Mashriqiyat

مشرقیات

بچپن سے نصیحت سنتے آئے ہیںوقت ضائع نہ کرواور بچپن ہی سے دیکھتے آئے ہیں کہ یہاں نصیحت پر کان کس نے دھراہے؟کان نہ دھرنے کی وجہ خود نصیحت کرنے والے ہی فراہم کرتے ہیں۔دنیا کا سب سے آسان کام یعنی نصیحت کرتے ہوئے حضرت ناصح جو لمبی لمبی چھوڑتے ہیںان میں سے کسی ایک بات کا بھی ان کی زندگی میں عمل دخل نہیں ہوتا۔ایک ایسے ہی ناصح جب وقت کی ناقدری پر نوجوان نسل کو لیکچر دینے سے فارغ ہوکر گھر پہنچے تو نصف بہتر آگ بگولہ بنی بیٹھی تھیں،تب انہیں یا د آیا کہ وہ سودا سلف لانابھول کر گلی محلے میں نصیحتوںکا پٹارا کھولے صبح سے دوپہر کر بیٹھے تھے۔
اپنے قائداعظم پاکستان بنا کر ساتھ میں نوجوانوں کو نصیحت بھی کر گئے تھے کام ،کام اور بس کام۔انہیں معلوم ہی نہیںتھا کہ پاکستان بنانے کے بعد ان نوجوانوں کے لئے کوئی کام رہا ہی نہیں۔ بنانے کاعمل پورا ہو جائے تو ہم بگاڑ کی راہ پر چل نکلتے ہیں،اس کا ایک ثبوت تو یہ ہے کہ علامہ مرحوم ومغفور نے پاکستان کا خواب دیکھا اس کی تعبیر قائداعظم کے ہاتھوںہوئی اور پھر نہ کسی نے کوئی خواب دیکھا نہ کوئی قائدثانی بننے پر تیا رہوا۔الٹا ہم نے خواب اور اس کی تعبیر کا حشر نشر کرکے رکھ دیاہے۔اب تو پاکستان کے نوجوان مینار پاکستان کے سائے تلے نئی ہی تاریخ مرتب کرنے چل پڑے ہیں،بدنام جو ہوں گے تو کیانام نہ ہوگا کے فلسفے پر عمل کرنے والوں کے پاس وقت ہی نہیںعقل وخرد بھی فالتوہی فالتو ہے۔یہیں معلوم ہوا کہ حضرت ناصح بھی ناکام بلکہ بری طرح پٹ گئے ہیں ،وقت بے وقت کی نصیحتوں کی بجائے اب کوئی اور نسخہ کیمیا تلاش کرنا ہے اس قوم کو سمجھانے بجھانے کے لئے۔
یہ جو قانون ہوتا ہے اور ساتھ میں مولا بخش ،یہی واحد علاج رہ گیاہے کوئی کرے تو بسم اللہ، بصورت دیگر ہم نے ایک کان سے سن کر دوسرے سے ہر قسم کی نصیحت اڑادینی ہے۔زندگی کے ماہ وسال بلکہ خود زندگی کو ہی ہم نے کھلونا بنا کر رکھ دیا ہے۔اپنی ہی نہیں دوسروں کی زندگی سے بھی ہم کھیلتے ہیں اور اس کھیل میں وقت گزرنے کا احساس ہی کسی کو نہیں ہوتا ،نوجوانی سے جوانی پھر ادھیڑ عمری او ر آخر کار بڑھاپے تک کے سفر میں جب قبر میں پائوں لٹکائے اپنی زندگی کے گزرے ماہ وسال پر نظر ڈالتے ہیں تو ناکامیوں کی ایک طویل فہرست کھڑی نظر آتی ہے او ر ایسے ہی وقت ہم سوچنے لگتے ہیں انجام گلستاں کیاہوگا؟عمر بھر کی پشیمانی کا حل پھر نصیحتوں میں ہمیں نظر آتاہے۔آخری عمر میں ثواب کی یہ نیت باندھ لینے میں ہمیں اعتراض نہیں تاہم حضرت ناصح سے یہ کہنا ہے کہ اب ڈنڈا اٹھا کر ہی اس قوم کو سیدھا کیا جاسکتاہے ،لاتوں کے بھوتوں کو باتوں سے منوانے میں وقت بہت ضائع ہوچکا۔