The decision to include women in the Taliban government

طالبان حکومت میں خواتین کی شمولیت بارے فیصلہ تاحال نہ ہوسکا

ویب ڈیسک(کابل)طالبان کےسیاسی بیوروکےرکن سہیل شاہین نےکہاکہ اگلی حکومت میں خواتین کےحقوق کاتحفظ کیاگیاانہوں نےامریکہ سےمطالبہ کیاکہ وہ افغانی ثقافت کوتبدیل کرنےکی کوشش بندکرے۔

فاکس نیوزکوانٹرویودیتےہوئےبتایاکہ خواتین اسلامی حجاب پہن کرکام اورتعلیم حاصل کرسکتی ہیں۔

انہوں نےمزید کہا کہ وہ امریکہ سمیت کسی بھی ملک کوافغانستان کےمعاملات میں مداخلت کی اجازت نہیں دیںگے۔وہ ایک ایسےوقت میں بات کررہےتھےجب کابل میں خواتین کی ایک بڑی تعداد نےاگلی حکومت میں اپنی شمولیت کامطالبہ کیاہے۔

تاہم طالبان خواتین کی حکومت میں شمولیت سےمتعلق تاحال فیصلہ نہ کرسکےالبتہ وہ سرکاری دفاترمیں خواتین کےکام کرنےپرکچھ مائل نظرآتےہیں۔

گزشتہ ہفتےدوحہ میں ایک سینئرطالبان مذاکرات کارشیرمحمدعباس ستانکزئی کےمطابق خواتین کام کرسکتی ہیں لیکن انہیں حکومت میں اعلی عہدوں پرکام کرنےکی اجازت نہیں دی جائیگی۔

یہ بھی پڑھیں:افغان جامعات میں مخلوط تعلیم ختم کرنےکافیصلہ

ایسےہی طالبان کےترجمان ذبیح اللہ مجاہدنےگزشتہ ماہ ایک پریس کانفرنس میں کہاتھاکہ خواتین اسلامی اصولوں کےتحت کام کرسکتی ہیں انکا کہناتھاکہ خواتین معاشرےکااہم عنصر ہیں۔”وہ اسلام کےدائرے میں رہ کراپنا کام جاری رکھ سکتی ہیں۔”

ایک اورطالبان رہنماانعام اللہ سمنگانی جوکہ طالبان کےثقافتی کمیشن کےرکن ہیں نےکہا تھاکہ وہ افغان خواتین جوقیادت کی صلاحیتیں رکھتی ہیں وہ مستقبل کی حکومت میں حصہ لےسکتی ہیں۔

انہوں نےکہاتھاکہ خواتین اسلامی شریعت (قوانین)پر عمل کرتےہوئےاپنی ملازمتوں پرواپس آسکتی ہیں۔

ادھرایک سابق حکومتی عہدیدار اورمیڈیاورکرنوریہ نزہت نے کہا کہ طالبان نےاب تک سرکاری اداروں میں خواتین کےکام کرنےکےحق پرایک متفقہ موقف کااظہارنہیں کیاہے۔

نزہت نےکہا،”معاشرے اور سیاست میں خواتین کی سرگرمیوں کےبارے میں طالبان کےدرمیان کوئی متفقہ نظریہ نہیں ہے۔معیشت، ثقافتی اورتعلیمی شعبوں میں بھی یہی حال ہے۔”

سابق افغان سفیرشکریہ بارکزئی نےکہا کہ طالبان کوایک ایسی حکومت بنانی چاہیےجس میں تمام نسلی اورمذہبی گروہوں کےساتھ خواتین کی بھی نمائندگی ہو۔

بارکزئی نے مزید کہا کہ اگرہم خواتین کوقیادت سےہٹا دیں تویہ ایک تاریخی غلطی ہوگی۔