طالبان کا حوصلہ افزاء طرز عمل

ترجمان طالبان ذبیح اللہ مجاہد نے پاکستان کو یقین دہانی کرائی ہے کہ افغان سرزمین ان کی سلامتی کے خلاف استعمال نہیں ہونے دیں گے۔ پاکستان کو یقین دلاتے ہیں کہ افغانستان کی سرزمین سے اس کی سلامتی کے لئے کوئی خطرہ نہیں ہوگا۔ترجمان طالبان ذبیح اللہ مجاہد نے کہا کہ سی پیک کو افغانستان سے منسلک کرکے اہم تجارتی مقاصد حاصل کیے جاسکتے ہیں۔ سی پیک کے توسیعی منصوبے کا خیرمقدم کریں گے۔افغانستان میں طالبان کی ممکنہ حکومت کے قیام کے بعد پاکستان سے اس کے تعلقات کی نوعیت کا اندازہ لگانا زیادہ مشکل امر نہیں ان کی حکومت کے پاکستان کے ساتھ تعلقات کیسے ہوں گے وہ ان کے ترجمان کے بیان اور پاکستانی قیادت کے حالیہ دورہ کابل سے بخوبی واضح ہے بہرحال افغانستان میں قیام امن طالبان امریکہ مذاکرات امریکی فوج کے انخلاء میں تعاون اور طالبان کے لئے پاکستان کا بہرصورت قابل قبول ملک ہونا جیسے معاملات کوئی پوشیدہ امر نہیں اس کے باوجود عملی اور سفارتی طور پر دونوں ممالک کے درمیان تعلقات و روابط کے بعد ہی حقیقی صورتحال واضح ہو گی روس ' چین اور پاکستان ایران ترکی قطر اور بعض وسطی ایشیائی ریاستوں سے طالبان حکومت کے تعلقات کی باہمی علاقائی ضرورت مسلمہ امر ہے۔علاقہ میں امن وا ستحکام کے لئے علاقائی تعاون خطے کے سبھی ممالک کی ضرورت ہے علاوہ ازیں بھی افغانستان کو عدم استحکام کا شکار ہونے سے بچانے اور افغان عوام کو پناہ گزین ہونے کی بجائے اپنے ملک کی تعمیر و ترقی میں حصہ دار بنانے کے مواقع میں بین الاقوامی مدد کی اہمیت مسلمہ ہے سی پیک کی صورت میں علاقائی ترقی کا جو عالمی منصوبہ جاری ہے اس میں افغانستان کو شامل کرنا علاقائی وجغرافیائی ضرورت کے ساتھ ساتھ افغان عوام کے مسائل میں کمی لانے کا اہم قدم ہو گا۔ اس حوالے سے طالبان ترجمان کا واضح بیان اس امر کا ادراک ہے کہ طالبان کی ممکنہ حکومت علاقائی ممالک اور اہم منصوبوں کے حوالے سے مثبت اور تعمیری سوچ رکھتی ہے انہیں بجا طور پر اس امر کا ادراک ہے کہ سی پیک اور پاکستان سے تجارت کی کیا اہمیت ہے خوش آئند امر یہ ہے کہ طالبان کی کابل آمد سے تاایندم مسلسل اس امر کی یقین دہائی کرائی جارہی ہے کہ افغانستان کی سرزمین ماضی کی طرح پاکستان کی سلامتی اور استحکام کے لئے مزید خطرہ نہیں رہے گا اور اس حوالے سے طالبان اپنی ذمہ داریاں پوری کریں گے ۔ علاوہ ازیں بھی طالبان نے اس امر کی خوش آئند یقین دہانی کرائی ہے کہ افغانستان کی سرزمین کسی دیگر ملک کے خلاف استعمال نہیں ہو گا۔ اس وقت دنیا طالبان کی پالیسیوں کا بغور جائزہ لے رہی ہے روس ' چین ' ا یران ' ترکی اور قطر سمیت بعض ممالک سے اب بھی کسی نہ کسی طرح روابط ہیں جبکہ یورپی یونین بھی محتاط انداز میں بعض شرائط کے ساتھ طالبان سے تعلقات کی خواہاں ہے۔یورپی یونین نے افغان طالبان کے ساتھ روابط قائم کرنے کی خاطر اپنی شرائط وضع کر لی ہیں۔ تاہم واضح کیا گیا ہے کہ اس کا مطلب یہ نہ لیا جائے کہ یورپی یونین طالبان کی حکومت کو تسلیم کر رہی ہے۔اسے طوعاً وکرھاً طالبان کی حکومت کو تسلیم کرنے کے مترادف ہے یورپی یونین کے خارجہ امور کے نگران نے یہ بھی کہا ہے کہ یورپی یونین کابل میں اپنی موجودگی قائم کرنے کے بارے میں متفق ہے تاہم اس کے لئے حالات کا سازگار اور سکیورٹی کو یقینی ہونا ضروری ہے۔ اس مشن کے تحت یورپی ممالک افغان طالبان کے ساتھ ورکنگ ریلشن شپ قائم کرنے کی کوشش کریں گے۔