آپ کا مشکور ہو ں

یہ بھی ایک طرفہ تما شاہے کہ پڑھا لکھا طبقہ بھی اغلا ط سے پر زبان دانی کر تا ہے اورکوئی بھی احسا س پید ا نہیں ہو تا ، لفظ مشکو ر کی جو ریڑھ لگائی گئی ہے اب اس لفظ کو استعمال کرتے ہوئے بھی شرمندگی ہوتی ہے ۔ عربی کے فعل شکر کا فاعل شاکر ہے جس کا مطلب شکریہ ادا کرنے والا اسی طرح اس کا مفعول مشکور ہے، یعنی جس کا شکریہ ادا کیا جائے وہ مشکور ہو تا ہے ، آپ نے دیکھاہو گا کہ خاص طور پر بڑے بڑے علا مہ بھی جب کبھی کسی ٹی وی پروگرام میں براجما ن ہو تے ہیںتو اپنی گفتگو کا آغاز بے چارے اس مظلوم لفظ سے کرتے ہیں کہ ”سب سے پہلے میں آپ کا مشکور ہو ں ” بھلا ان سے کوئی استفسار کرے کہ اعلیٰ حضرت آپ کا کس نے شکر یہ ادا کیا ہے کہ آپ بے حد مشکو ر ہو گئے ۔ بس یہا ں پر ہی نہیں ہے جنا ب لو گ عموما ًلکھتے اور بولتے ہیں کہ اہلیا ن پشاور ، اہلیا ن راولپنڈی وغیر ہ وغیر ہ اب ان سے پوچھ لیجئے گا کہ لفظ اہلیان دنیا کی کونسی زبان کا لفظ ہے ، فرما تے ہیں کہ یہ عربی زبان کے لفظ اہل کی جمع ہے ذرار اس علا مہ کا نا م ہی بتادیں جس نے اس لفظ سے عربی زبان کو عزت بخش دی ہے ، یہ تکا اس طرح مارا ہے کہ اہل لفظ کی خود سے جمع بنادیا گیا ہے۔
اہل عربی زبان میں کسی شے یا ہستی کو کسی سے نسبت دینا کے ہو تے ہیں اہل شر کا مطلب ہے شر والے اہل علم کا مطلب ہوا علم والے اہل شرع کا مطلب ہے شرع پر چلنے والے ، اہل محلہ ، محلے والے ، اہل شہر ، شہر والے یا ایک ہی شہر کے واسی،اس کو جمع لفظ جان لیا جا ئے تو یہ لفظ اہلیہ کا جمع بن سکتا ہے اگرچہ یہ بھی غلط ہی تاہم آپ سوچیں جب کسی پوسٹر پر لکھا ہو از طرف اہلیان پشاور تو اس کے کیا معنی لیے جا سکتے ہیں ۔اسی طرح کثرت سے استعمال ہو نے والا ایک لفظ ہے ان شاء اللہ جس کا ترجمہ عموماً ًیوں کیا جا تا ہے کہ جیسا کہ اللہ نے چاہا جو درست ہی قرار پاتا ہے مگر بڑے بڑے علمی جغادری اس جملے کو انشاء اللہ لکھتے ہیں جو دراصل عربی کے باب اکر ام مصدر سے ہے جس کے معنی نعوذباللہ ہو تے ہیں تونے اللہ تخلیق کیا یا تواللہ تخلیق کر ، اب سوچئے کتنا بڑا گنا ہ نا دانی میں سرزد ہو جاتا ہے ۔ اس تحریر کا مقصد کسی کی دل آزاری نہیں بلکہ رہنمائی ہے ، راقم بھی کوئی علا مہ کا مل نہیں ہے غلطیاں کرتا رہتا ہے ، تاہم درستی کا متلا شی رہتا ہے ، چلیں آگے بڑھتے ہیں ان دنو ں ٹی وی والے اور دانشور حضرت بلکہ خود مسمیٰ بھی اپنے نام کے ساتھ زیادتی کر رہے ہیں معروف بلکہ اب تو انتہا ئی مقبول ٹی وی اینکرپر سن کے نا م کے ساتھ کھیلا جا رہا ہے ۔
