پختونخوا کے وزیر صحت کے نام

یہ بات ہر پڑھے لکھے شخص کو معلوم ہے کہ تحریک انصاف کے منشور میں تعلیم اور صحت پر بہت زور دیا گیا ہے ‘ اور اس بات میں بھی کوئی شک نہیں کہ دونوں شعبوں میں اچھی تبدیلیاں لائی گئی ہیں اور کچھ ابھی لانا باقی ہیں جس کے لئے حکومت سرتوڑ کوششوں میں لگی ہوئی ہے اگرچہ گزشتہ تین برسوں میں گزشتہ دو عشروں کی حکومتوں کے لادے ہوئے بوجھ ‘ اور پھر کرونا نے ترقی کی رفتار کو ضرور متاثر کیا ‘ لیکن وزیر اعظم کے ویژن نے کرونا کے باجود پاکستان کی معیشت کے پہیے کو گردش میں رکھ کر کافی کام کیا اور اب معاشی اشاریے مثبت جانب گامزن ہیں۔
صحت اور علاج معالجے کے حوالے سے پختونخوا میں بہت برا حال ہے ۔ غربت ‘ جہالت اور حفظات صحت کے اصولوں سے ناواقفیت اور فقدان کے سبب ہسپتالوں پر بے پناہ بوجھ ہے ۔ پختونخوا بھر سے لوگ علاج معالجہ کے لئے پشاور کا رخ کرتے ہیں اگرچہ اب مردان ‘ چارسدہ ‘ ایبٹ آباد ‘ کوہاٹ اور بعض دیگر بڑے شہروں میں اچھے ہسپتال موجود ہیں ‘ لیکن جہاں تک ماہر ڈاکٹرز اور سرجنز کی بات ہے ‘ظاہر ہے کہ لیڈی ریڈنگ ‘ خیبر ٹیچنگ اور ایچ ایم سی کا کہیں اور ثانی نہیں ۔اس کے علاوہ پشاور میں پرائیویٹ سیکٹر میں بڑے بڑے ہسپتال وجود میں آچکے ہیں اور بہت نام کما چکے ہیں دولت مند لوگ وہاں کی صفائی ستھرائی اور ماہر ڈاکٹرز کی موجودگی کے سبب اس کو ترجیح دیتے ہیں لیکن غریب لوگ وہاں جانے کا کسی زمانے میں سوچ بھی نہیں سکتے تھے ۔ یہی حال ڈبگری پشاور میں میڈیکل سنٹروں کا ہے کہ وہاں غریب آدمی اپنے بال بچوں کا پیٹ کاٹ کر ہی اپنے کسی مریض کا علاج کرواتے تھے ۔ وہاں شاید ہی کسی ڈاکٹر کی فیس بارہ سو روپے سے کم ہو گی۔
اس حکومت کا پختونخوا کے عوام کے لئے سب سے بڑا تحفہ ”صحت کارڈ ” ہے اس کارڈ کے ذریعے اب عام مریض بھی سرکاری ‘ ایم ٹی آئی اور پرائیویٹ ہسپتالوں میں اپنا علاج کرواتے ہیں اور یہ غریب عوام کے لئے بہت بڑی سہولت ہے ‘ اس بے مثال سہولت پر غریب عوام کے دلوں سے تحریک انصاف اور بالخصوص عمران خان کے لئے دعائیں نکلتی ہیں لیکن آج ان سطور کے ذریعے صحت کارڈ کے حوالے سے چند معروضات پختونخوا کے وزیر صحت کے نام رقم کرنے کی جسارت کر رہا ہوں ‘ شاید اس حوالے سے وہ ضروری اقدامات کرکے غریب عوام کے اس مشکل کو حل کرکے اس سہولت کو عوام کے لئے اور بھی آسان بنا دے ۔ پرائیویٹ ہسپتالوں میں کچھ لوگ(ڈاکٹرز) ایسے ہیں جو اس صحت کارڈ کے نظام سے ناخوش دکھائی دیتے ہیں اور شعوری یاغیر شعوری طور پر اس نظام کی کامیابی میں رکاوٹ کا باعث بن رہے ہیں۔ پچھلے دنوں حیات آباد میں واقع پشاور کے معروف ہسپتال میں اس تجربے سے گزرنا پڑا۔ میرے بھائی کو گال بلیڈر میں پتھری کے سبب شدید تکلیف تھی اور مقامی ڈاکٹروں نے جلد از جلد آپریشن کی ہدایات جاری کر دیں۔ میں نے مذکورہ ہسپتال کے کال سنٹر سے رابطہ کیا اور اس سلسلے میں ان سے معلومات حاصل کیں۔ وہاں پر موجود خاتون سے میں نے صحت کارڈ وغیرہ کے حوالے سے بھی معلومات لیں انہوں نے کہا کہ منگل (مورخہ 31.8.2021) کو ڈاکٹر جمیل احمد کے ساتھ آپ کی اپائٹمنٹ کنفرم ہو گئی ہے ۔ مقررہ وقت پر وہاں پہنچا تو بتایا گیا کہ کائونٹر پرمبلغ اٹھارہ سو روپے فیس جمع کروائیں ۔ اس کے بعد جب ڈاکٹر جمیل کے پاس پہنچے تو انہوں نے مریض کے پیٹ پر دو انگلیاں رکھ کر کہا کہ آپریشن کی ضرورت ہے کیونکہ ہمارے پاس پہلے ہی سے الٹراسائونڈ کی رپورٹ موجود تھی۔ اس کے بعد ڈاکٹر صاحب نے ہمیں بریف کرنا شروع کیا کہ”دراصل یہ حکومت بھی عجیب کام کرتی ہے ‘ صحت کارڈ کا نظام جاری کروا کر اس کے ذریعے پرائیویٹ ہسپتالوں کا معیار بھی پست کروا رہی ہے کیونکہ اس آپریشن(گال بلیڈر) کے ہم ایک لاکھ دس ہزار روپے لیتے ہیں جس میں سے تیس ہزار صحت کارڈ کے ذریعے حکومت دیتی ہے اور باقی ہسپتال کو برداشت کرنا پڑتا ہے ۔ اب ظاہر ہے کہ یہ سلسلہ ایسے کیسے چلے گا۔ انہوں نے فرمایا کہ بجائے اس کے کہ صحت کارڈ کے لئے مختص بجٹ کو سرکاری ہسپتالوں کی ترقی پر لگا کر ان کو آر ایم آئی کی سطح پر لے آئے ‘ یہ آر ایم آئی اور دیگر اچھے پرائیویٹ ہسپتالوں کو اپنے سرکاری ہسپتالوں کی سطح پر لانا چاہتے ہیں اور یہ نظام صحت اور ہسپتالوں کے لئے بربادی لانے کا نظام ہے اور اسی بناء پر آپ کے بھائی کا آپریشن 25اکتوبر کو ممکن ہو سکے گا ‘ کیونکہ ہمارے پاس صحت کارڈ میں اس سے پہلے کوئی گنجائش نہیں۔ میں نے عرض کیا کہ 25اکتوبر تک یہ مریض اسی طرح تڑپتا رہے گا؟اس پر جب میں نے کہا کہ پھر میری فیس1800 روپے تو واپس کر دیں اس نے کہا کہ وہ معائنہ فیس تھی معائنہ ہوگیا ساتھ ہی فرمایا کہ یہ حکومت یکساں نصاب تعلیم کے ذریعے پرائیویٹ ہسپتالوں کی طرح اے لیول اور بیکن ہائوس نظام تعلیم کو بھی اپنے پھٹیچر سرکاری سکولوں کی سطح پر لانا چاہتی ہے۔یہ سطور اس لئے لکھ دی ہیں کہ حکومت کے اس اچھے منصوبے کے خلاف جوسوچ کارفرما ہے اس کا بروقت تدارک کیا جائے اور پرائیوٹ ہسپتالوں میں ڈاکٹروں کی بھاری فیس کا بھی کوئی علاج کیا جائے۔اس امر کو بطور خاص یقینی بنانے کی ضرورت ہے کہ صحت کارڈ پر مریضوں کا بروقت علاج یقینی بنایا جائے اور ان کو صحت کارڈ کی سہولت موجود ہونے کے باوجود نجی ہسپتالوں سے مہنگے داموں علاج پرمجبورنہ ہونا پڑے ۔ اس حوالے سے جتنا جلد لائحہ عمل وضع ہو اتنا بہتر ہوگا۔