Idhariya

طالبان قیادت کا پاکستان پر اعتماد

انٹر سروسز انٹیلی جنس کے ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید نے اپنے دورہ کابل میں طالبان نمائندوں سے ملاقات کی ہے، جس میں پاکستان اور افغانستان کے درمیان اقتصادی اور تجارتی تعلقات سمیت دو طرفہ اہم امور زیر گفتگو رہے ، پاک افغان سرحدی صورت حال ، مجموعی سلامتی کے مسائل پر مشاورت کی گئی ، دورہ کابل میں اس بات کو یقینی بنانے کی کوشش کی گئی کہ فساد پیدا کرنے والے اور دہشت گرد تنظیم تنظیمیں صورت حال کا فائدہ نہ اٹھا ئیں۔
افغانستان سے امریکی افواج کے انخلا کے بعد موجودہ حالات کے تناظر میںافغان شوریٰ کی دعوت پر پاکستانی وفد کا دورہ کابل انتہائی اہمیت کا حامل ہے اور اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ افغان قیادت کو پاکستان پر اعتماد ہے۔ طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد اس بات کی تصدیق کر چکے ہیں کہ پاکستانی وفد کے دورہ کابل میں ہوائی اڈوں کی تعمیر نو ، ڈیورنڈ لائن پر افغان پناہ گزینوں کی حالت زار اور دیگر مسائل پر توجہ دی گئی۔ کابل ایئرپورٹ پر جب غیر ملکی صحافیوں کی طرف سے دورہ افغانستان بارے جنرل فیض حمید سے سوال کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ وہ افغانستان میں امن و استحکام کے لیے کام کر رہے ہیں اور وہ اس معاملے پر بات چیت کے لیے کابل آئے ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ پاکستان نے ہمیشہ افغانستان میں استحکام اور امن کی بات کی ہے، اس ضمن میں ایک وقت ایسا بھی آیا کہ افغان جنگ میں نان نیٹو اتحادی ہونے کی وجہ سے جنگ کے شعلے پاکستان میں محسوس کیے جانے لگے، افغان جنگ میں پاکستان کی قربانیوں کی فہرست بہت طویل ہے ، جانی ومالی نقصان اٹھانے کے باوجود پاکستان نے کبھی افغانستان میںامن کوششیں ترک نہیں کیں، پاکستان نے دنیا کو باور کرانے کی کوشش کی کہ افغان مسئلے کو طاقت کی بجائے مذاکرات کے ذریعے سیاسی انداز میں حل کرنے کی کوشش کی جائے، طویل جدوجہد کے بعد دنیا کو پاکستان کی بات سمجھ آئی تو قطر کے شہر دوحہ میں طالبان کے ساتھ خفیہ مذاکرات کا دور شروع ہوا ،جس میں بنیادی کردار پاکستان کا تھا، لیکن باوجود اس کے کہ امریکہ پاکستان کی افغانستان میں قربانیوں کو نظر انداز کر رہا تھا پاکستان نے خطے کے مجموعی امن کو مد نظر رکھتے ہوئے امن کیلئے کوششیں جاری رکھیں، جب طالبان اور امریکہ کے درمیان مذاکرات کامیاب ہوتے دکھائی دیے تو امریکہ کی طرف سے دبے لفظوں میں پاکستان کی کوششوںکو تسلیم کیا گیا، لیکن طالبان کی طرف سے ہر دور میںپاکستان پراعتماد کا اظہار کیا گیا ، یہی وجہ ہے کہ جب افغانستان میں 20سالہ جنگ کا مذاکرات کے ذریعے خاتمہ ہوا تو بحران پر قابو پانے کے لیے افغان شوریٰ نے پاکستان سے مشاورت کو ضروری سمجھا ، یہ پاکستان کے لیے یقیناً بہت بڑی کامیابی ہے کہ پڑوسی ممالک اس پر اعتماد کا اظہار کرتے ہیں۔ اس کے برعکس اگر بھارت کے کردار کو دیکھا جائے تو ہمیشہ منفی رہا ہے اور بھارت نے ہر وہ کام کرنے کی کوشش کی ہے جس سے خطے کا مجموعی امن غارت ہو جائے ، در حقیقت بھارت نے امریکی سرپرستی میں یہ سمجھنا شروع کر دیا تھا کہ شاید اسے لامحدود اختیارات حاصل ہو گئے ہیں لیکن امریکہ کے انخلا کے ساتھ ہی بھارت کا افغانستان میں کردار کلی طور پر ختم ہو گیا ، بلکہ اسے افغانستان کی نئے حکومت کے ساتھ تعلقات قائم کرنے کے لیے دیگر ممالک کی حمایت کی ضرورت پیش آ رہی ہے۔ اس وقت پاکستان کی پوزیشن یہ ہے کہ افغان قیادت ، خطے کے دیگر ممالک اور بین الاقوامی تنظیمیں پاکستان سے درخواست کر رہی ہیں کہ وہ اپنے ملک میں مہاجرین کی منتقلی اور پاکستان کے ذریعے ٹرانزٹ ٹریڈ کی اجازت دے، جس کے لیے یقیناً ایک ٹھوس طریقہ کار کی ضرورت ہے، اسی سلسلے میں پاکستان کی سول و عسکری قیادت کا افغان قیادت کے ساتھ مل بیٹھنا اور باہمی مشاورت بھی ضروری ہے جس میںآنے والے دنوں میں اضافہ ہو سکتا ہے، چونکہ اب بھی افغانستان میںخانہ جنگی کے مواقع موجود ہیں ، اس لیے سرحد کی مؤثر نگرانی اور انتظام کاری ضروری ہے تاکہ دونوں ممالک میںآمد و رفت کو مکمل طور پر قانونی و دستاویزی بنایا جا سکے ۔پاکستان کی یہ کوششیں اس بات کی عکاسی کرتی ہیں کہ جس طرح پاکستان نے نامساعد اور مشکل حالات میں افغانستان کا ساتھ دیا، اسی طرح مستقبل میں بھی یہ تعاون جاری رہے گا۔ خوش کن امر یہ ہے کہ طالبان قیادت نے بھی پاکستان کو قابل بھروسہ دوست ملک اور قیام امن میں پاکستان کے تعاون کی ضرورت کا اظہار کیا ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ جس طرح پاکستان نے افغانستان میں قیام امن کے لیے کردار ادا کیا ہے ،دیگرممالک بھی خطے کے مجموعی امن کو سامنے رکھتے ہوئے کردار ادا کریں، کیونکہ 20سالہ جنگ کے اختتام کے بعد افغانستان کی تعمیر نو کا مرحلہ ہے، جس طرح نائن الیون کے بعد دنیا نے افغانستان کی تعمیر نو پر توجہ دی تھی اب بھی ایسے ہی کردارکی ضرورت ہے۔