یہ اینکر پر سن بھی اگر تصوف اورمعرفت کی منا زل طے کیے ہو تیں تو آج پاکستان کی خاتون اول قرار پاتیں ، یہ اس کی عطاء ہے اس میں کسی کو کیا دخل ، سبھی کون کو ریحا م خان ہی لکھتے ہیں ، ان کی طرف سے بھی اس پر کوئی اعتراض آج تک نہیں آیا اس لیے گما ن رہا کہ شاہد ان کا نا م ہی یہ ہو لیکن عربی اردو ، فارسی اور جنوبی ایشیا کی کسی بھی ز بان وقواعد میں یہ لفظ نایاب ہے چنا نچہ اصل لفظ ریحام نہیں بلکہ رہیام یا رھیام ہے یہ پر اکرت زبان کا لفظ ہے رہیام یا رھیام کے معنی ہیں ایسا جھر نا جس سے فضاء میں راحت وسکو ن پیدا ہو جائے ، ان دنو ں میں عجب تما شا لگا ہو ا ہے طالبان کے سربراہ کو اخبارت اور ٹی وی اپنے بی پر میں ہیبت اللہ لکھ رہے ہیں طالبان کی جا نب سے بھی اس بارے میں کوئی توجہ نہیںدی جا رہی ہے۔طالبان کی ہیبت کا اندازہ اس امرسے لگایا جاسکتا ہے کہ امریکی صدر جو بائیڈن جو اپنی قوم کی دلجوئی کے لیے ٹی وی وغیر ہ پر نمو دار ہو ئے تھے وہ طالبان کے ذریعے ہزیمت کا ذکر کرتے وقت پھوٹ پڑے نہ تھے بلکہ پھو ٹ پھو ٹ کر رونے لگے تھے اور سر بھی خم کر لیا تھا ، امریکا نے افغانستان سے قبل بھی کئی ممالک سے اپنی فوجیں نکا لی ہیں تاہم ایسے مناظر اور امریکی قیادت کی آنکھو ں کو ایسا اشک بار نہیں دیکھا گیا ۔ طالبان کی ہیبت کا یہ عالم تھا کہ جب امریکی فوج نے قلعہ جنگی پر حملہ کیا اس وقت لڑائی میں جو سب سے پہلا امریکی مر ا گیا وہ بھی ایک امریکی طالبان تھا اس کا نا م جا ن واکر تھا بعدا زاں اسے گرفتار کرلیا گیا تھا اس سے استفسار کیا گیا کہ اس نے گولی کیو ں چلائی تو اس کا جو اب تھا کہ وہ طالبان ہے اور اس نے ٹھیک گولی چلا ئی ، بہر حال جان واکر کو گرفتا رکرکے پہلے گوانتانا مو بے لے جا یا گیا وہاں اس سے تفتیش کے بعد امریکا پہنچا دیا گیا جہاں اس کے خلا ف مقد مہ چلا اور اس کو غالباًدس سال کی قید کی سزا دی گئی ، اس طرح امریکی فوجی کو ما رنے والا بھی پہلا امریکی تھا اور کابل ائیرپورٹ سے رخصت ہو نے والا شخص بھی امریکی ہی تھا ۔
صدر جو بائیڈن نے اپنی تقریر میں قوم کی دل گیری کے لیے بتایا کہ امریکا جس مقصد کے تحت افغانستان میںداخل ہو ا تھا وہ مقصد امریکا نے مئی 2012میں حاصل کرلیا تھا اور امریکا اپنے مقصد میں کامیا ب ہو گیا تھا ان کا اشارہ اسامہ بن لا دن کو پا لینے کی طرف تھا ، امریکی صدر نے اس کا میا بی کا ذکر تو فخریہ کیا مگر یہ نہیں بتایا باقی ماہ و سال امریکا افغانستان میں کس غرض سے ٹھہر ا رہا کیا اس طرح افغانستان سے انخلا ء چاہیے تھا ۔ویسے برطانو ی کما نڈر بریگیڈیر مارک کارلیٹن اسمتھ نے میڈیا کو 2008 میںبتادیا تھا کہ غیر ملکی فوجیں طالبان سے جنگ نہیں جیت سکتیں ۔