مبصرین کا بجا طور پر خیال ہے کہ چین اور روس نے افغان طالبان کی مدد کی اور افغانستان کو تنہا نہیں چھوڑا، تو شاید پھر مغرب کی طرف سے تنہا چھوڑنے کے اس عمل کی اتنی اہمیت نہیں ہوگی لیکن اگر ایسا نہیں ہوا تو پاکستان میں مہاجرین کا ایک سیلاب آجائے گا اور مالی پریشانیوں میں اضافہ ہو گا اس کے علاوہ پاکستان کا سماجی ڈھانچہ بھی تباہی کا شکار ہو سکتا ہے۔ خورشید قصوری کہتے ہیں کہ اگر پاکستان نے کابل میں طالبان کی حکومت کو تسلیم کر لیا، تو بھارت بھی دبائو میں آ جائے گا اور نہیں چاہے گا کہ پاکستان کو افغانستان میں کھلا راستہ دستیاب ہو۔ اس لئے بھارت نے بھی طالبان کے ساتھ روابط قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔اس سلسلے میں بھارت کی طرف سے پہلا قدم اٹھا بھی لیا گیا ہے۔محولہ تمام عوامل افغانستان میں طالبان کی ممکنہ حکومت کی پالیسیوں پر منحصر اور مشروط ہیں ایسے میں طالبان کی پاکستان سے خاص طور پر اور خطے کے دیگر ممالک کے ساتھ ساتھ دنیا کے دیگر ممالک کے ساتھ اچھے تعلقات اور دنیا کے لئے اپنی حکومت کو قابل قبول بنانا وقت کی ضرورت ہے۔
کورونا ' پھر سے نئی پابندیاں
اسلام آباد سمیت کئی اضلاع میں نئی بندشیں، سکول اور ٹرانسپورٹ بندکورونا کے کیسز میں اضافے کے باعث وفاقی دارالحکومت اسلام آباد، پنجاب اور خیبرپختونخوا کے چند شہروں میں نئی پابندیاں لگانے کا فیصلہ کیا گیا ہے، جن میں سکول اور انٹرسٹی ٹرانسپورٹ کی بندش بھی شامل ہے۔وباء کی لہروں کا بار بار آنے کا مطلب یہی ہے کہ احتیاطی تدابیر پر ذمہ داری سے عمل نہیں کیا جا رہا۔وباء کی شدت کے پیش نظر ہنگامی اقدامات بلا شبہ ناگزیر ہوتے ہیں اور ان کے بغیر چارہ نہیں مگر یہ سوال بہرحال موجود ہے کہ ہمارے ہاں کورونا بچائو کے اقدامات میں حکومت کی پہلی نظر تعلیمی اداروں پر ہی کیوں پڑتی ہے حالانکہ کورونا احتیاطی تدابیر پر اگر کوئی شعبہ پوری تندہی 'فرض شناسی سے عمل کر رہا ہے تو وہ تعلیم کا شعبہ ہی ہے اگر دیگر شعبوں میں دیکھا جائے تو اس سطح کی احتیاطی تدابیر کہیں دکھائی نہیں دیتیں۔ مارکیٹوں دکانوں میں تو ہرگز نہیں جہاں کھلے عام احتیاطی تدابیر سے انحراف پر کارروائی کی ضرورت ہی محسوس نہیں کی جاتی جو لمحہ فکریہ ہے چاہئے تو یہ تھا کہ تعلیمی اداروں کے ذمہ دارانہ کردار کو دیگر شعبوں کے لئے مثال کے طور پر پیش کیا جاتا مگر یہاں نزلہ بر عضو ضعیف کے مصداق ہر بار تعلیمی سرگرمیاں ہی پابندیوں کا تختہ مشق بن رہی ہیں۔ اگر واقعی ایسا ناگزیر ہو تو ضرور کیا جائے مگر بات یہ ہے کہ صرف تعلیمی سرگرمیاں روک دینے سے کورونا وباء کی تخفیف میں کوئی مدد نہیں مل سکتی۔ ڈیڑھ برس سے اس عالمگیر وباء کے ساتھ نمٹتے ہوئے ہمیں اتنا کچھ تو سیکھ ہی جانا چاہئے تھا کہ کس طرح محفوظ طریقے سے معمولات زندگی جاری رکھے جا سکتے ہیں۔ احتیاطی تدابیر پر عمل کرتے ہوئے ایسا کرنا ممکن تھا جبکہ کورونا ویکسین کی دستیابی نے دیگر دنیا کی طرح ہمیں بھی اس وباء سے بچائو کے لئے خصوصی ڈھال مہیا کر دی تھی مگر نہ ہمارے ہاں وبا ء سے بچائو کی حفاظتی تدابیر پر معیاری انداز سے اور تسلسل کے ساتھ عمل جاری رکھا جا سکا اور نہ ہی عوام میں ویکسین کا رجحان خاطر خواہ حد تک بڑھایا جا سکا۔ ہاتھ دھونے ماسک پہننے اور سماجی فاصلہ اختیار کرنے کی ہدایات آج بھی اسی طرح ضروری ہیں اور ان احتیاطی تدابیر پر عمل یقینی بنانے کے لئے ضروری تھا کہ ان تدابیر کو عوام کی فطرت ثانیہ بنایا جاتا ایسا نہ ہونے میں صرف حکومت نہیں عوام کا قصور سب سے زیادہ ہے جو خود اپنے مفاد اور صحت کی حفاظت کی ضرورت کا بھی خیال نہیں رکھتی جو نہایت غیر ذمہ دارانہ طرز عمل ہے جب تک اس طرزعمل پر نظرثانی نہ ہو جوبھی قدم اٹھایا جائے چنداں موثر اور کارگر نہ ہوگا۔