جنگ و جدل مگر کب تک؟

کسی جواز کے بغیر غیر متعلقہ تنازعات میں الجھنے اور جنگیں چھیڑنے سے ایک طرف تو امریکا کی طاقت میں غیر معمولی حد تک کمی واقع ہوئی ہے اور دوسری طرف اس کی ساکھ بھی بری طرح متاثر ہوئی ہے۔ آج کی دنیا کا ایک بڑا المیہ یہ ہے کہ علوم و فنون میں فقید المثال نوعیت کی پیش رفت یقینی بنا لینے کے بعد بھی انصاف اور امن کے لیے بھرپور کوششیں کرنے کے بجائے ساری توانائی جنگوں کی بھٹی میں جھونکی جا رہی ہے۔ میں کم و بیش نصف صدی قبل امریکا آیا تھا۔ پھر مجھے یہاں کی شہریت بھی مل گئی۔ میں اس یقین کے ساتھ امریکا آیا تھا کہ یہی وہ ملک ہے جو دنیا کو درکار امن اور انصاف یقینی بنانے کے لیے غیر معمولی سطح پر کوششیں کر سکتا ہے اور کرے گا۔ اس کے بجائے میں نے امریکا کو ایک ایسا ملک پایا ہے جو غیر ضروری جنگوں کی بھٹی میں اپنے آپ کو جھونک کر خود کو شدید کمزوری سے دوچار کرچکا ہے۔ ان جنگوں کے نتیجے میں امریکا کی طاقت میں خاصی کمی آئی ہے اور پوری دنیا میں اس کی ساکھ بھی خطرناک حد تک کمزور ہوئی ہے۔ آج شاید ہی کوئی خطہ ایسا ہو جو امریکا کو ایک آدرش ملک کے طور پر دیکھتا ہو۔ امریکا کی ترقی اور ساری چکاچوند صرف مادّی معاملات تک ہے۔ اخلاقی اور مثالی سطح پر امریکا کی وہ پوزیشن نہیں جو ہونی چاہیے تھی۔ یہ سب کچھ میرے لیے انتہائی الم ناک رہا ہے کیونکہ کوئی اور ملک ایسا نہیں جو مجھے، میری بیوی اور بیری بیٹی کو پروفیشنل سطح پر آگے بڑھنے کے لیے حقیقی مواقع پر مبنی ماحول فراہم کر سکے۔
امریکا نے اب تک جو بھی عسکری مہم جوئی کی ہے اس کے نتیجے میں اس کی ساکھ مزید خراب ہوئی ہے کیونکہ متعلقہ ممالک یا خطوں کی آبادیوں کو کچھ بہتر ملنے کے بجائے ان کے لیے مسائل بڑھے ہیں، بڑے پیمانے پر خرابیاں ان کا مقدر بنی ہیں۔ امریکا نے جب بھی کہیں عسکری مہم جوئی کی ہے یا مداخلت کا مرتکب ہوا ہے تب یہی کہا گیا ہے کہ وہ معاملات کو بہتر بنانا چاہتا ہے، متعلقہ ممالک یا خطوں کو نئی زندگی دینا چاہتا ہے، جمہوری اقدار کو پروان چڑھانے کا خواہش مند ہے اور یہ کہ اس کی مداخلت سے شر پسند قوتیں کمزور پڑیں گی اور خیر کی قوتوں کو بڑھاوا ملے گا مگر جو کچھ ہوتا آیا ہے وہ اس کے برعکس ہے۔ یہ بات صرف افغانستان کے معاملے میں درست نہیں بلکہ عراق، لیبیا، شام اور یمن کے معاملے میں بھی بالکل درست ہے۔ امریکا کے معاملے میں یہ بات بلا خوفِ تردید کہی جاسکتی ہے کہ کسی بھی ملک میں غیر ضروری طور پر کی جانے والی مداخلت سے صرف نفرت پنپتی ہے۔
