Idhariya

مستحکم افغانستان۔۔۔ عالمی ذمہ داری

افغانستان میں جاری حالات کے پیش نظر ہمسایہ ممالک بالخصوص اور عالمی برادری بالعموم اپنی ذمہ داریوں کا ادراک نہ کیا تو افغانستان میں انسانی المیہ رونما ہونے کا خدشہ ہے ۔ امریکا اور عالمی فوج کی بیس سال تک افغانستان میں رہ کر یکایک چلے جانے سے حکومت سے لیکر عوامی سطح پر جو خلاء پیدا ہوا ہے نظام حیات کے متاثرہ ہونے سے جو مسائل کھڑے ہو رہے ہیں جس طرح افغانستان پر پوری قوت کے ساتھ چڑھائی کی گئی تھی ضرورت اس امر کی ہے کہ اس کے استحکام و تعمیر میں بھی اسی طرح کی سنجیدگی اور دلچسپی کا مظاہرہ کیا جائے ۔اس ضمن میں پڑوسی اور علاقائی ممالک کا کردار خاص طور پر اہم ہے ۔ افغانستان میں مستحکم حکومت کے قیام کے بعد بھی ملک کو عالمی امداد اور معاشی تعاون کی ضرورت پڑے گی جس سے علاقائی ممالک بے خبر نہیں ۔ پاکستان اور ہمسایہ ممالک کے ایک اہم اجلاس میں پاکستان نے اس بات پرزور دیا ہے کہ ایک خوشحال اور پرامن افغانستان خطے کے لئے ضروری ہے ‘ افغانستان میں استحکام سے اقتصادی تعاون ‘ عوامی سطح پر مضبوط روابط اور تجارت و علاقائی روابط کے فروغ میں مددگار ثابت ہو گا’ افغانستان کے ہمسایہ ممالک کے خصوصی نمائندگان کے ایک آن لائن اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے افغانستان کے لئے پاکستان کے خصوصی نمائندے محمد صادق نے ایک مستحکم افغانستان کے لئے مشترکہ چیلنجز سے نمٹنے کے لئے بدلتی ہوئی علاقائی حکمت عملی پر عمل کرنے کی اہمیت پر زور دیا ہے تاکہ پیدا ہونے والے مواقع سے بھر پور استفادہ کیا جا سکے ‘ چین ‘ ایران ‘تاجکستان ‘ ترکمانستان اور ازبکستان سے افغانستان کے لئے خصوصی نمائندوں نے اجلاس میں شرکت کے دوران افغانستان کی موجودہ صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔ شرکاء نے قریبی رابطے میں رہنے پر بھی اتفاق کیا ‘ ہمسایہ ممالک کے نمائندے اس بات پر متفق تھے کہ افغانستان میں امن پورے خطے کی ترقی اور خوشحالی کے لئے ناگزیر ہے ‘ ادھر وزیراعظم عمران خان نے سعودی شہزادہ محمد بن سلمان ‘ اماراتی ولی عہد شیخ محمد بن زید اور امیر قطر سے فون پر رابطہ کرکے جہاں باہمی دلچسپی کے دیگر معاملات پر تفصیلی گفتگوکی وہاں ان سے اور عالمی برادری سے افغانستان کی موجودہ صورتحال میں ہر ممکنہ امداد کی اپیل کی ‘ انہوں نے کہا کہ پرامن اور مستحکم افغانستان پاکستان سمیت خطے کے مفاد میں ہے صرف جامع سیاسی تصفیہ کے ذریعے ہی افغانستان کے لوگوں کو تحفظ اور امن فراہم کیاجا سکتا ہے ‘ وزیر اعظم نے کہا کہ عالمی برادری کو افغانستان کی معاشی مدد اور تعمیر نو میں کردار ادا کرنا چاہئے ‘ افغانستان کو معاشی طور پر مضبوط کرنے کی ضرورت ہے ‘ جہاں تک موجودہ صورتحال کا تعلق ہے افغانستان میں اگرچہ عمومی طور پرحالات پرسکون دکھائی دے رہے ہیں ماسوائے وادی پنج شیر کے ‘ جہاں تادم تحریر طالبان انتظامیہ اور پنج شیر کے مقامی مزاحمتی گروہ جو احمد مسعود اور امراللہ صالح کی قیادت میں اپنے موقف پر ڈٹے ہوئے ہیں کے مابین جھڑپوں کی اطلاعات آرہی ہیں اور دونوں جانب سے متضاد دعوے کئے جارہے ہیں ‘ اور اسی وجہ سے عالمی سطح پر بھی تشویش کا ابھرنا ضروری ہے ‘ تاہم دوسری جانب صورتحال یہ ہے کہ امریکی افواج نے افغانستان سے نکلتے ہوئے جو مسائل کھڑے کر دیئے ہیں ‘ خصوصاً کابل ایئر پورٹ کو جس طرح ناکارہ بنا کر رکھ دیا ہے اس سے نقصان کا اندازہ 350ملین ڈالر کا بتایا جارہا ہے ‘ جبکہ عالمی سطح پر افغانستان کے مالی ذخائر پر پابندی لگا کر طالبان کے لئے مشکلات پیدا کی جارہی ہیں ‘ یوں طالبان انتظامیہ کو بے دست و پا کرنے کا جورجحان ابھر رہا ہے اس سے افغانستان میں امن کا خواب شرمندہ تعبیر ہونا تو ایک طرف الٹا مسائل کھڑے ہو جائیں گے ‘ امریکی اور دیگر مغربی ممالک کی جانب سے افغانستان کے بیرون ملک اکائونٹس پرپابندیاں لگانے کا کوئی جواز نہیں ہے ‘ خصوصاً جب ا یک امریکی جنرل مارک ملی نے بھی متنبہ کر دیا ہے کہ اگر”طالبان ناکام ہوئے تو افغاستان میں تباہی آئے گی”۔ گویا ایک اور خانہ جنگی کی جانب اشارہ کیا جارہا ہے ‘ دراصل مغربی دنیا امریکی قیادت میں شرمناک شکست سے دو چار ہونے کے بعد اپنی خفت مٹانے کے لئے اب طالبان کو اپنی مرضی کی حکومت کے قیام پر مجبور کر رہا ہے ‘ جو ظاہر ہے ممکن نہیں ‘ حالانکہ اب طالبان نے سابقہ سخت گیر رویئے کو ترک کرتے ہوئے دنیا کے لئے بڑی حد تک قابل قبول طرز حکومت بنانے کا عندیہ دیا ہے ‘ خصوصاً خواتین کے حوالے سے طالبان کا رویہ بہت بدلا ہوا ہے مگر اہل مغرب طالبان کو اپنے ڈھب پر لانے کے لئے مختلف ہتھکنڈے استعمال کرکے گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کرنا چاہتے ہیں ‘ حالانکہ افغانستان میں امن پورے خطے کے امن کی ضمانت ہے ‘ اس لئے افغانستان کے ہمسایہ ممالک اور اسلامی بلاک پر زیادہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ صورتحال کو بہتر بنانے کے لئے طالبان کے ساتھ ہر قسم کا تعاون کرکے انہیں مشکل سے نکالیں ۔ اس سلسلے میں وزیراعظم عمران خان کے خلیجی اور عرب ممالک کے ساتھ روابط استوار کرنے کا یقیناً مثبت نتیجہ نکلے گا جبکہ ہمسایہ ملکوں کی مساعی بھی امید ہے کہ رنگ لائے گی۔