ان کے بات سنیں تو دروازے سے صاحب کی میز تک آتے آتے اندازہ لگانا کوئی مشکل نہیں ان کا لب ولہجہ ان کا لباس اور ان کی بدنی گفتگو سبھی پکار پکار کر ان کے حقدار ہونے کی گواہی دے رہے ہوں گے باقی بات چیت سوال جواب اور ثبوت وشواہد اور حوالوں سے بات صاف ہو جائے گی شمس کی تجویزاچھی ہے بس ذرا سابق ناظمین اور کونسلرحضرات خوف خدا کر یں اور سیاست بازی کی بجائے حقیقی مستحقین سے حکومت کو آگاہ کریں تو ویسے بگاڑ بھی سارے کا سارا اسی سطح کا ہی ہوتا ہے اور غیر مستحق رشتہ دار دوست واحباب کی اکثریت انہی لوگوں کی سفارش کردہ لوگوں کی نکلتی ہے۔آخر بندہ اعتبار کس پہ کرے اینذرگل ضلع خیبر سے کافی غم وغصے کا اظہار کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ حکومت کو قبائلی عوام کی کیا پرواہ، کورونا وائرس کا شکار ہوں یا بھوک سے مریں، لاک ڈائون کے باعث سب کچھ بند پڑا ہے، عوام کریں تو کیا کریں۔صورتحال ہر گز ایسا نہیں اور نہ ہی حکومت قبائلی عوام سے کوئی امتیاز برت رہی ہے یہ ایک سازش کے تحت قبائلی عوام کی سوچ بنادی گئی ہے کہ حکومت اور سرکار بس ان کی دشمن ہے اور ان کو تکلیف دے رہی ہے۔ اینذر گل کی سادہ لوحی اور شکایت بجا لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس وقت پورے ملک کی یہی کیفیت ہے۔لوگوں کا گھروں میں رہنا ہی بہتر اور ان کا مفاد ہے کسی پٹھان بھائی نے بڑی اچھی بات کہی ہے کہ کرونا کا مطلب ہے کورونہ یعنی لوگ اپنے گھر میں رہیں۔جو لوگ جتنا گھر میں اور الگ تھلگ رہیں گے اتنا ہی بہتر ہوگا۔آزمائش کے دن ہیں عوام تعاون کریں اور میل جول کم سے کم کر کے وائرس کی منتقلی کا عمل جتنا سست کرسکیں اتنا جلد اس وباء کا خاتمہ ممکن ہوگا دوسری کوئی صورت نہیں سوائے اس کے کہ مالک کا ئنات خصوصی کرم کر ے اور بس۔
قارئین اپنی شکایات اور مسائل اس نمبر 03379750639 پر میسج کرسکتے ہیں۔