Shazray

افغانستان مالی بحران، اقوام متحدہ کی ذمہ داریاں

اقوام متحدہ نے افغانستان میں رونما ہونے والی صورتحال کے تناظر میں ممکنہ انسانی بحران سے نمٹنے کے لیے 13ستمبر کو جینیوا میں بین الاقوامی امداد کانفرنس بلانے کا فیصلہ کیا ہے، اقوام متحدہ کی طرف سے افغانستان کی موجودہ صورتحال کو سامنے رکھ کر ڈونرز کانفرنس بلانے کا فیصلہ ہر اعتبار سے قابل تحسین اور وقت کی اہم ضرورت ہے، کیونکہ امریکی افواج کے انخلاء اور اشرف غنی کی حکومت کے خاتمے کے بعد افغانستان میں مالی بحران سر اٹھا رہا ہے، اگر اس بحران کی طرف توجہ نہ دی گئی تو خدشہ ہے کہ یہ بحران شدت اختیار کر جائے گا۔
عالمی برادری کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ افغانستان کے موجودہ حالات کو دیکھتے ہوئے انہیں تنہا نہ چھوڑے، اقوام متحدہ کے قیام کی بنیادی ذمہ داریوں میں یہ بات شامل ہے کہ بلا فریق رنگ و نسل وہ انسانیت کے تحفظ کے لیے اپنا کردار ادا کرتا رہے گا، بالخصوص جنگ زدہ علاقے میں اقوام متحدہ کی ذمہ داریوں میں دو چند اضافہ ہو جاتا ہے، افغانستان سے امریکی افواج کے انخلا کے بعد جب امریکہ اور اس کے اتحادیوں سمیت متعدد ممالک تحفظات رکھتے ہیں تو ایسے حالات میں اقوام متحدہ ہی ایک ایسا فورم ہے جو آگے بڑھ کر انسانیت کو تحفظ فراہم کرنے کیلئے اپنا کردار ادا کرے۔ یورپی یونین اور دیگر کئی ممالک افغانستان کے ساتھ تعاون کی بات کر چکے ہیں لیکن امریکہ کی مخالفت کے پیش نظر کوئی بھی ملک اپنے طور پر اقدام اٹھانے کے لیے تیار نہیںہے۔ یہی کام اگر اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم سے باہمی مشاورت اور رکن ممالک کی شراکت سے ہوگا تو کسی کو اعتراض نہیں ہو گا، خوش آئند امر یہ ہے کہ حالات کو دیکھتے ہوئے اقوام متحدہ نے ڈونر کانفرنس طلب کر لی ہے، ضرورت اس بات کی ہے کہ مزید تاخیر سے گریز کیا جائے تاکہ مالی مشکلات کا خاتمہ کر کے انسانیت کو تحفظ فراہم کیا جا سکے۔
عارضی آسامیوں کے خاتمے کا اہم فیصلہ
وفاقی حکومت نے وزارتوں اور محکموں میں عارضی آسامیاں ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ وفاقی حکومت کی طرف سے عارضی آسامیوں کے خاتمے کا فیصلہ بظاہر روزگار فراہمی کے خلاف دکھائی دیتی ہے، تاہم عارضی آسامیوں کی وجہ سے چند مسائل پیدا ہو رہے تھے جس کی وجہ سے اداروں کی کارکردگی بری طرح متاثر ہو رہی تھی۔ حقیقت یہ ہے کہ نوے کی دہائی میں چند اداروں اور محکموں کو مخصوص مدت کے لیے عارضی بنیادوں پر بھرتی کی اجازت دی گئی تھی تاکہ کام کا بوجھ تقسیم ہو سکے اور بروقت ڈلیور کیا جا سکے، پھر دیکھا دیکھی یہ رواج دیگر اداروں میںچل نکلا اور یہ جملے زبان زد عام ہو گئے کہ سرکاری اداروں میں سارا کام عارضی بنیادوں پر بھرتی کیے گئے ملازمین کرتے ہیں۔ مستقل ملازمین اس وجہ سے کام کو ہاتھ نہیں لگاتے کیونکہ انہیںملازمت کے خاتمے کا خوف نہیں ہوتا ہے، تحریک انصاف کی حکومت نے عارضی بنیادوں پر کام کرنے والے ملازمین کو برطرف کرنے کا فیصلہ کیا ہے تو اس کے پس پردہ بھی یہی مقاصد ہیں کہ مستقل ملازمین کام کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں، جب عارضی ملازمین کو فارغ کر دیا جائے گا ، تو مستقل ملازمین کو کام کرنا پڑے گا ، یوں قومی خزانے پر جو عارضی ملازمین کی وجہ سے اضافی بوجھ پڑ رہا تھا وہ بوجھ نہیں پڑے گا ، اور ایک ہی کام کے لیے کئی کئی ملازمین کی بجائے ضرورت کے مطابق عملہ کو کارکردگی پیش کرنے پر مجبور کیا جائے گا۔ اس حوالے سے دیکھا جائے تو حکومت کا عارضی آسامیوں پر دوبارہ بھرتی نہ کرنے کا فیصلہ اہم فیصلہ ہے جس کے دور رس اثرات مرتب ہوںگے۔
عوام کو سی پیک کے ثمرات کب ملیں گے؟
وزیر اعظم عمران خان کے معاون خصوصی برائے سی پیک خالد منصور نے سی پیک کے دوسرے فیز میں پاکستانیوںکے لیے لاکھوں ملازمتوں کے مواقع کا دعویٰ کیا ہے، حکومتی دعوے کی بنیاد سی پیک کے وہ منصوبے ہیں جو مستقبل قریب میںمکمل ہونے والے ہیں۔ سی پیک اقتصادی راہداری ہے جو تجارت کے لیے اہم شاہراہ کا کردار ادا کرے گی جب کہ اس منصوبے میںشامل وہ اقتصادی زونز جو پورے ملک میں پھیلے ہوںگے، اہمیت کے حامل ہیں، اقتصادی زونز کی فعالیت سے فیکٹری اور کارخانہ چلے گا اور اسی سے ہی لاکھوں لوگوں کو روزگار بھی ملے گا، تاہم ان صنعتی زونز کی تکمیل کے لیے چند سال درکار ہوںگے۔
امرواقعہ یہ ہے کہ تحریک انصاف کی حکومت کے ابتدائی سال میں عوام سے کہا گیا کہ سابقہ حکومتوں نے معیشت کو نقصان پہنچایا ہے اور بیرونی قرضوں کی وجہ سے پہلے سال عوام کو ریلیف دینا آسان نہیں ہے، دوسرے سال کے آغاز میں وزیر اعظم عمران خان کی طرف سے کہا گیا کہ اب عوام کو ڈلیور کرنے اورخوشحالی کا وقت آ گیا ہے، لیکن انہی دنوں دنیاکو کورونا نے آ لیا، اور دسمبر 2019ء سے تاحال حکومت کورونا کو جواز بنا کر مہنگائی و بے روزگاری پر پردہ ڈال رہی ہے، حالانکہ کورونا کی وجہ سے سب سے زیادہ نقصان غریب طبقے کو ہوا ۔ لاکھوں لوگ اس عرصے میں بے روزگار ہوئے اور ہزاروں کا کاروبار ختم ہو گیا، ایسے حالات میں عوام حکومت کی طرف دیکھتے ہیں کہ حکومت کی طرف سے انہیں ریلیف ملے گا اور ان کا مشکل وقت گزر جائے گا لیکن حکومت کی طرف سے وقتی تعاون کے علاوہ کچھ نہیںکیا گیا۔ مستقل روزگار اور کاروبار کی بحالی ہی عوام کی خوشحالی کی علامت ہے، اس لیے ضروری ہے کہ سی پیک کے اقتصادی زونز پر کام کی رفتار تیز کی جائے تاکہ اقتصادی زونز کی فعالی سے عوام کو روزگار اور کاروبار کے مواقع میسر آ سکیں۔