امریکی پالیسی سازوں کا ایک بڑا یا بنیادی مسئلہ یہ ہے کہ وہ جب بھی کچھ سوچتے ہیں تو ذہن میں وہ صنعتی ڈھانچا ہوتا ہے جس کی بنیاد جنگوں کے جاری رکھنے پر ہے۔ جنگیں چھیڑی جاتی ہیں تو امریکا میں وہ صنعتی ڈھانچا ترقی کرتا ہے جو ہتھیار، گولا بارود، لڑاکا طیارے ہیلی کاپٹرز، ڈرونز اور دوسرا جنگی ساز و سامان تیار کرتا ہے۔ امریکا کے بانی صدر جارج واشنگٹن نے بیرون ملک عسکری مہم جوئی اور کسی بھی مقام پر غیر ضروری مداخلت سے خبردار کیا تھا۔ صدر آئزن ہاور نے جمہوریت کو ایسے صنعتی ڈھانچے کی موجودگی لاحق خطرات سے خبردار کیا تھا جس کی بنیادی جنگوں پر رکھی گئی ہو۔ امریکا میں اس وقت صنعتی ڈھانچے کا ایک بڑا حصہ جنگوں کی بنیاد پر قائم ہے۔ جنگیں ہوتی رہیں گی، خانہ جنگیاں جاری رہیں گی تو امریکا میں صنعتیں بھی چلتی رہیں گی۔ عسکری مہم جوئی ختم ہوگی تو بہت سی صنعتوں کی بساط لپٹ جائے گی۔جنگی ساز و سامان تیار کرنے والی صنعتوں سے بھی لوگ ہی وابستہ ہیں۔ ان لوگوں کے بچے بھی اور ان کے بچے بھی۔ جنگی ساز و سامان تیار کرنے والی صنعتوں کے وابستہ افراد کو اپنی نئی نسلوں کے لیے ایک بہتر دنیا چھوڑ کر جانا ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ یہ لوگ کون سی دنیا ترکے میں چھوڑ رہے ہیں۔ شیطانی چہرے والی دنیا تو کسی بھی حالت میں ایسی دنیا نہیں جس کا خواب دیکھا جاتا رہا ہے۔ کیا نئی نسلوں کو ایسی دنیا ترکے میں دی جائے گی؟
میں کم و بیش پچاس ممالک میں صحت عامہ سے متعلق مشنز سے وابستہ رہا ہوں۔ میں نے غربت اور بیماریوں کا بدنما چہرہ دیکھا ہے۔ میں نے جنگ و جدل کے انتہائی خطرناک، بلکہ ہلاکت خیز اثرات کا خود مشاہدہ کیا ہے۔ میں نے السلوا ڈور، نکارا گوا، موزمبیق اور انگولا میں جنگوں اور خانہ جنگیوںکے نتیجے میں لاکھوں، بلکہ کروڑوں افراد کو در بہ در ہوتے دیکھا ہے۔ یہ سب کچھ ایسا نہیں کہ آسانی سے بھلادیا جائے۔ محض آنکھیں بند کرلینے سے معاملات درست نہیں ہو جاتے۔ محض خوش گمانی پالنے سے کسی تباہ حال ملک کا بھلا نہیں ہو جاتا۔ ایک بنیادی سوال یہ ہے کہ کیا یہ انسانی المیے واقعی ناگزیر ہیں۔ کیا یہ ممکن نہیں کہ جنگیں برآمد کرنے کے بجائے ہم ٹیکنالوجیز برآمد کریں، اساتذہ، فنکاروں، معالجین اور محققین کے ساتھ مل کر ہم ایک بہتر دنیا کا وجود یقینی بنانے کے لیے کام کریں؟
جنگوں سے بچایا ہوا پیسہ دنیا بھر میں لوگوں کی حالت بہتر بنانے کے لیے مختص کیا جانا چاہیے۔ ترقی پذیر ممالک میں غربت سے لڑنے کے لیے ایسا کرنا لازم ہے۔ غربت کی کوکھ سے صحت و تعلیمِ عامہ کے مسائل جن لیتے ہیں، معاشرتی عوارض بھی غربت ہی کی پیداوار ہوتے ہیں۔ جو پیسہ جنگ کی بھٹی میں جھونکے جانے سے رہ جائے وہ ترقی پذیر اور پس ماندہ ممالک کے لوگوں کو سستی زرعی مشینری فراہم کرنے کے لیے بروئے کار لایا جاسکتا ہے۔ اسی طور پر تجارت کے لیے موافق ماحول پیدا کرنے پر بھی توجہ دی جاسکتی ہے۔دنیا بھر میں فنکاروں، کھلاڑیوں، معالجین، اساتذہ اور محققین کے تبادلوںکے ذریعے بھی دوستی، تعاون اور اشتراکِ عمل کا ماحول پروان چڑھایا جاسکتا ہے۔ اس وقت عوامی سطح پر رابطے بڑھانے کی اشد ضرورت ہے۔