مگر اس دودھ میں ”پانی”نہیں ہے

گھر کی بھی کچھ بات کریں ہم ‘ گھر بھی آخر اپنا ہے ‘ یہ جو گزشتہ کچھ کالموں میں ہم”ایران طوران”کی باتیں کرتے آرہے تھے تو حالات کا تقاضا بھی یہی تھا اس لئے کہ دنیا میں رہتے ہوئے ہم اپنے اطراف سے اتنے غافل بھی نہیں رہ سکتے تھے سو کبھی افغانستان اور کبھی دیگر عالمی حالات پر تبصرہ ہم اپنی سمجھ اور صوابدید کے مطابق کرنے پرمجبور تھے’ تاہم اس کا یہ مطلب نہیں کہ اپنے گھر سے غافل ہوا جائے ‘ کہ بقول شاعر گھر کی خاطر سو دکھ جھیلیں گھرتوآ خراپنا ہے ‘ مگر کیا کیا جائے کہ یہ دکھ کچھ بڑھتے جارہے ہیں ‘ کچھ سرکار کی مہربانیاں بڑھ رہی ہیں اور کچھ مظالم خود عوام کی جانب سے عوام پرتوڑے جارہے ہیں ‘ یہ تو اچھا ہے کہ یہ جو عوام پر عوام کی جانب سے زیادتیاں نافذ کی جارہی ہیں کہیں نہ کہیں ان کا نوٹس لینے کی خبریں بھی متعلقہ سرکاری حکام کی جانب سے سامنے آرہی ہیں اور یہ یقین دلا رہی ہیں کہ ابھی کچھ لوگ باقی ہیں جہاں میں ‘ اس کی تازہ ترین خبر کل یعنی جمعتہ المبارک کو فیس بک پر یوں وائرل ہوئی کہ شہر کے اندر ایک علاقے میں”مصنوعی اور مضر صحت” دودھ اور دہی کی ایک دکان پر چھاپہ پڑنے اور موقع پر ہی متعلقہ حکام کی جانب سے اس انتہائی خطرناک دودھ اور دہی کو ٹیسٹ کرنے کے بعد اس میں فارملین نامی کیمیکل شامل کئے جانے پر سارا دودھ اور دہی انڈیل دینے کی ویڈیو سوشل میڈیا کے ذریعے عوام تک پہنچی ہے’ اس ویڈیو پر شہر کے باسیوں کے تبصرے بھی شامل ہیں ‘ ایک آدھ تبصروں میں کچھ علاقوں کاتذکرہ کرتے ہوئے ڈی سی پشاور کی توجہ دلائی گئی ہے کہ ان علاقوں میں بھی دودھ دہی کی دکانوں پر چھاپے مارے جائیں ‘ ایک تبصرہ البتہ زیادہ دلچسپ لگا کہ شہر کا کونسا علاقہ ہے جہاں بدعنوانی کا کھیل نہ کھیلا جارہا ہو ‘ اور سچی بات تو یہ ہے کہ اب اچھے برے کی پہچان ہی مشکل ہے ‘ یعنی آپ دودھ دہی لینے جائیں توآ پ یقین سے نہیں کہہ سکتے کہ جوچیز دودھ اور دہی کے نام پر خرید کر گھر لے جارہے ہیں وہ واقعی اصلی ہے یا پھر اس میں بھی کیمیکل شامل ہے ۔ اس پر ہمیں وہ شخص جنتی لگا جو صرف دودھ میں پانی کی ملاوٹ کرتا تھا اور ہمارے سکول کے زمانے کی کتابوں میں جس کی کہانی دودھ کا دودھ پانی کا پانی والے سبق کے ساتھ پڑھائی جاتی تھی جس کا مقصد ایمانداری کا درس دینا ہوتا تھا ‘ اسے بھی رہنے دیں ‘ آگے چلتے ہیں تو وہ شخص بھی بہت معصوم اور جنت مکانی نظرآیا جس نے قسم اٹھا کر لوگوں کویقین دلایا تھا کہ دودھ میں پانی نہیں ملاتا ‘ اپنے طور پر وہ درست بات کرتا تھا کیونکہ اس نے واقعی دودھ میں پانی کبھی نہیں ملایا بلکہ پانی میں دودھ ملا کر ایک ماہر قانون دان کی طرح جوعدالت میں اپنے دلائل کے بل پر اپنے موکل کو صاف بچا لے جانے میں کامیاب ہو جاتا ‘ اور وہ یوں کہ وہ دودھ دوہتے ہوئے بھنس کے تھنوں کے نیچے پہلے یہ بالٹی کے اندرپانی رکھ لیا کرتا تھا ‘ یوں اس کی قسم غلط تو نہیں ہوتی تھی کہ وہ دودھ میں پانی نہیں ملاتا ۔ تاہم
گوالا لاکھ کھاتے جائے قسمیں
مگر اس دودھ میں پانی بہت ہے
