Mashriqiyat

مشرقیات

کہانی کے لئے موضوع تلاش نہیں کیا جاتا کہانی تو اندر دل کے نہاں خانوں میں پرورش پاتی ہے کبھی غور سے جھانک کر دیکھیں اپنے اند ر ایک نہیں درجنوں موضوعات ہاتھ آجائیں گے،و ہ جو انسانی کمزوریاں ہوتی ہیں جن کی وجہ سے انسان کو خطا کا پتلا کہاجاتا ہے اور پھر خطاپہ خطا کرتا جاتاہے وہ ہرانسان کے اندر ہوتی ہیں،ایسے ہی خوبیوں کی تلاش میں بھی مارے مارے پھرنے کی ضرورت نہیں ہوتی ،یہ جو دل ہوتا ہے سمندروں ڈونگا اسی میں ڈول ڈال کر آپ اپنی خوبیوں کو بھی سامنے لا سکتے ہیں۔مطلب یہ کہ حضرت انساں مجموعہ اضداد ہے نیک وبد کا۔اب مرضی آپ کی ہے کہ نیکی کرنی ہے یا برائی کمانی ہے۔
یہ جو کہتے ہیں کہ اچھا برا قسمت سے ملتاہے اس میں بھی ترمیم کرلیں اچھا برا قسمت سے نہیں ملتا یہ انسان کی اپنی کمائی ہوتی ہے اچھاکریں گے تو اچھائی کا بدلہ بھی اچھا ہوگا۔برائی سے پیش آئیں گے تو یہی بری نیت گلے پڑی نظر آئے گی کسی دن۔ہمارے ایک دوست ہیں سارا دن بستر پر لیٹے انہیں موبائل کی لت مصروف رکھتی ہے ،مہینے میں ایک آدھ بار جب بھی ملتے ہیں اپنی بے روزگاری اورقسمت کی خرابی کے شکوے شکایتوں کے بنڈل کھول لیتے ہیں۔یہی دوست موبائل پر نئی نئی دوستیاں پالنے کے بھی شوقین ہیں اور اس شوق میں مجال ہے کہ کبھی ان کی قسمت نے پاکھنڈ مچائی ہو،جب بھی نئی دوستی کی شروعات کرتے ہیں اپنا تعارف پدرم سلطان بو د کے طور رپر کراتے ہیںپھر انہیں جب صباکی طرف سے ایزی لوڈ کے میسیج آنے لگتے ہیں تو اپنی خیالی وراثتی سلطنت سے انہیں راہ فرار ڈھونڈنی پڑتی ہے ،ایک بار تو صبا بری طرح ان کے پیچھے پڑگئی ایزی لوڈ کے نام پر اس نے موصوف سے پورا شاپنگ پیکیج مانگ لیا تھا۔تنگ آکر ہمارے دوست نے ادھر ادھر سے رجوع کیاتو انشاء اللہ خان انشاء اللہ کا نادر نسخہ ان کے ہاتھ آگیا اپنے حسب حال ایک شعر چن کر صبا کو ارسال کر دیا،شعر تھا ،
نہ چھیڑ اے نکہت باد بہاری راہ لگ اپنی
تجھے اٹکھیلیاں سوجھی ہیں ہم بیزار بیٹھے ہیں
ظاہر ہے اس کے بعد صباکو سمجھ آہی جانی تھی کہ پدرم سلطان بود کی لن ترانی کرنے والا اپنے گھرمیں بھی ”کام کا نہ کاج کا،د شمن اناج کا”کے طعنے سننے والا کوئی بے روزگار ہے۔ایسے میں اس سے اٹکھیلیوں کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔اگر آپ اک لمحے کو غور کریں تو صبا کا رویہ عین فطری ہے دنیا کا ہر فرد اسی کا کلمہ پڑھتاہے جو کسب کمال کن کہ عزیز جہاں شوی کے فلسفے پر عمل کرتاہے قسمت کے رونے والے کسی بدقسمت کو تو صبا بھی لفٹ نہیں کراتی۔
نوٹ۔تحریر میں صباایک فرضی نام استعمال کیاگیاہے اس کاحقیقت سے کوئی تعلق واسطہ نہیں ہے۔