Pak-Afghan trade rises after Taliban comes to power

طالبان کےاقتدار میں آنےکےبعد پاک افغان تجارت میں اضافہ

ویب ڈیسک :افغانستان میں طالبان حکومت آنے کے بعد پاک افغان تجارت میں تیزی آگئی۔

طورخم سرحد پر کنٹینروں کے گزرنے کی تعداد 500سے تجاوز کرگئی ہے تاہم تاجروں کو افغانستان کو برآمدات میں کمی کا سامنا کرنا پڑرہا ہے ۔

مشرق ٹی وی کےپروگرام سنٹرپوائنٹ میں گفتگوکرتےہوئےفرنٹیئرکسٹمزایجنٹس ایسوسی ایشن کے صدرضیا الحق سرحدی نےبتایا کہ ماضی میں افغان حکومت کی جانب سےکنٹینرزکلیئرکرنےپر50ہزارسےایک لاکھ روپےتک بھتہ وصول کیاجاتا تھا۔

اسی طرح علم خبراورخاک پلی میں بھاری ٹیکس عائدکردیئےگئےتھےجس کی وجہ سےکاروبارشدیدحد تک متاثرہواتھاتاہم جب سے طالبان اقتدارمیں آئےہیں علم خبراورخاک پلی میں ٹیکس کافی حد تک کم کردیئےگئےہیں ۔

اسی طرح بھتہ کیلئے روکےگئےکنٹینرز کو طالبان نے بغیر رشوت لئے کلیئر کردیا اور یہ وہ کنٹینرز تھےجن کےرکنےسے تاجروں کو یومیہ 10ڈالر سے لیکر 160ڈالرز تک جرمانہ ادا کرنا پڑتا تھا تاہم انہوں نے واضح کیا کہ طالبان دور میں برآمدات میں کمی واقعہ ہوئی ہےاوراسکی بڑی وجہ افغانستان میں بینکنگ نظام کا معطل ہونا ہے۔