اب یہ الگ بات ہے کہ اس وقت ملک کے مختلف شہروں ‘ قصبوں ‘ دیہات’ گائوں ‘ بازاروں ‘ گلیوں وغیرہ وغیرہ میں پانی ملا دودھ ملتا ہی نہیں بلکہ دودھ کے نام پر انتہائی خطرناک کیمیکلز کا فارمولا بکتا ہے جس میں شنید ہے کہ واشنگ پائوڈر ‘ بناسپتی گھی ‘ دودھ کو ایک مقدارمیں شامل کرکے اس کو دودھ کی طرح گاڑھا کرنے کے لئے مردوں کومحفوظ کرنے والا کیمیکل فارملین بھی ایک خاص مقدارمیں شامل کیا جاتا ہے جو ماہرین صحت کے مطابق کئی خطرناک بیماریوں کا باعث بنتا ہے ‘ مگر یہ جولالچ ‘خود غرضی اور سفاکیت انسانوں کی آنکھوں میں ”چربی” بن کر چڑھ گئی ہے اور جس کی وجہ سے اس کو دنیا کی فکر رہی ہے نہ مافیہا کا احساس ‘موت تو وہ بالکل بھول چکا ہے ‘ دولت کتنی بھی انسان اکٹھی کر لے’ جانا تو خالی ہاتھ ہی ہے اور بقول شاعر
غرض نہیں ہے انہیں شہر کی روایت سے
یہ لوگ گائوں سے پیسے کمانے آئے ہیں
ہماری ایک بھتیجی راولپنڈی میں مقیم ہیں ‘ انہوں نے ایک دلچسپ کہانی اس حوالے سے یہ بتائی تھی کہ ایک بار جب وہ اندرون شہر پرانی آبادی میں رہائش پذیر تھیں تو ان کے مکان کے اوپر والی منزل پر فجر کے وقت زبردست قسم کی ”ہلچل” شروع ہو جاتی ۔ صورتحال کا جائزہ لینے کے بعد معلوم ہوا کہ ان کے گھرسے روزانہ صبح کے وقت منوں کے حساب سے”تازہ دودھ” گلی میں آنے والی سوزوکیوں کے ذریعے سپلائی ہوتا تھا۔ان کے ہاں نہ کوئی بھینسیں تھی نہ بھینس تنگ سڑھیوں سے اوپر کی منزل پر پہنچانے اور پالنے کا آسان طریقہ ایجاد ہوا تھا ‘ تو پھر یہ ہر روز منوں کے حساب سے”تازہ دودھ” کہاں سے آجاتاتھا؟
دنیا نے مجھ کو مال غنیمت سمجھ لیا
جتنا میں جس کے ہاتھ لگا لے اڑا مجھے
بات یہیں تک بھی رہتی تو چلیں برداشت بھی کر لیں ‘ مگر ظلم تو یہ ہے کہ ہوس زر نے اپنی جڑیں اس قدر گہرائی میں جا کر پیوست کی ہوئی ہیں کہ ان کی حدیں معلوم ہی نہیں ہو رہی ہیں ‘ اور ہر دو چار ماہ بعد قیمتوں میں خود ساختہ اضافہ عوام کے لئے سوہان روح بن جاتا ہے ابھی دو تین مہینے پہلے ‘ اس سے بھی دو چار ماہ پہلے ‘ دودھ کی قیمتیں جو سو روپے فی لیٹر اور دہی ایک سو دس روپے کلو ملتا تھا ‘ اس میں بتدریج اضافہ ہوتے ہوئے پہلے ایک سو دس ایک سو بیس یعنی دودھ ایک سو دس ‘ دہی ایک سو بیس روپے پھر 130/120 روپے ‘ ازاں بعد 140/130 روپے اور اب یکم ستمبر سے نیا نرخ نامہ تھوپ دیا گیا یعنی دودھ 140 اور دہی 150 روپے کا ہو گیا ہے ‘مگر پوچھنے والا کون ہے ؟ بقول شاعر(تصرف کے ساتھ) ہے کوئی ایسا ‘ ایسا ہو تو سامنے آئے۔۔۔ عوام بے چارے ایک جانب سرکار اور دوسری جانب ناجائزمنافع خوروں کے ہاتھوں میں”مردہ بدست زندہ” بن چکے ہیں ۔ سرکار بجلی ‘ پانی ‘ گیس ‘ پٹرولیم وغیرہ وغیرہ کے ریٹ بڑھا بڑھا کر عوام کوزندہ در گور کر رہی ہے تو منافع خور خطرناک کیمیکلزکھلا پلا کر اس کام کو آسان کر رہے ہیں ‘ عوام کے لئے تو اب ایک موت ہی”سکون” کا باعث نظر آتی ہے مگر بقول مرزاغالب مر کے بھی چین نہ پایا تو کدھر جائیں گے ۔ اب تو سرکار والا مدار سے فراز کے الفاظ میں کہنا پڑے گا
منتظر کب سے تحیر ہے تری تقریر کا
بات کر تجھ پرگماں ہونے لگا تصویر کا